Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

کتنامشکل ہے جینا…مدرڈے

(گزشتہ سے پیوستہ)
میرے آقاﷺآخری حج کے سفرمیں اپنے رب کے حضورمناجات کے لئے تشریف لے جارہے ہیں،شدیدگرمی کامہینہ،آپ نے اپنی اونٹنی کامنہ ابواکی طرف موڑدیااور70 ہزارکا قافلہ اپنے آقاکے پیچھے رب کی تسبیح بیان کرتے ہوئے گامزن ہے۔ 57برس گزرگئے،اتنابڑازخم اورصدمہ نجانے کیسے بھراہوگا۔ کہاں وہ بچپن کاچھٹاسال اورآج میرے آقا ﷺ63 سال کی عمر میں،میرے آقاﷺاپنی ماں کی قبرکے سرہانے تشریف لائے،اونٹنی کوبھی فاصلے پربٹھادیا، اس عظیم ہستی کی آخری آرام گاہ کی پتھریلی زمین پردوزانوہوکر ، سرگھٹنوں میں جھکاکربیٹھ گئے جس طرح بچپن میں اپنی ماں کے پاس بیٹھے تھے جب وہ انتہائی تکلیف میں بے چین ہوکرکروٹیں بدل رہی تھیں۔ یقیناوہ سارے مناظریادآگئے تو بے ساختہ پھوٹ پھوٹ کراسی طرح روناشروع کردیاجس طرح وہ بچپن میں اپنی والدہ مرحومہ کواپنے ہاتھوں لحدمیں اتارتے ہوئے بیتاب ہوئے تھے،جس طرح بے تابی میں ام ایمن کاہاتھ چھڑاکردوڑکرقبرسے چمٹ گئے تھے۔آج ایک مرتبہ پھران مبارک آنسوؤں کی برسات ریش مبارک کوترکرتی ہوئی سینہ مبارک پرطوفان برپاکر رہی تھیں اورآج بھی کوئی چپ کرانے والانہ تھاکہ صحابہ کرام کی پوری جماعت حزن وملال کے اس مناظرمیں ماں بیٹے کی ملاقات میں حائل نہیں تھے اورادب کی بناپرایک فاصلے پربیٹھے اپنے آقاﷺ کی اس جذباتی اوررومانوی کیفیت کودیکھ کربے چین ہورہے تھے۔
کافی دیرتک نجانے اپنی والدہ محترمہ سے کیاباتیں کرتے رہے کہ بچپن میں ماں کوابھی جی بھرکردیکھابھی نہیں ہو گا، لاڈوپیارکاوہ سارازمانہ اب آنکھوں کے سامنے آرہاہوگاجس کی بناپرحزن وملال کی کیفیت بے چین کررہی تھی،دائمی جدائی کے تمام مناظرآج یکجاہوکرمیرے آقا ﷺکو مضطرب کررہے تھے۔طبیعت اس قدربے چین ہوئی کہ آپ نے اپنے تمام ساتھیوں کوارشادفرمایا: میں آج رات یہاں ہی قیام کروں گااوروہاں نہیں گئے جہاں قیام کے لئے بندوبست کیاگیاتھا،اپنی ماں کے سرہانے ساری رات قیام فرمایا۔
حضورنبی کریمﷺبڑے مضبوط دل اور حوصلہ مندانسان تھے۔مشکل سے مشکل وقت اور کڑے سے کڑے حالات میں بھی آپ صبروضبط کادامن ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ اپنے ساتھیوں کوصبروتحمل،شجاعت اور مردانگی کاسبق دیا لیکن ان کی زندگی میں بھی چندمواقع ایسے آئے جب ان کی مبارک آنکھیں بے اختیار اشک بارہوگئیں۔
