Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

واحدسپرپاورکاگھمنڈ

(گزشتہ سے پیوستہ)
ہرحال میں سب سے پہلے امریکاکانعرہ امریکی سیاست ومعیشت کیلئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکا نے کبھی اپنے مفادات کو کسی بھی صورتِ حال کے تابع نہیں کیا۔وہ صورتِ حال کو اپنے مفادات کے تابع کرنے پر یقین رکھتا آیا ہے۔ ایک یورپی سفارت کار کاکہناہے کہ یورپ نے سترسال تک امریکا کی ڈفلی پررقص کیاہے۔ویتنام سے نکاراگواتک لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ اپنے ملک کے مفادات کوہرحال میں تقویت بہم پہنچانے کیلئے امریکی حکام نے غیرمعمولی تشدد اورظلم وجبرکی راہ پرچلنےسے کبھی گریزنہیں کیا۔ معیشت اورسیاست سے ہٹ کربھی کئی معاملات میں امریکی اندازِقیادت بہت اہم رہاہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعدسے امریکانے عالمی سطح پرامن اور استحکام کےحوالے سے غیرمعمولی کردار ادا کرنے کی یہ وجہ بھی تھی کہ اس وقت دنیا سرمایہ داری اورکیمونزم نظام میں واضح طورپرتقسیم تھی اورامریکاکے اتحادی یہ سمجھتے تھے کہ امریکاعسکری امور میں کمٹ منٹ کے مطابق کام کرنے اور ڈلیورکرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتاہے اوریہ کہ ایک انتہائی خطرناک دنیامیں حقیقی استحکام پیدا کرنے اوربرقراررکھنے کی صلاحیت اگرکسی میں پائی جاتی ہے تو وہ امریکاہے۔
امریکی صدوراس امرکیلئے کوشاں رہے ہیں کہ دنیابھرمیں ایسی جمہوریت اوربنیادی حقوق کی پاسداری کویقینی بنایاجائے جو امریکی قیادت کے تابع رہے اوراس کی واضح مثال ہمیں پہلے الجزائر اوربعدازاں مصرکی مرسی حکومت کاتختہ الٹنے سے ملتی ہے۔امریکی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ عالمی سطح پر بالادستی برقراررکھنے میں یہ بات بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے کہ اخلاقی سطح پرامریکا کیسی دنیا دیکھنا چاہتا ہے۔امریکانے اپنی اخلاقی بالادستی بھی یقینی بنانے کیلئے دنیابھرمیں کھلے معاشرے معرض وجود میں لانے اورلبرل ازم کوبھرپورتقویت بہم پہنچانے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔
سابق امریکی وزیرخارجہ جارج شلزنےایک بارکہاتھاکہ امریکانے زیادہ مستحکم تعلقات ان ممالک سے استواررکھےہیں جہاں ایسی جمہوریت کی جڑیں گہری اورمضبوط ہیں جو امریکی اور اس کےاتحادیوں کی پالیسیوں سےمکمل آہنگی اوریکجہتی کااظہارکریں۔یہ محض اتفاق نہیں۔امریکا جن ممالک میں حقیقی جمہوریت اورسیکولرلبرل روایات دیکھناچاہتاہے انکی طرف زیادہ جھکتاہے۔
ایسانہیں ہے کہ امریکانے صرف سخت قوت (معاشی وعسکری)پرمداررکھا ہے۔وہ اپنی بات منوانے کیلئے اوراپنی نمبرون پوزیشن برقرار رکھنے کیلئےدنیابھرمیں سوفٹ امیج بھی پھیلاتا ہے۔ امریکیوں نے ہردورمیں چاہاہےکہ دنیاان کے ملک کودیکھ کرصرف خوفزدہ نہ ہوبلکہ متاثر ہوکر متوجہ بھی ہو۔آج دنیابھرمیں امریکاکوسخت ناپسندیدگی کی نظرسے دیکھاجاتاہے مگراس کے باوجوددنیاکے ہرملک کے باشندےچاہتے ہیں کہ انہیں کسی نہ کسی طورامریکامیں داخل ہونے کا موقع مل جائے۔جن ممالک سے امریکاکے تعلقات اچھے نہیں اور جہاں کے لوگ امریکاسے شدید نفرت کرتے ہیں وہاں بھی لوگ اس بات کے منتظررہتے ہیں کہ امریکی ویزا لگ جائےیعنی مجموعی طور پرکہاجاسکتاہےکہ امریکا کی سخت قوت کو تقویت بہم پہنچانے میں نرم قوت نے بھی کلیدی کردار اداکیاہے۔ ناپسندیدہ ہوتے ہوئے بھی امریکا میں دنیابھرکے لوگوں کیلئےغیرمعمولی کشش پائی جاتی ہے لیکن صدافسوس کہ پہلی مرتبہ ٹرمپ کی نئی امیگریشن پالیسی نے امریکاکے برسوں سے قائم اس تاثرکوبری طرح نہ صرف مجروح کیابلکہ خودامریکی اعلیٰ عدالت نے مداخلت کرکے ٹرمپ کی اس پالیسی کومستردکردیاتھا۔
ٹرمپ نے اپنےدورِاقتدارمیں جوکچھ کہا وہ اس امرکاغمازتھاکہ وہ بنانے پرکم اوربگاڑنے پر زیادہ توجہ دیتارہا۔(ڈین ایچیسن کیلئے یہ بات بہت اہم تھی کہ وہ امریکاکی تخلیق کے وقت تھے)۔ خودامریکی اورمغربی سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ٹرمپ کی بڑھکیں دیکھتے ہوئے یہ بات بلاخوفِ تردیدکہی جائے گی کہ انہیں شاید کل کویہ بات قابل فخرمحسوس ہوکہ وہ امریکاکی تباہی کے وقت موجود تھے۔ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایسا بہت کچھ کہاجس سے پتہ چلاکہ اسے بنیادی امریکی اقدارکی پاسداری کاذرابھی خیال نہیں تھا۔ اس نے آزادتجارت کے بجائے اپنےمفادات کو ہرحال میں مقدم رکھنے کی تجارت پرزور دیا۔ ٹرمپ نے جمہوریت کیلئے اب تک ویسی پسندیدگی کااظہار نہیں کیاجیسی ان کے پیش رو بیان کرتے آئے اورسب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے جمہوریت کے مقابل پیوٹن کیلئے پسندیدگی کا اظہارکیاجومطلق العنانیت کوبنیادی سیاسی قدر قراردےکر تمام اختیارات اپنی ذات میں سمیٹنا چاہتا ہے۔ امریکانے پانچ چھ عشروں میں جوکچھ بھی پایا، اسے ٹرمپ نے ٹھکانے لگانے میں تاخیرنہیں کی۔اس کا خیال تھا کہ امریکانے جنگ کےبعد کے زمانے میں جو خارجہ پالیسی اپنائی وہ بہت سے معاملات میں مخالفین کواس قدررعایتیں دیتی رہی ہیں کہ اب وہ منہ دینے کاسوچ رہے ہیں۔ امریکانے دوسری جنگ عظیم کے بعدکی دنیا میں عالمی معیشت کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش ضرورکی ہےمگراس کوشش میں اس نے اپنی مصنوعات اورٹیکنالوجی دنیابھر کودی ہے۔اس بات کو ٹرمپ جیسے لوگ پسند نہیں کرتے۔ان کاخیال یہ ہے کہ امریکا کو اپنی ٹیکنالوجیزاورجدید ترین مصنوعات ساری دنیا میں پھیلانے سے گریزکرناچاہیے۔
ٹرمپ نے امریکی فوج کو قیدیوں پر تشددڈھانے کی اجازت دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ دہشت گردی ختم کرنے کی خاطراگرجنگی جرائم کاارتکاب بھی کرناپڑے توایساکرنے میں کچھ حرج نہیں۔اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ امریکا نے کسی نہ کسی طوراپنی بالادستی کو برقرار رکھاہے مگرٹرمپ اسے ٹھکانے لگانے کے لئے بے تاب رہے۔ایسانہیں ہے کہ جوکچھ ٹرمپ نےصدرکی حیثیت سے کہاتھاوہ جذباتیت کی طرح پرہے۔وہ ایک زمانے سے کئی امریکی شراکت داروں پرشدید نکتہ چینی کرتے آئےہیں۔ انہوں نے 1980ء کے عشرے میں جاپان اور کویت کوشدید نکتہ چینی کانشانہ بناتے ہوئے کہا تھاکہ ان دونوں ممالک سے امریکاکوملاکم ہے اور امریکا نےدیازیادہ ہے۔اسی طورانہوں نے 2015ء اور 2016 ء میں جرمنی اورمیکسیکوپرشدید نکتہ چینی کرتے ہوئےکہاکہ ان دونوں ممالک نےامریکاکیلئے طفیلی کاکرداراداکیاہے۔اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے امریکا کے بعض شراکت داروں کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا وہ ان کے دوڈھائی عشروں کے خیالات ہی کاعکاس تھے۔اس کامطلب یہ ہے کہ ٹرمپ نے صدر کی حیثیت سے امریکی معاشی روابط کوفروغ دینے پرآمادگی ظاہرکی ہے جہاں کی سیاسی روایات امریکی اوراس کے اتحادیوں کی سیاسی روایات سے ہم آہنگ ہوں۔معاملات محض لین دین کی سطح سے کہیں کے بعض اتحادیوں کے بارے میں جو کچھ کہا تھا،وہ محض بڑھک نہیں،جذباتیت کی سطح پرنہیں بلکہ وہ واقعی کچھ کرناچاہتاتھایعنی وہ امریکاکے بعض اتحادیوں کوایک طرف ہٹانے اور نئے تعلقات استوارکرنے کی راہ پرگامزن ہونے کیلئے بے تاب رہتاتھاچاہے اس کیلئے امریکاکوکتنی ہی بھاری قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔لیکن خود امریکا کے خیرخواہ اوران کے اتحادی، ٹرمپ کی ان پالیسیوں کے اجرا کی کبھی بھی کھل کرحمائت نہ کرسکے کیونکہ اس سے امریکاتیزی کے ساتھ تنہائی کاشکارہوجاتالیکن افسوس تواس بات کا ہےکہ ٹرمپ ایک مرتبہ پھراس سے کہیں زیادہ شدت پسندنعروں کی گونج میں وائٹ ہائوس پہنچنے کی تیاریوں میں بڑاپرامیدہے اورایساہی حال ہمارے ملک کی سیاست کابھی ہوچکاہے کہ ہرروزکسی نہ کسی کابیان آجاتاہے کہ عمران کے ساتھ بیک ڈورچینل پربات چیت جاری ہے اورناکامی کامنہ دیکھتے ہی اس کی تردیدکردی جاتی ہے۔عجیب اتفاق ہے کہ یہ دونوں کردارایسے ہم مزاج ہیں کہ ایک دوسرے کی تعریفوں کے پل باندھنے میں کبھی بخیلی سے کام نہیں لیتے۔
اپنابھی کچھ خیال کر،اے دل بجز لحاظ
موقع ملے توجھاڑکبھی آستین کے سانپ

یہ بھی پڑھیں