(گزشتہ سے پیوستہ)
14۔ایران بھی ساسانی سلطنت کے خاتمے کے بعدپہلی بارعروج کے ایسے زینے کواپنے سامنے دیکھ رہاہے جواس کے لئے حالات نیاورخوداس کی حکمت کاری نے ممکن بنادیاہے ۔ مشرق میں زاہدان سے لے کر ،مغرب میں بیروت تک،دمشق سے لیکریمن کے ساحلوں تک اس کووسیع و کشادہ عمل داری مل رہی ہے۔مسلم تاریخ میں ایساپہلی بارہورہاہے۔ خودبغداد پرکسی شیعہ حکومت کاقیام اب سے پہلے کبھی ممکن نہیں ہواتھا۔یہ صورتحال مسلمانوں کے سوادِاعظم(سنی دنیا)کے لئے ہضم کرناسہل نہیں۔ اسی لئے اہلِ مغرب اس ذہنی ونفسیاتی و جذباتی تقسیم کواپنے مقاصدکے لئے استعمال کررہے ہیں۔امریکااورایران میں غالباکوئی باقاعدہ مفاہمت نہیں ہے مگرسوئے اتفاق سے دونوں قوتیں،تاریخ کے ایک ہی صفحے پرآکھڑی ہوئی ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈپلومیسی میں بہرحال اہلِ فارس بہت آگے ہیں۔اس کی شہادت آئے دن کے حالات وواقعات دے رہے ہیں جہاں پہلی مرتبہ ایران کی سب سے بڑی مذہبی طاقت کے سرخیل نے سنیوں کے ساتھ مکمل اتحادکافتوی جاری کرکے تمام شیعہ قوتوں کواحترام کادرس دیاہے۔
15۔خطے میں مسلمانوں کے اتحادکوپارہ پارہ کرنے والی قوتوں نے خطے میں بادشاہتوں کوخوفزدہ کرنے کے لئے سوشل میڈیاکے محاذپربڑی تیزی کے ساتھ یہ پروپیگنڈہ کوپھیلانا شروع کردیاہے کہ سعودی عرب کے حکمراں خاندان میں اِن دنوں جوٹوٹ پھوٹ اورمحلاتی کشمکش جاری ہے،اس سے ملک اورحکمراں طبقے کاداخلی استحکام بری طرح متاثرہورہا ہے اورآلِ سعودکی حکومت جواب تک باہمی اتفاق واتحادکے پائے پرکھڑی تھی،اب ڈانواں ڈول ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔یادرکھیں!اگریہ پایہ کمزورہوگاتوخطے میں اتحاد و اتفاق کاپورامحل ضعف وانہدام کے خطروں سے دوچارہوجائے گا۔ ایسے میں استعماری قوتوں کے لئے اپنے من مانے فیصلے کروانامزیدآسان ہوجائے گا جس کے لئے ضروری ہے کہ تاریخ سے سبق حاصل کرتے ہوئے آلِ سعود کوان حالات سے بچایاجائے جومغلوں کی حکومت کے آخری سوسالوں میں فرنگیوں نے کیاتھاکہ وہ جب چاہتے توولی عہداور بادشاہ تبدیل کردیتے تھے۔
16۔دوعشروں سے،مغرب کی دانش گاہوں اورپالیسی سازی کے مراکزمیں دومسلم اقوام سے ہمدردی کامروڑاٹھ رہاہے۔وہ کہتے ہیں کہ دوقومیں ایسی ہیں،جنہیں ممالک دستیاب نہیں حالانکہ وہ اپنے لیے،الگ الگ ریاستیں بنانے کاپورااستحقاق رکھتی ہیں۔یہ دومسلم قومیںکرداوربلوچ ہیں۔ایک طرف کردستان کی پیدائش کے لئے زمین ہموارکی جارہی ہے تودوسری طرف بلوچستان کے لئے جوڑتوڑزوروں پرہے۔پہلے مشن کے لئے ،اسرائیل کواسائنمنٹ دیاگیاہے اوردوسرے کی ذمہ داری بھارت کے سپردکی گئی ہے۔ بیک وقت دونوں پرکام جاری ہے لیکن زیادہ تیزی کردستان کے معاملے میں دکھائی جارہی ہے۔جس کے نتیجہ میں ترکی، شام،عراق،ایران بری طرح متاثرہوں گے جبکہ گریٹربلوچستان کے مشن کاہدف پاکستان، ایران اورافغانستان کو’’کٹ ٹوسائز‘‘کرنا ہے جس کے لئے امریکاکاتھنک ٹینک خطے کانیانقشہ بھی جاری کرچکاہے اوراب تک خطے کی ٹوٹ پھوٹ کے جاری کردہ سارے پلان اورتاریخیں بری طرح ان کے مکارانہ عمل کے چہرے پرایک بھرپورطمانچہ بھی رسیدکرچکی ہیں جس کے بعدانہی اداروں سے آوازیں اٹھناشروع ہوگئی ہیں کہ ہمارے اس پلان میں فی الحال سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کی فوج ہے۔
