Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

واحدسپرپاورکاگھمنڈ

میں اس خوفناک لمحات سے بھی واقف ہوں جب ایٹمی بریف کیس کا بٹن دبانے کی مکمل طاقت رکھنے والے امریکی صدرٹرمپ کے بارے میں ایک مشہورزمانہ امریکی ماہرنفسیات بھرپور دلائل کے ساتھ عالمی میڈیاپرببانگ دہل ٹرمپ کی دماغی صحت پر اپنے شک وشبہ کا اظہارکرتے ہوئے اپنے خدشات کااظہار کررہی تھی جس سے تمام دفاعی اورسیاسی تجزیہ نگاروں میں ایک خوف کی لہردوڑگئی تھی۔ماہرنفسیات ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے جب سے امریکی صدر کا منصب سنبھالا ہے تب سے وہ ایسا بہت کچھ کررہے ہیں جو امریکاکوایک عظیم طاقت بنانے والے عوامل کے خلاف اوردنیاکومکمل تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ انہوں نے قدم قدم پرایسی باتیں اورحرکتیں کی ہیں جوان کے منصب کے تقاضوں سے کسی بھی طورمیل نہیں کھاتیں۔ان کی کوشش رہی ہے کہ جو کھلنڈرا پن ان کے مزاج میں پایاجاتاہے وہ امریکی صدرکے منصب میں بھی دکھائی دے۔ امریکاکو ایک عظیم طاقت میں تبدیل کرنے والے اصولوں،طریقوں اورخواص کوانہوں نے نشانے پر لینے کی بارہاکوشش کی ہے اوریہ بات اب بیشتر امریکی زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں۔
عالمی سیاست کے حوالے سے کوئی بھی پیش گوئی انتہائی دشوار کام ہے۔حالات اتنی تیزی سے بدلتے ہیں کہ ہرپیش گوئی خطرے میں پڑجاتی ہے۔ ٹرمپ کامعاملہ تواب اوربھی پیچیدہ ہوگیا ہے۔ اس نے اپنے دورِ صدارت کے پہلے ایک سال کے دوران ایسابہت کچھ کیاجس کی بنیادپران کے بارے میں پورے یقین سے کچھ کہناانتہائی دشوار تھا۔پیش گوئی کرنے والوں کوبھی اندازہ تھا کہ وہ اگر کچھ کہیں گے توٹرمپ اس کے خلاف کچھ نہ کچھ کرکے انہیں ناکامی وذلت سے دوچارکرنے میں لمحہ بھرکی تاکیرنہیں کرے گا۔ تاہم یہ بات البتہ پورے یقین سے کہتے رہے کہ مورخین جب ٹرمپ کے ادوارکے بارے میں لکھیں گے تواس نکتے پرضرورزور دیں گے کہ اس نے اپنے کھلنڈرے مزاج سے وہ نظم وضبط تباہ کر دیا جو امریکی صدر کیلئے لازم قرار دیا جاتا تھا۔ یقینا اپنے دورِ صدارت میں اس نے بہت کچھ اپنی خواہش کے اصول کی بنیادپرکیا،افغانستان میں روائتی بموں کی ’’ماں‘‘ جیسا خطرناک بم گرانے میں شرم محسوس نہ کی اورپھربرملاعالمی میڈیاکے سامنے افغانستان پرایٹم بم گرنے کی دھمکیاں بھی دیں، کبھی نئے سال کی آمدپرخطے میں اپنے سب سے اہم اتحادی پاکستان کے خلاف ٹوئیٹرمیں نازیبا الفاظ پرمشتمل ہرزہ سرائی سے بھی بازنہ آیاجس کے نتیجے میں امریکاکوکئی معاملات میں بہت سبکی کابھی سامناکرناپڑا۔تاہم دنیابھرکے سنجیدہ افرادکویہ تشویش ضرورلاحق ہوگئی ہے کہ ٹرمپ امریکا کا پہلا صدرہے جس کے پاس اپناکوئی وژن نہیں۔ اسی لئے وہ اپنے پورے دورِ اقتدارمیں کوئی ایسی گرینڈ اسٹریٹجی تیار کرنے میں کامیاب نہ ہوسکاجس کی بنیاد پرکہاجاسکے کہ وہ امریکی معاشرے اور قیادت کے ڈھانچے کوکوئی باضابطہ نئی شکل دے کر اسے عالمی بحرانوں سے نکالناچاہتاتھا۔اس حوالے سے ٹرمپ کی سنجیدگی کاگراف خاصا نیچا رہا۔
