(گزشتہ سے پیوستہ)
8۔اتفاق سے میں دینی اورعلمِ سیاسیات کاطالب علم بھی ہوں۔میں پوری ایمانداری سے سمجھتاہوں کہ مسلم ممالک میں،عہدِماضی والے تصورِخروج پرنظرثانی کی ضرورت ہے۔ بالخصوص ایسی دنیا میں جہاں دشمنانِ دین وملت،ہر قابلِ لحاظ مسلم ملک کاتیا پانچااورقیمہ کرنے کی مہم پرصاف دِکھائی دے رہے ہیں۔یہ بھی واضح رہے کہ خروج ایک سیاسی اجتہاد اورفقہ سیاسیات کی ایک اصطلاح ہے۔یہ نہ ایمانی مسئلہ ہے،اورنہ فرائض وواجبات سے اِس کاکوئی تعلق ہے۔البتہ انسانی تمدن کے ایک خاص دورسے متعلق ضروررہاہے۔
9۔مصرکوجس طرح عملااسرائیلی تولیت میں دے دیاگیاہے،اس عاقبت نااندیش اورملی بربادی میں آلِ سعوداورسلفی مکتبِ فکر کے کلیدی کردارپرغورکرتاہوں تودل تھام کررہ جاتا ہوں ۔کئی بارمیرابڑادل چاہاکہ کچھ صہیونی آلہ کاروں کے لئے ’’قنوت ‘‘والی بد دعائیں کروں،عمرہ پرگیاتووہاں بھی یہی دل چاہامگرمیرے دماغ نے میری زبان پکڑے رکھی۔اِس بات کوسمجھنا ضروری ہے کہ سعودی عرب کاداخلی انتشار، چاہے وہ شاہی خاندان کے اندرہویاپوری مملکت میں،فی زمانہ ہرگزباعثِ خیرنہ ہوگا۔اِس سے ہمارے دین وملت کوکچھ نہیں ملے گابلکہ امت میں اِس کانفسیاتی فال آوٹ ہمارے اندازوں سے کہیں زیادہ ہوگااس لئے حرمین کی حرمت کی وجہ سے ان کے سدھرنے کی دعائیں کرنے کی اشدضرورت ہے۔
10۔عربستان کے جنوب مغربی کونے پر،یمن میں جوہورہاہے،اس کے دو فعال ترین فریقین میں ایک طرف ایران ہے،تودوسری طرف سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات۔ دونوں فریقوں نے جس عاقبت نااندیشی کامظاہرہ کیاہے،اس سے یمن توبربادہوہی گیا مگرتیل کاجوپیسہ دھواں بناکراڑادیاگیااورملی وجود میں نفرتوں کاجوزہرسرایت کرچکا،اس کے کامل اثرات آہستہ آہستہ ہی ختم ہوں گے لیکن اس کے باوجودوہاں مٹھی بھرحوثیوں نے اپناوجودظاہرکردیاہے کہ اس حالت میں بھی وہ دنیاکی استعماری قوتوں کے سامنے سینہ سپرہیں اورابھی حال ہی میں جدیدترین ٹیکنالوجی سے آراستہ ڈرون جہازکوگراکردشمنوں کوورطہ حیرت میں مبتلاکر دیاہے۔
11۔اگریادہوتواسی خطے میں استعماری قوتوں نے ’’آنسوکے قطرے‘‘ جیسے ننھے سے ملک قطرکے خلاف ’’چارکاٹولہ ‘‘سامنے لائے تھے حالانکہ اسی قطرنے اربوں ڈالرسے تعمیر کردہ اپنابحری اڈہ مکمل طورپرامریکی دسترس میں دے رکھاہے لیکن اس کے باوجودیہاں بھی اپنی منافقانہ پالیسیوں کی بناپرخطے میں اپنی موجودگی کی ضرورت کوثابت کرنے کے لئے فریقین کواپنی اوقات میں رکھنے کے لئے یہ ساراکھیل کھیلاگیاحالانکہ سب جانتے تھے کہ’’چارکے ٹولہ‘‘کی حیثیت شکاری شِکرہ سے زیادہ نہیں۔اصل فیصلہ سازتووہ ہاتھ اور ذہن تھا جس نے اِن شِکروں کو قطر کا کبوتر شکارکرنے پرما مور کیا تھا۔قطرکے خلاف اقدام کرنے کے چندماہ کے اندر عرب ممالک کو180ارب ڈالرکاامریکی اسلحہ فروخت کیاگیا اوراس اسلحے کی دیکھ بھال اورمرمت کے لئے مزیداربوں ڈالرکے معاہدے بھی کئے گئے۔