17۔سعودی عرب،اپنے اثاثے بیچنے کا اعلان کرچکاہے۔اپنے بجٹ کے خسارے پورے کرنے کے لئے اپنازرِمحفوظ پہلے ہی استعمال کرنا شروع کرچکاہے۔نیز ایک بہت بڑا پراجیکٹ ’’نیوم‘‘کے نام سے اردن، مصراوراسرائیلی سرحد کے قریب شروع کر چکاہے۔ تبوک میں26500 اسکوائرکلومیٹر پر مشتمل یہ ایساسعودی عرب ہوگا، جہاں سعودی عرب کی اقداروروایات اورشرعی قوانین کا داخلہ ممنوع ہوگا۔یہ پراجیکٹ مکمل ہوسکے گایانہیں،یہ بتانادشوارہے البتہ اس کے نام پرپٹرول کی دولت،پانی کی طرح بہہ رہی ہے اوراپنی تکمیل پریہ مغربی استعماری معیشت کاحصہ بن جائے گا۔
18۔بہت اہم بات جاننے اورسمجھنے کی یہ بھی ہے کہ اِستعماری قوتوں نے اپنے میڈیاکے ذریعے یہ واویلاشرع کرناشروع کردیا ہے کہ اس وقت دنیامیں 8مسلم ممالک جو’’اٹلس‘‘ پرنظرآتے ہیں لیکن وہ اپنا وجودعملاکھوچکے ہیں اورحقیقت میں ’’نان ایگزسٹنٹ‘‘ اور‘‘ ناکام ریاستیںاوروہ ہیں، افغانستان، عراق، شام،لبنان،یمن،لیبیا، صومالیہ اورمالی۔اگر اِس فہرست میں کل کلاں سعودی عرب ، ترکی،تیونس، نائیجیریا،الجزائر، پاکستان یاکسی کابھی اضافہ کردیاگیا،تودین وملت کوجوناقابلِ تلافی نقصان ہوگا،اس کاتواندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتالیکن’’ون ورلڈآرڈر‘‘کی تکمیل کے لئے اس کوبروئے کارلانے کی پسِ پردہ کوششیں جاری ہیں۔
19۔صورتحال پرہم اپنے غصے یافرسٹیشن کا اظہارضرورکریں مگراحوالِ جہاں اپنے اِردگِردکے زمینی حقائق اورچاروں طرف پھیلی بارودی سرنگوںکوبھی پیشِ نظررکھیں،اِنہیں ہرگز نظر اندازنہ کریں۔ہم سب کی کوشش ہونی چاہیے کہ سب سے پہلے تو اپنی شریانوں سے بہتے لہوکوروکیں،اپنے کمروں اورباورچی خانے سے اٹھتے شعلوں کوسرد کریں اوراپنے ملکوں کو بطور’’ پنچنگ بیگ‘‘استعمال نہ ہونے دیں۔
اے ہمارے پروردگار!ہم تیری نافرمانی کی بنا پر بہت رسوا ہوگئے ہیں اور باہمی نااتفاقی کی بنا پر بہت کمزور ہوگئے ہیں لیکن میرے رب ،آپ تو بہت طاقتور ہیں، ہماری مدد فرما!ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بد اعمالی اور وعدہ خلافی کی بنا پر ہم تیری مدد سے محروم ہوگئے ہیں، اب ہم پر اپنا رحم فرما اور ہم سے راضی ہو جا۔ ہمیں راہِ نجات دکھا،اس پر صرف چلنے کی ہی نہیں بلکہ اپنے عمل سے دنیا کے سامنے ایک مثال بھی بنا۔ہمیں صلاحیت، فراست، عزم و ہمت اور سلیقہ اور توفیق عطا فرما کہ ہم اس دنیا میں ایک ایسا امن قائم کر سکیں جہاں صرف انسان ہی نہیں بلکہ یہاں کے جانور بھی امن و سکون سے رہ سکیں، اے اللہ ہماری دعائیں قبول فرما۔آمین