(گزشتہ سے پیوستہ)
دراصل ماجرایہ ہے کہ کشمیرمیں سیز فائر یعنی جنگ بندی کے اعلان کے بعدمودی نے پاکستان کادورہ کرناتھا۔جب اس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی کواس بات کاعلم ہواتو انہوں نے فوری طورپرعمران خان سے ملاقات کرکے ان کو آگاہ کیاکہ جنرل باجوہ اورآئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمیداس بارے میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیراجیت دوول سے بات چیت کر رہے ہیں توعمران خان نے بجائے جنرل قمرباجوہ کو انہوں نے جنرل فیض حمیدکووزارتِ خارجہ کو ’’آن بورڈ’’لینے کامشورہ دیا جس کے بعدباجوہ نے وزارت خارجہ میں ایک بریفنگ کااہتمام کیاجس میں انہوں نے کہاکہ ہماراجنگی سازوسامان بہت پرانا ہو چکاہے اورہم بھارت کے ساتھ جنگ نہیں لڑسکتے جبکہ ملکی صحافیوں کے مطابق جنرل باجوہ اس سے پہلے ایسی بریفنگ 25ملکی صحافیوں کودے چکے تھے کہ پاکستان کی جنگی صلاحیت بھارت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔مصدقہ ذرائع کے مطابق جنرل قمرجاوید باجوہ اورعمران خان کوکشمیرمیں مودی کے 5 اگست 2019 ء کے اقدامات کامبینہ طور پر پہلے سے علم تھااوروہ پارلیمان کواعتماد میں لیے بغیربھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہ رہے تھے۔
یوں توپاکستانی عوام جس قدرکشمیری بھائیوں سے اپنی یگانگت،محبت اورقربانی میں اپنی ایک مثال ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی مقتدر اشرافیہ نے کئی مواقع پرکشمیر کے ساتھ دھوکہ اور بے وفائی کاعملی ثبوت دیا بالخصوص اس بے وفائی کا دور تومشرف کے زمانے سے ہی شروع ہوگیا تھا جب کشمیرکی سودے بازی شروع ہوگئی اور کشمیر کے اصل وارث جناب سیدعلی گیلانی کو نظر انداز کرکے ان کے خلاف توہین آمیزپروپیگنڈہ شروع کرکے کشمیر کے ایک دوسرے گروپ کو آشیر باد دے کران سے پینگیں بڑھاناشروع کردی گئیں لیکن وقت نے بالآخراس تمام ساازشی ٹولے کو قصرمذلت میں دھکیل دیااورکشمیرکے ہیرو سید علی گیلانی اپنی قبرسے بھی آج بھی لوگوں کے دلوں پر راج کررہے ہیں۔لیکن یہ معاملہ ختم نہیں ہوا بلکہ اس کہانی کے دوایسے کرداربھی ہیں جنہوں نے اپنے پیشروؤں سے سبق حاصل کرنے کی بجائے اپنے اپنے اقتدارکوطویل اورمضبوط کرنے کیلئے ایک دوسرے کواستعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو بہت چالاک سمجھتے رہے اوربالآخرخودہی لڑ پڑے اوراس کے نتیجے میں آج ارضِ وطن مصائب اور مشکلات سے کراہ رہاہے اوریہ دوکردارعمران خان اورقمرباجوہ ہیں۔
باجوہ کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ اس نے اپنے آئینی حدوداورحلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے2017ء میں ملکی سیاست میں براہِ راست مداخلت شروع کردی تھی۔ایک طرف انہوں نے نوازشریف کے جانشین وزیراعظم خاقان عباسی کوقابوکرکے فاٹاکوخیبرپختونخوامیں ضم کرایادوسری طرف حکومت کے علم میں لائے بغیر بھارت کے ساتھ بیک ڈور چینل کھول لیا۔ شاہدخاقان عباسی کی کمزوری سے جنرل باجوہ کے حوصلے بلندہوگئے۔باجوہ اوران کے ساتھیوں نے یہ فیصلہ کرلیاکہ اب ملک میں ایساحکومتی سیٹ اپ لایا جائے جو ان کی مرضی کے تابع ہوتوان کی نظر اپنے ساتھیوں کے مشورے کے بعدعمران خان پر جاٹھہری کہ اس نئے چہرے کی آمدسے سابقہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کوبھی قابومیں لایا جاسکتا ہے۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ جنرل باجوہ نے 2018ء میں عمران کو کیسے وزیر اعظم بنوایا؟ 2018ء کے الیکشن میں دھاندلی اورمیڈیاکی زباں بندی کی ساری قوم عینی شاہد ہے۔
عمران خان کووزیراعظم بنانے کے بعد اب اگلے قدم کے طورپروہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اپنی مرضی کے وزرائے اعلیٰ لانا چاہتے تھے لیکن عمران نے باجوہ کو پنجاب اورخیبر پختونخوا کے معاملات سے دوررکھنے کیلئے انہیں بھارت کے ساتھ بیک چینل مذاکرات جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔اس بیک چینل کے تحت نومبر 2018 ء میں کرتارپور راہداری کاسنگِ بنیادرکھ دیا گیا اورریکارڈبرق رفتاری کے ساتھ اس کو مکمل کرکے پاکستان کاخواب دیکھنے والے علامہ اقبال کے یوم پیدائش9نومبر2019 ء کوعمران کے ہاتھوں کرتارپورراہداری کاافتتاح کر دیا گیا جس کا عمران حکومت نے بھرپورفائدہ اٹھایا اور پاکستانی اورکشمیری عوام کی پریشانیوں کوپسِ پشت ڈالتے ہوئے اس نئی سازش کاحصہ بنتے چلے گئے۔
فروری 2019ء میں مقبوضہ کشمیرکے علاقے پلوامہ میں ایک خودکش حملے کے بعدبھارت نے پاکستان کے علاقے بالاکوٹ پر فضائی حملہ کر دیا۔ پاکستان ایئر فورس نے بھارت کے فضائی حملے ناکام بناتے ہوئے جہاں بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتارکرلیاوہاں اگلے دودنوں میں اس کابھرپورجواب دیتے ہوئے بھارت کواس کی اوقات بھی یاددلا دی لیکن اچانک ڈرامائی طور پر امریکی صدرٹرمپ کی مداخلت پرعمران خان نے پارلیمنٹ میں بھارتی پائلٹ کورہاکرنے کے اعلان پر سب کوششدرکرکے رکھ دیا۔سوال یہ تھا کہ اگرپاکستانی پائلٹ ہندوستان کے قبضے میں ہوتا تو کیامودی سرکاربھی اس قدرعجلت میں یہ قدم اٹھاتی؟
اس دوران جون 2019ء میں آئی ایس آئی کے سربراہ سید عاصم منیرکواچانک تبدیل کر دیا گیاکیونکہ انہوں نے خاتون اوّل بشری بی بی کی زیرقیادت درجنوں کرپشن کی مصدقہ فائل عمران خان کو پیش کردی جس پرعمران خان نے بجائے اس کرپشن کی تحقیقات کرنے کے عاصم منیر کو فوری تبدیل کرنے کیلئے باجوہ کی مددمانگ لی جبکہ باجوہ اس وقت ایک غیرملکی دورے سے واپس اپنے جہاز میں تھے اورانہوں نے ملک پہنچتے ہی اس کا فوری نوٹس لینے کاوعدہ کیالیکن اس کے باوجود عمران خان اپنے اس کام کی تکمیل کیلئے ائیرپورٹ پہنچ گئے۔ جنرل عاصم منیرکی جگہ فیض حمید کو لایاگیاکیونکہ عاصم منیراپنے سپہ سالارباجوہ کے بیک ڈورچینل کیلئے بھی نامناسب تھے لیکن باجوہ نے یہ قدم اٹھاکرعمران کامزیداعتمادحاصل کرلیا۔
انہی دنوں ایک بریفنگ میں انکشاف ہوا کہ بھارت کے ساتھ کوئی بڑابریک تھروہونے والاہے جس پرمجھ سمیت کئی کالم نگاروں نے مودی کی جاری مکاریوں سے خبردارکرتے ہوئے کشمیر پر ’’سیاسی سرنڈر‘‘سے نہ صرف خبردار کیا بلکہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنربرائے انسانی حقوق کی طرف سے مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کیخلاف ایک تفصیلی رپورٹ کواقوام عالم کے بھرپورنوٹس میں لانے کابہترین موقع استعمال کرنے کامشورہ بھی دیالیکن مودی سرکار نے5 اگست2019ء کونہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کوپسِ پشت ڈال دیا بلکہ خودبھارتی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں مارشل لا نافذکرکے مقبوضہ کشمیرکوبھارت کاحصہ ڈکلیئر کردیا بلکہ ان دنوں یہ خبربھی بڑی گرم رہی کہ امریکانے کشمیر کے سودے میں باقاعدہ طورپرملک کی دوبڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی کو بھی اعتمادمیں لیا اوریہی وجہ ہے کہ ملک میں جماعت اسلامی کے سراج الحق کے سواسب سیاسی جماعتوں کے قائدین نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔کشمیرپراس فیصلے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے عمران کے ساتھ مل کرباجوہ کے عہدے میں تین سال کی توسیع بھی کردی، جس کے بعدباجوہ کانشانہ حریت کانفرنس کے رہنما سید علی شاہ گیلانی تھے۔پاکستان میں ان کے نمائندے عبداللہ گیلانی کیساتھ جوسلوک ہوا وہ ایک لمبی کہانی ہے لیکن قصہ مختصریہ کہ علی گیلانی حریت کانفرنس سے علیحدہ ہوگئے۔
دراصل1954ء سے سقوطِ ڈھاکہ تک پاکستان کے امریکا کی طرف جھکاؤنے جو خطیر نقصانات پہنچائے ہیں وہ بھی تاریخ کاایک سیاہ باب ہے لیکن بدقسمتی سے ان سارے سوراخوں میں ایسے سانپ موجودتھے جو ملکی خزانے کے دودھ پل کر جوان ہوئے تھے اورانہی کی مددسے ملکی حرمت کو باربارڈس کرقوم کوادھ مویاکردیا۔جب 5اگست 2019ء کو بھارت نے مقبوضہ کشمیرکو غیر قانونی طورپر دہلی میں ضم کیاتویہ وہ وقت تھا جب ہمیں مقبوضہ کشمیرکوفاشسٹ اورنسل پرست بھارت کے ظالمانہ چنگل سے آزاد کرانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے تھی۔ رگ کٹ جانے کے بعد کسی اور چیز سے فرق نہیں پڑتا۔
(جاری ہے)