ان میں سے ایک موقع وہ تھاجب غزوہ احدمیں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعدآپ ان کے گھرتشریف لے گئے ان کے بچوں کوپیارکیا اوران کی شہادت کی خبران کی رفیقہ حیات کودی۔اس موقع پرآپﷺکی آنکھیں بھیگ گئیں۔ایک موقع وہ تھاجب آپﷺکے ڈیڑھ سالہ فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ انتقال کرگئے۔اس وقت بھی ہزار ضبط کے باوجود آپ کی آنکھیں پرنم ہوگئیں اورایک موقع وہ تھاجب غزوہ بدرسے آپﷺفارغ ہونے کے بعد اپنی والدہ محترمہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہاکی قبرمبارک پر حاضرہوئے جواسی نواح میں تھی۔وہاں آپ ﷺکی آنکھوں میں آنسوآگئے۔یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تعجب سے پوچھاکہ یارسول اللہﷺ!آپ کی آنکھوں میں آنسو؟ مطلب یہ تھا کہ آپ توفرمایاکرتے ہیں کہ مرنے والوں پررونانہیں چاہیے لیکن اب آپ جیسے جری اورمضبوط انسان کی آنکھیں بھی نم ناک ہیں۔
اس موقع پرآپﷺنے جوکچھ فرمایااس کامفہوم یہ ہے کہ ایک بیٹے کی طرف سے اپنی والدہ محترمہ کی جناب میں نذرانہ عقیدت واحترام ہے۔ان آنسوں کوکم حوصلگی یاتھڑدلی سے کوئی تعلق نہیں۔یہ توبے اختیارآنسوہیں جواس حرم محترم میںحاضری کاخراجِ عقیدت ہے۔یہ ماں کے ان قدموں میں،جن کے نیچے جنت ہوتی ہے،گلہائے عقیدت کے طور پرآنسوؤں کا گلدستہ ہے۔جن کے ہاتھ میں جنت کی کلیدہے اورجن سے پہلے کوئی جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔آپﷺ کاارشاد گرامی ہے کہ سب نبیوں پرجنت حرام ہے جب تک میں جنت میں داخل نہ ہو جاؤں،وہ اپنی ماں کے لئے ایسے بے قرارہیں۔ سبحان اللہ!
ان دنوں ہم بھی مغرب کی تقلیدمیں پچھلے کئی برسوں سے’’مدرڈے‘‘کاتہوارمنانے میں بڑاتفاخر محسوس کرتے ہیں۔چلے آج ایک چھوٹی سی کہانی پراس مضمون کوختم کرتاہوں جومجھے ایک پڑھی لکھی ماں نے سنائی جس کے بچے ان سے دور بیرونِ ملک میں مقیم تھے۔وہ ایک کالج کی پرنسپل رہ چکی ہیں۔ساری عمردرس وتدریس میں گزاردی۔ اب بھی کئی غریب بچیوں کی کفالت انتہائی پردہ داری اورخاموشی کے ساتھ سرانجام دیتی ہیں۔ مجھے اس بات کاکبھی پتہ نہ چلتااگربوڑھاڈاکیا مجھے اس کی اطلاع نہ دیتا۔ایک دفعہ میں ان کے گھرکے سامنے سے گزررہاتھاتومجھے روک کرمیرے کل شام کے ٹی وی پروگرام پر تبصرہ فرمانے لگیں۔مجھے جہاں ان کی علمی گفتگونے حیران کردیاوہاں ان کی لاجواب یادداشت نے میرے دل ودماغ کے کئی چراغ روشن کردیئے۔میں جتنی دیرپاکستان میں رہتاہوں ان سے سیکھنے کے لئے جی بھرکرباتیں کرتاہوں، ان کی ڈھیر ساری باتیں سنتاہوں جووہ ساراسال میرے لئے جمع کرکے رکھی ہوتی ہیں۔یہاں سے میں جب ٹیلیفون پران کو سلام کرتاہوں توان کی خوش کلامی سے میرادل معطرہوکے رہ جاتاہے لیکن مختصرسی بات کرکے یہ کہہ کرختم کردیتی ہیں کہ تمہیں خواہ مخواہ اس کازیادہ بل آئے گا۔آؤگے توخوب باتیں کریں گے۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں