دنیاکے بیشترممالک کیموجودہ نقشے اورحدودِ اربعہ،بیسویں صدی کی عالمگیرجنگوں کیزیرِاثربنے ہیں۔یقینامشرقِ وسطیٰ بھی اس میں شامل ہے۔اس خطے کے ممالک مگر،تاریخی، جغرافیائی،نسلی، لسانی، تہذیبی،کسی بھی عامل سے زیادہسابق استعماری قوتوں کی خواہشات کے تحت میزپرکھینچی گئی لکیرں سے بنے ہیں۔مثلاً لبنان، شام،اردن،اسرائیل، عراق، سعودی عرب ،کویت،اومان وغیرہ کے نقشے دیکھئے،صاف پتہ چلتاہے کہ سیدھی سیدھی لکیریں کھینچ کر،یہ نئے ممالک،عالمی نقشے میں ’’کاڑھے ‘‘ گئے ہیں۔یہ تمام ممالک،ماضی میں بڑی سلطنتوں کے صوبے یاضلعے ہواکرتے تھے۔یورپ کی استعماری اقوام خصوصابرطانیہ اورفرانس نیاپنی استعماری سوچ کے مطابق،یہ نئے ممالک تخلیق کردیے گئے،ان کی تشکیل میں امریکاعملا شریک نہیں تھا۔
اب تاریخ کاپہیہ ایسے مقام پرآگیاہے کہ آج کی سب سے بڑی استعماری قوت امریکااوراس کے اتحادی یورپی ممالک اوراسرائیل کونیامشرقِ وسطیٰ درکارہے۔چنانچہ گزشتہ صدی کے اختتام کے ساتھ ہی نئے عہداورنئی سرحدوں کابگل بجادیاگیاہے۔علاقائی عناصروعوامل کومارچ کاحکم مل چکاہے۔تمام ہرکارے، کارندے،پیادے، فیل وفرزیں روبوٹس کی طرح حرکت میں آچکے ہیں۔ پرانے زمانے کے راجاؤں اورنوابوں کے شکارکیلئے،جس طرح ہانکالگا کرتا تھا،مشرقِ وسطیٰ میں شکاراورشکاری اوران کے ہانکالگانے والے سبھی اس کھیل کاحصہ بن کر،اپنااپناکرداربخوبی نبھا رہے ہیں۔ شائداگلے ایک عشرے کے اندرہی، مطلوب نیا مشرقِ وسطیٰ تشکیل پاجانے کی خواہش وکوشش ہے۔ہم اہلِ حرم حسبِ سابق اِس رومن اکھاڑے کی سیڑھیوں پربیٹھے، محض تماشائی ہیں جواپنی بھوک اوراِفلاس،اپنادکھ اورغم غلط کرنے کیلئے،یہ کھیل دیکھ رہے ہیں،تبصرے کررہے ہیں یازیادہ سے زیادہ اس میں معاون ومددگاربننے کی خواہش رکھتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ اکھاڑے میں جاری کھیل کاجائزہ لیاجائے توچِیدہ چیدہ 19/نکات اس طرح سامنے آتے ہیں:
1۔دنیاکے موجودہ تناظرمیں،چارمسلم ممالک ایسے ہیں،جن کے حالات وواقعات،جن کاعمل اور بے عملی(یابدعملی)،جن کا استحکام یاانہدام اورجن کی قوت ویکجہتی یاکمزوری و انتشار سارے عالمِ اسلام کوسب سے زیادہ متاثرکرسکتے ہیں اوریہ ممالک سعودی عرب،مصر، ترکی اورپاکستان ہیں۔
2۔یہ چاروں ممالک ہم آہنگ ہوکر،ایک دوسرے کے ہاتھ تھام کراورباہمی اعتمادومشاورت کے ساتھ عالمی بساطِ سیاست پر، دھیرے دھیرے ہی سہی،لیکن مظبوط قدم رکھتے چلیں،تومسلم امہ کی بے چارگی وبے بسی میں تیزی سے،قابلِ لحاظ کمی آتی جائے گی۔
3۔اِساِتحادِاربعہ کے جھرمٹ میں کئی اورمسلم اورغیرمسلم ممالک،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، شامل ہوتے جائیں گے۔یوں یہ نیاعالمی بلاک آج کی بے توازن اوربے کل دنیا میں،قدرے توازن وقرارکاذریعہ بن سکے گا۔
4۔چندبرس قبل اللہ نے یہ سنہری گھڑی قریب کردی تھی،جب مصرمیں ڈاکٹرمحمد مرسی کی جسٹس پارٹی کی حکومت قائم ہوگئی تھی،اورترکی میں رجب طیب ایردوان کی’’اے کے پی ‘‘ کی حکومت سے اس کابڑااچھاتعلق پروان چڑھ رہاتھا۔ گویااتحادِ اربعہ کے لئے حالات سازگارہونے جارہے تھے۔
5۔بدقسمتی سے آلِ سعودکے پچھلے بادشاہ اور کچھ شہزادے،امارات کے حکمراں،خصوصاًان کے موجودہ ولی عہد،اسرائیلی لابی اورمغربی استعمار نے مصرپر،اورامت پرنہایت اوچھا وار اورتاریخی ظلم کیا۔یہ گویاسنبھلتی اورقسمت بدلتی مسلم دنیا کی پیٹھ میں خنجرگھونپ دینے کے مترادف تھا۔
6۔اِسی دوران،شام کے معاملہ میں جوہوا،وہ حکمتِ عملی اوراسٹریٹجی کے لحاظ سے ایک تاریخی بلنڈرتھا۔اسرائیل کی پشت پناہ مغربی قوتوں نے سازش کاجوجال بنا،بدقسمتی سے اس میں ترکی،سعودی عرب، قطراوربعض دیگرعرب حکومتیں، یہاں تک کہ شام کے اِخوان بھی،حیرت انگیزطور پر بڑی آسانی سے پھنس گئے۔ اب ان کے گلے میں گویاچھچھوندر پڑا ہے ۔ 1981میں بھی شام کی اِخوان،اپنے نوجون عنصرکے دباؤمیں آکرخروج کی خودکش غلطی کرچکی تھی،جس کاخمیازہ ربع صدی تک اسے بھگتناپڑا۔خداجانے ہمارے یہ دوست ممالک اس استعماری وصہیونی جال سے بسلامت کیونکرنکل پائیں گے کیونکہ اب غزہ میں اسرائیل کی جانب سے کھیلاجانے والاخونی کھیل خوداستعمارکے گلے کی ہڈی بن چکاہے؟
7۔ایک مضبوط رائے رہی ہے کہ شام کواس کے حال پرہی چھوڑدیناچاہیے تھا۔بشارالاسد کی علوی یانصیری حکومت سے امتِ مسلمہ کو،یااتحادِ امت کو،کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا بلکہ دمشق میںحماس کوایک مناسب اورمضبوط ٹھکانامیسرتھا، جواب اس سے چِھن چکاہے۔شامی فوج کی صورت میں،اسرائیل کے سامنے ایک مظبوط عسکری قوت بھی موجود تھی، جو کلیتًا تباہ ہوگئی ہے۔اربوں ڈالرزمیں خریدے ہوئے لڑاکاجہاز، ٹینک، توپیں،میزائل،گولابارود،یاتواستعماری قوتوں کی بمباری سے تباہ ہو گئے یااپنے ہی لوگوں سے لڑنے میں ضائع ہوگئے۔شام،اِس علاقہ میں نسبتاًبہترفوج رکھتا تھا۔ وہ فوج اسرائیلی نفسیات کوکانٹے کی طرح کھٹکتی تھی۔خانہ جنگی میں وہ بھی تتربترہوگئی جوخطے میں استعماری قوتوں کی پیش قدمی اورفتح کی نویدثابت ہوئی۔
ابتداہی سے مجھے شام کایہ ساراجہادسمجھ نہیں آتاتھا۔اب تویہ امراظہرمِن الشمس ہوچکاہے کہ یہ بہت بڑااسٹرٹیجک بلنڈرتھا۔ شام میں،کئی سال سیملی خودکشی کی گلوٹین مشین اب بھی مسلسل چل رہی ہے جبکہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے بعد اس سے سبق حاصل کرنے کی اشدضرورت ہے۔ مسلم دنیامیں صدیوں سے موجودسب سے بڑی فرقہ وارانہ (شیعہ،سنی)تقسیم زیادہ شدت سے نمایاں ہوکر،عالمگیرپیمانے پرسامنے آکھڑی ہوئی ہے۔ عصرِرواں کی استعماری قوتوں نے اِس تقسیم کو مؤثر طور پربروئے کارلاکراپنے بہت سے منصوبے آگے بڑھائے ہیں،اوروہ اس کادائرہ مزید بڑھائیں گی۔فی الحال اس میں کمی کابظاہرکم ہی امکان ہے لیکن اس کے باوجودامریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن مشرقِ وسطیٰ کے دورے کے لئے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں اور بظاہراپنے مذاکرات کی کامیابی کے لئے انہوں نے ایک مرتبہ پھرآزاد فلسطینی ریاست کے قیام کاجھانسہ بھی دیاہے۔ اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے شروع ہوچکے ہیں اوریادرہے کہ نیتن یاہوکے خلاف سنگین کرپشن اوربدعنوانی کے مقدمات ان کوتاعمر جیل بھیجنے کے لئے منتظرہیں جس کے لئے نیتن یا ہواب مکمل طورپرامریکاکی مددکامحتاج بن کراپنی خلاصی چاہتاہے۔
( جاری ہے)