یادرہے !کہ عرب بھائیوں کایہ معاہدہ تین درجن اسلامی ممالک کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔یہ اسلحہ کس کے خلاف خریداجارہاہے؟ایک دوسرے کے خلاف!یہی وجہ ہے کہ امریکی اسلحہ کی عربوں کوفروخت کے خلاف اسرائیل کی طرف سے ایک بھی لفظ نہیں کہاگیابلکہ ایک ایک امریکی صہیونی سینیٹرنے ایک فقرے میں اس کی جامع تشریح کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہم اس کی مخالفت کیوں کریں جہاں اسرائیل کی حفاظت کے لئے عربوں کاسرمایہ استعمال ہواہے‘‘۔ صہیونی ریاست،اسرائیل سے مستقبل قریب میں کوئی جنگ ہونی ہے اورنہ اس سے کوئی خطرہ باقی رہاہے۔ جنگ اس لیے نہیں ہونی کہ اسرائیلی مقاصدبغیرکوئی گولی چلائے حاصل ہورہے ہیں،پھراسے عربوں سے لڑنے کی کیاضرورت ہے۔ خطرہ اس لیے نہیں کہ اب اسرائیل سے دوستی کی مسابقت شروع ہوگئی ہے۔شنیدہے کہ دونوں حکومتوں میں مسلسل رابطہ ہے اورمفاہمت کے مختلف منصوبوں پرکام جاری ہے۔یہی وجہ ہے کہ پہلی مرتبہ امریکی صدرجوبائیڈن نے یروشلم سے براہِ راست ریاض کاسفرکرکے اپنے خاموش کردادکااعلان کردیاتھا۔توقع کی جارہی تھی کہ اگلے تین تاچھ ماہ میں کسی باقاعدہ مفاہمت کااعلان ہونے والاتھاکہ غزہ میں ہونے والی کاروائی حماس کے شہدا نے اپنے خون کی گہری لکیرسے اسے فی الحال روک دیاہے۔
12۔یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ حماس کے حملے سے قبل لبنان پر”حزب اللہ”پرحملے کی تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں اور اس یلغارمیں اسرائیل کوامریکی شہہ پرمصراورسعودی عرب سمیت دیگرعرب ممالک کی تائیدحاصل کرنے کے لئے مذاکرات آخری مراحل میں تھے۔حزب اللہ کوختم کرنے کے بعدحماس کوختم کرنے کاپلان ترتیب دیاگیاتھا جس میں پہلادور ’’حماس‘‘کو گلاگھونٹ کرمارنا طے پایاتھااوردوسرے مرحلے میں جنگی طاقت سے بے دخل کرنے کاپلان ترتیب دیاگیاتھا۔
13۔چین کی مددسے ایران اوریمن میں جاری جنگ بندی کے بعدامریکا،اس کے اتحادی اوراسرائیل کواپنے مستقبل کے منصوبے میں ناکامی اورتاخیربرداشت نہ ہوئی جس کے لئے فوری طورپرخطے میں پلان ’’بی‘‘پرعملدرآمد شروع کردیاگیالیکن تاہم وہ اپنے منصوبے کی کامیابی سے واقف ہیں کہ سعودی عرب اورایران میں تصادم ہویازبانی جنگ جاری رہے، دونوں صورتوں میں خطہ، عدم استحکام اورنفرتوں کی آماجگاہ بنارہے گا۔اس صورتحال کابڑاگہرااثرپوری مسلم دنیاپرپڑھ رہاہے جس کی بناپرپوری امت مسلمہ عدم استحکام اورنفرتوں کی زہرناک فضاکاشکارہوچکی ہے۔
(جاری ہے)