کسی بھی ملک کیلئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کی کوئی واضح اوربڑی حکمت عملی نہ ہو۔ اس مرحلے سے گزرے بغیرکوئی بھی ریاست ترقی تو کیا کرے گی،اپناوجودبھی برقرارنہ رکھ پائے گی۔ امریکاکوئی عام ملک نہیں،اسے واحدعالمی طاقت ہونے کا گھمنڈہے۔اس کیلئے توقیادت کے ڈھانچے کامضبوط ہونااوربیشتربین الاقوامی معاملات میں واضح حکمت عملی کاہونالازم ہے۔ امریکامیں ایک زمانے سے عظیم،ہمہ گیرحکمت عملی اپنانے کا رجحان رہاہے اوریہ رجحان محض اپنی پسندکانہیں بلکہ مجبوری اورلازم ہے،امریکاسپرپاورہے۔اسے کئی ممالک سے خصوصی تعلقات استواررکھناپڑتے ہیں۔ ہرخطے پرنظررکھناپڑتی ہے۔کسی بھی صدر کیلئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ملک کی گرینڈاسٹریٹجی سے ہٹ کرکچھ کرے۔وہ اگر نمایاں حدتک بصیرت سے محروم ہواورمستقبلِ بعیدکے بارے میں سوچنے اوراس حوالے سے کوئی واضح منصوبہ تیارکرنے کااہل نہ ہوتب بھی اسے حکمت عملی کے حوالے سے بہت سے معاملات میں غیرمعمولی دلچسپی لینا ہی پڑتی ہے۔ٹرمپ بظاہربصیرت کاحامل نہیں تھا مگر اس کیلئے بھی گرینڈاسٹریٹجی کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں تھایااس سے مطابقت رکھنے والے اقدامات سے گریزکرتا۔لیون ٹراٹسکی نے خوب کہا ہے کہ اگرکوئی صدرگرینڈاسٹریٹجی میں زیادہ دلچسپی نہ بھی لے،تب بھی گرینڈاسٹریٹجی تواس میں دلچسپی لیتی ہی ہے یعنی پیچھے ہٹنے کی گنجائش نہیں، صرف بڑھنے کاآپشن ہے۔
اگرامریکی تاریخ کاجائزہ لیں تویہ نکتہ کسی بھی طورنظراندازنہیں کیاجاسکتاکہ ٹرمپ نے ایک ایسے اہم موقع پرامریکا کی صدارت سنبھالی جب اس کے انتخاب سے پہلے کے70 برسوں میں امریکانے دوسری عالمی جنگ عظیم کے بعدسے ایک ایسی طاقت کا کردار ادا کیا تھا جو پوری دنیاکوایک نئے سانچے میں ڈھالنے کا بھرپور عزم اورتوانائی رکھتی تھی۔امریکی جبرنے کئی خطوں کواپنی مرضی کے مطابق تبدیل کیا۔متعدد ممالک کوتعمیروترقی کی نئی جہتوں سے آشنا کیا اور دوسری طرف کئی ممالک امریکا کے ہاتھوں بربادی کا شکارہوئے ۔ 1990 ء میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعدامریکاچونکہ واحدسپرپاورتھا،اس لیے اس کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئیں۔تقریباًتین عشروں پرمحیط اس مدت کے دوران امریکانے اچھاکم اور برا بہت زیادہ کیاہے۔بعض مواقع پرصاف محسوس کیا گیا کہ امریکا کیلئے معاملات الجھے ہوئے ہیں اوروہ جوکچھ بھی کررہاہے،اس کی پشت پریاتوبدحواسی ہے یاپھرکچھ اداروں کا دباؤ اور خوف۔
