(گزشتہ سے پیوستہ)
ان دنوں ہم بھی مغرب کی تقلیدمیں پچھلے کئی برسوں سے’’مدرڈے‘‘کاتہوارمنانے میں بڑاتفاخر محسوس کرتے ہیں۔چلے آج ایک چھوٹی سی کہانی پراس مضمون کوختم کرتاہوں جومجھے ایک پڑھی لکھی ماں نے سنائی جس کے بچے ان سے دور بیرونِ ملک میں مقیم تھے۔وہ ایک کالج کی پرنسپل رہ چکی ہیں۔ساری عمردرس وتدریس میں گزاردی۔ اب بھی کئی غریب بچیوں کی کفالت انتہائی پردہ داری اورخاموشی کے ساتھ سرانجام دیتی ہیں۔ مجھے اس بات کاکبھی پتہ نہ چلتااگربوڑھاڈاکیا مجھے اس کی اطلاع نہ دیتا۔ایک دفعہ میں ان کے گھرکے سامنے سے گزررہاتھاتومجھے روک کرمیرے کل شام کے ٹی وی پروگرام پر تبصرہ فرمانے لگیں۔مجھے جہاں ان کی علمی گفتگونے حیران کردیاوہاں ان کی لاجواب یادداشت نے میرے دل ودماغ کے کئی چراغ روشن کردیئے۔میں جتنی دیرپاکستان میں رہتاہوں ان سے سیکھنے کے لئے جی بھرکرباتیں کرتاہوں، ان کی ڈھیر ساری باتیں سنتاہوں جووہ ساراسال میرے لئے جمع کرکے رکھی ہوتی ہیں۔یہاں سے میں جب ٹیلیفون پران کو سلام کرتاہوں توان کی خوش کلامی سے میرادل معطرہوکے رہ جاتاہے لیکن مختصرسی بات کرکے یہ کہہ کرختم کردیتی ہیں کہ تمہیں خواہ مخواہ اس کازیادہ بل آئے گا۔آؤگے توخوب باتیں کریں گے۔
دوران قیام ایک دن خودبخودمیرے پائوں ان کے گھرکی سمت چل پڑے۔وہ مجھے باہرہی مل گئیں۔کیسی ہیں آپ ماں جی، ہت شرمیلی ہیں وہ،مسکرائیں اورکہنے لگیں تم کیسے ہو؟ آج صبح سویرے ہی،جی ماں جی آپ کو سلام کرنے آ گیا۔انہوں نے پھولوں کاایک گلدستہ تھام رکھاتھا۔میں نے ان پھولوں کی بابت پوچھاتو انہوں نے جواب دیاکہ میرے تینوں بیٹے امریکامیں مقیم ہیں،سب سے چھوٹے بیٹے نے یہ پھول بھیجے ہیں کیونکہ آج ’’مدرڈے‘‘ہے ناں!میں نے بھی انہیں مدر ڈے کے لئے جب’’وش‘‘کیاتودعائیں دینے لگیں ’’جیتے رہو میرے بچے،سداخوش رہو،خوشیاں دیکھو‘‘۔ان کی آوازکے زیروبم،میں کیسے تحریرکروں اوران کے چھلکتے آنسوؤں پر ضبط کی ناکام کوشش کوکیسے صفحہ پربکھیروں۔ تھوڑی دیرآسمان کی طرف ٹکٹکی باند ھ کردیکھتی رہیں، بالکل گم سم۔آپ ٹھیک توہیں ماں جی!میری آوازسن کرچونک سی گئیں اورواپس اسی دنیامیں لوٹ آئیں۔ اب توتمہارے سرکے بالوں اورداڑھی میں کافی سپیدی آگئی ہے،کیاتمہارے پوتے پوتیاں تم سے کہانی سننے کی فرمائش کرتے ہیں؟جی ہاں،کبھی کبھار،وگرنہ آج کل تواسکول کاہوم ورک اوربعدمیں کمپیوٹرپربچوں کی مصروفیت کے بعددوستوں سے موبائل فون کی گپ شپ اورٹیکسٹ پیغامات نے توگھرمیں عجیب اجنبیت پیداکررکھی ہے کہ بچوں کے پاس اب بڑوں کے پاس بیٹھنے کی فرصت کہاں؟
تم نے مجھے’’مدرڈے‘‘پر’’وش‘‘کرکے ماں جی تومان لیااوراس میں کوئی شک بھی نہیں کہ میں تم سے عمرمیں کافی بڑی ہوں۔چلوآج ہم دونوں ایک بھولی بسری روائت کوقائم کرتے ہیں۔کہانی سنوگے؟انہوں نے اچانک مجھ سے یہ فرمائش کردی ۔’’ضرور،کیوں نہیں،مدت ہوئی مجھے کوئی کہانی سنے ہوئے‘‘۔انہوں نے موقع کی نسبت سے ایسی دلخراش کہانی سنائی کہ جس کو سن کرمیں بھی دل تھام کررہ گیا،آپ بھی سنیں:
ایک شخص اپنی ماں کو پھول بھجوانے کا آرڈردینے کے لئے ایک گل فروش کے پاس پہنچا۔ اس کی ماں دوسومیل کے فاصلے پررہتی تھی۔جب وہ اپنی کارسے نیچے اتراتواس نے دیکھاکہ دوکان کے باہرفٹ پاتھ پرایک نوعمرلڑکی بیٹھی سسکیاں بھر رہی تھی۔وہ شخص اس لڑکی کے پاس آیااوراس کے رونے کاسبب پوچھا۔لڑکی بولی:میں اپنی ماں کے لئے سرخ گلاب خریدنا چاہتی ہوں لیکن میرے پاس صرف ایک پاؤنڈہے جبکہ گلاب کی قیمت دوپاؤنڈہے۔یہ سن کر وہ شخص مسکرایا اوراسے دلاسادیتے ہوئے بولا،میرے ساتھ اندرچلو،میں تمہیں گلاب دلادیتاہوں۔اس نے بچی کوگلاب کے کئی پھول خرید کراپنی ماں کے لئے پھولوں کاآرڈربک کروایا۔دکان سے باہرآنے کے بعداس نے لڑکی کوگھرتک پہنچانے کی پیشکش کی۔یس پلیز!لڑکی نے جواب دیا،آپ مجھے میری والدہ کے پاس لے چلیں۔لڑکی کی رہنمائی میں وہ ایک قبرستان تک پہنچے۔لڑکی نے وہ سرخ گلاب کے پھول ایک تازہ بنی ہوئی قبرپررکھ کردعامانگنے لگی۔وہ شخص پلٹ کرگل فروش کے پاس پہنچااس نے اپنا آرڈرمنسوخ کرادیااورایک گلدستہ لے کرفوری اپنی ماں سے ملنے کے لئے روانہ ہوگیا اورسارے راستے میں اپنی نم آلودآنکھوں سے اس معصوم لڑکی کاشکریہ اداکرتارہاکہ اس نے بروقت اس کی بہترین رہنمائی کی۔جونہی وہ اپنی ماں کے پاس پہنچاتواس کی ماں کی آنکھوں میں جھلکتی خوشی کے آنسو اپنی زندگی سے بھی کہیں قیمتی نظرآئے گویاوہ اپنے رب کے عطاکردہ اس بیش بہاخزانے کوبرسوں سے پہچان نہ پایاتھاجس کاپتہ آج اس معصوم لڑکی نے بتادیا۔
آخری فقرہ کہتے ہوئے ان کی آوازکپکپانے لگی تومیں نے اپنی جھکی گردن اٹھاکران کے چہرے پرنظرڈالی توانہوں نے منہ پھیرلیاکہ میں ان کی آنکھوں کی چغلی نہ پکڑلوں۔’’سنا ہے تم اخبارات میں لکھتے ہو؟ لگتاہے جوبچے اپنی ماؤں سے ہزاروں میل دوررہتے ہیں،اب کیاوہ اپنی ماں کی قبرپرسرخ گلاب رکھ کرہی محبت کااظہارکریں گے؟کتنامشکل ہے اس طرح جینا۔۔۔۔۔۔۔!
اس سوال کاہے کوئی جواب آپ کے پاس!اگرنہیں توپھرجلدی کیجئے کہ ہمارے لئے توہردن ہر لمحہ ’’مدرڈے‘‘ہے اوریہی تعلیم میرے آقاخاتم النبیینﷺکی ہے۔