امریکی دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ حقیقت بھی نظراندازنہیں کی جاسکتی کہ ٹرمپ ایک ایسے وقت امریکاکاصدرمنتخب ہواجب چین اپنی پوری قوت کے ساتھ ابھرکرسامنے آچکا تھا ۔ چین ایک ایسابڑاچیلنج بن گیاجس سے نمٹنے کیلئے امریکا کواپنی گرینڈ اسٹریٹجی تبدیل کرنا پڑگئی۔ ایک طرف جہاں چین نے امریکاکی عسکری ومعاشی بالا دستی کیلئے بہت بڑے چیلنج کی حیثیت اختیار کرلی وہاں خطے میں پاکستان جیسااہم اتحادی جس نے امریکا کو دنیاکی واحدسپرپاوربننے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اب چین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا نظر آیا جس کے جواب میں امریکی آشیربادپرآئے دن پاکستانی سرحدوں پربھارتی جارحیت جیسا ماحول، سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی جیسے واقعات، کشمیرمیں جاری ظلم وستم کی بنا پر بھارت کے ساتھ انتہائی کشیدہ تعلقات اس پر مستزاد ٹرائیکا کا مختلف اندازمیں بلاوجہ دباؤڈالنے کی غلط پالیسی اختیارکرنے کی بنا پرامریکاکواس خطے میں سخت دھچکا لگاہے اوررد ِعمل میں خطے میں چین، پاکستان، روس اورایران کاایک مضبوط بلاک بھی تشکیل پارہاہے۔
ایک طرف چین نے امریکاکی عسکری ومعاشی بالادستی کیلئے بہت بڑے چیلنج کی حیثیت اختیارکی ہے اوردوسری طرف مشرق وسطیٰ میں بھی صورتِ حال بہت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے جوامریکا کیلئے مشکلات پیداکررہی ہے۔یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ دنیابھرمیں جمہوریت کو بہتر طرزِ حکمرانی کی حیثیت سے قبول نہ کرنے کا رجحان پروان چڑھ رہاہے۔عام آدمی یہ سوچنے پر مجبورہے کہ اگرآمریت اس کے مسائل حل کردے تو جمہوریت کی کیاضرورت ہے؟
کئی عشروں سے امریکا عالمی سیاست ومعیشت پربلاشرکتِ غیرے متصرف رہاہے۔اس نے یورپ کوساتھ ملاکراپنی مرضی کے فیصلے کیے ہیں اوران فیصلوں کاپھل بھی کھایاہے مگر اب بہت کچھ بدل گیاہے۔کئی ممالک تیزی سے مضبوط ہوکرابھرے ہیں۔ یورپ نے اپنی راہ بہت حد تک الگ کرلی ہے۔ چین، روس، برازیل، جنوبی افریقااوردوسرے بہت سے ممالک تیزی سے مستحکم ہوئے ہیں۔ان کااستحکام امریکی بالا دستی کیلئے واضح خطرے کی شکل میں ابھراہے۔یہ سوال امریکا میں بھی جڑپکڑچکاہے کہ عالمی سیاست ومعیشت میں اب امریکاکیلئے کیا رہ گیا ہے۔ گزشتہ صدارتی انتخاب میں جہاں دیدہ سیاست دان جوبائیڈن منتخب ہوکر جب وائٹ ہائوس میں براجمان ہوئے توان کیلئے بھی سب سے اہم سوال یہی تھاکہ کہ عالمی سطح پرامریکاکوبرترحیثیت برقرار رکھنے کے قابل کس طوربنایاجائے۔وہ ان چیلنجزکامقابلہ کرتے ہوئے اب اگلی انتخابی مہم میں داخل ہوچکے ہیں جہاں انہیں یقینا اپنے سیاسی فیصلوں کے نتائج کاسامناکرناہے۔حقیقتاً ان کیلئے چیلنجزبڑھ چکے ہیں۔ حکمت عملی میں غیر معمولی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں