Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

فیصلہ کن گھڑی

مزاحمتی قوت گرتے ہوں کوپیروں پرکھڑاکرتی ہے،ڈوبتے ہوں کوتیرنے کاحوصلہ دیتی ہے اورسا حل پرلاپٹختی ہے۔بیمارکو بیماری سے جنگ میں فتح یاب کرتی ہے(اللہ کے حکم سے)بجھتے دیئے کی لوبجھنے سے پہلے تیزہوجاتی ہے،کیوں؟شائدیادیر تک جلناچاہتاہے۔یہ اس کی مزاحمت ہے۔ اندھیروں کے خلاف کبھی کوئی مسافرکسی جنگل میں درندوں کے درمیان گھرجائے تو تنہاہی مقابلہ کرتاہے کہ اس کے بغیرکوئی چارہ نہیں ہوتا۔ایک ناتواں مریض جوبسترسے اٹھ کرپانی نہیں پی سکتا،ناگہانی آفت کی صورت میں چھلانگ لگاکر بسترسے نیچے کودسکتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مریض میں وہ مزاحمتی قوت موجودتھی جس کا اس کوخودبھی اندازہ نہیں تھا۔خطرے کے احساس نے اس قوت کوبیدارکردیا۔
یہی وہ قوت ہے جوکمزوروں کوطاقتورسے ٹکرادیتی ہے،کبوترکے تنِ نازک میں شاہین کاجگرہ پیداہوجاتاہے،چیونٹی ہاتھی کے مقابلے میں اترآتی ہے،مظلوم کی آنکھیں قہربرساتی اورسلگتے انگارے شعلہ جوالہ بن جاتے ہیں لیکن تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ دنیاوی کامیابی کے حصول کے لئے مزاحمت کمزورپڑکرسردہوجا تی ہے لیکن اگرمزاحمت کے ساتھ ایمان باللہ شامل ہوجائے تو مزاحمت کبھی سردنہیں پڑتی،راکھ میں کوئی نہ کوئی چنگاری سلگتی رہتی ہے جہاں مزاحمتی قوت بیدارہوتویہ چنگاری بھڑک اٹھتی ہے لیکن کیایہ ضروری ہے کہ یہ مزاحمتی قوت اس وقت بیدارہوجب خطرہ حقیقت بن کرسامنے آجائے،جب سرپرلٹکتی تلوارکی نوک شہہ رگ کوچھونے لگے،جب سرحدوں پرکھڑے مہیب اوردیوہیکل ٹینکوں اورطیاروں کی گڑگڑ اہٹ سڑکوں اور چھتوں پرسنائی دینے لگے۔جب ڈیزی کٹر،کروزاورٹام ہاک بم بارش کے قطروں کی طرح برسنے لگیں۔جب بہت کچھ گنواکر کچھ بچانے کے لئے ہم مزاحمت پراترآئیں گے؟
پا کستانی قوم سے خطرہ درحقیقت دوچارلب بام ہی رہ گیاہے اورہم ہیں کہ ذہنی پسپائی کی راہ پرسرپٹ بھاگے جارہے ہیں۔جب کوئی قوم لڑے بغیرہی شکست تسلیم کرلیتی ہے تویہ جسمانی نہیں ذہنی پسپائی ہوتی ہے۔ایسی قوم کوجسمانی طورپرزیر کرنے کے لئے دشمن کوزیادہ مشکل نہیں اٹھانی پڑتی۔ہلاکو خان کی فوجیں کھوپڑیوں کے میناریوں ہی نہیں تعمیرکرلیاکرتی تھیں۔صلا ح الدین ایوبی نے جبملت اسلا میہکانام لیاتو ایک غدارفوجی افسرطنزیہ مسکرااٹھا،کون سی ملت اسلامیہ؟یہ ذہنی پسپائی کی سب سے گری ہوئی شکل تھی کہ ایک دیوہیکل انسان اپنے ہی وجودسے انکاری تھالیکن صلاح الدین ایوبی نے مزاحمت کی قوت کے ساتھ ایمان کوجمع کرکے خلیفہ ثانی حضرت عمرفاروق کے بعدبیت المقدس ناپاک ہاتھوں سے چھین لیا۔
اگرآج ہم مصیبت میں گرفتارہیں توہمارادشمن ہم سے بڑھ کرمصیبت مول لے چکاہے۔کئی مرتبہ اس نے ایک سازش کے تحت آبی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیلابی ریلے کو ارضِ پاکستان کی طرف دھکیل دیامگراپنے جرائم کی سنگینی سے توجہ ہٹانے کے لئے مکاری کااظہارکرتے ہوئے اپنے بغل میں چھپائے خنجرکودنیاکی نظروں سے اوجھل رکھنے کے لئے پاکستان کومددفراہم کرنے کی منافقانہ خواہش کااظہار بھی کردیالیکن وہ شائدیہ بھول رہاہے کہ ایک یقینی شکست کے امکان کے باوجودمحض دنیاپر ظاہری غلبے کی خو اہش نے اسے ایک ایسی دلدل میں اتاردیاہے جہاں اگلاقدم اس کی ظاہری شان وشوکت اورمصنوعی ہیبت کا جنازہ نکال کررکھ دے گا۔
کیاہم نے کبھی سوچاہے کہ ہم جوگھروں میں بیٹھے ہیبت زدہ ہیں،وہ اپنے آقاؤں سمیت سارے لاؤلشکرکے باوجودہم سے زیادہ خوفزدہ ہے۔اس کی چڑھائی میں شیرجیسی بے جگری نہیں بلکہ لومڑی جیسی عیاری ہے۔ہمیں دیوارسے لگ کرکانپنے کی ضرورت نہیں،پس آج ہمیں اپنی مزاحمتی قوت کوسمجھنے کی ضرورت ہے جس کی بنیادایمان ہے اوراس قوت کو مضبوط کرنے والی قوت اللہ کی نصرت ہے۔جب مومن اپناسب کچھ لگادیتاہے تومز احمت میں اللہ کی نصرت نازل ہوکراس کوکامیابی سے ہمکنارکرتی ہے۔تا ریخ اسلام کے صفحات پرایسی روشن مثالیں ان گنت تعدادمیں جگمگارہی ہیں جب نہتے مسلمانوں کی مزاحمت نے وقت کے فرعونوں کوزخم چاٹنے پرمجبورکردیا۔آج بھی دنیابھرمیں مزاحمتی تحریکیں پوری شان سے جاری ہیں۔پتھرنے ٹینک سے شکست نہیں کھائی، معمولی ہتھیاروں سے جدید ٹیکنا لوجی کامقابلہ جاری ہے۔جتناظلم بڑھتاجارہاہے،اتنی ہی شدت سے مزاحمت بڑھتی جا رہی ہے۔
لیکن کیامزاحمت کی صرف ایک ہی صورت ہے؟جب کوئی جابروقت اپنے لشکروں کے زعم میں کسی قوم پرچڑھ دوڑتاہے توہر ہاتھ ہتھیاراٹھا لیتا ہے۔یہ یقینی امرہے کہ ایسے وقت میں اس کے بغیرمزاحمت کی کوئی اورصورت نہیں ہوتی لیکن اس سے بھی پہلامرحلہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے اورہمیں یادرکھناہوگاکہ مزاحمت ایمان اور’’کڑے احتساب‘‘ کے بغیرکچھ نہیں۔لہٰذاایسا کڑا وقت آ نے سے پہلے ایمان کوبچانااورقائم رکھنااشد ضروری ہے۔ایمان کی کمزوری ہی ذہنی غلامی اورپسپائی کی طرف لے جاتی ہے لہٰذا اس وارکی مزاحمت ضروری ہے جس کانشانہ آج ایمان بن رہاہے۔ہمارے نظریات وافکار،ہماراطرزِ زندگی،ہماری تعلیم،ہما ری معیشت، ہمارامیڈیایہ سب وہ میدان ہائے کارزار ہیں جوہماری مزاحمتی قوت کے شدت سے منتظر ہیں۔یہ ڈوب رہے ہیں،ان کو ساحل پرکھینچ لانے کے لئے بھرپورتوانائیوں کی ضرورت ہے۔
ہمارادشمن اس بات سے پوری طرح باخبرہے کہ دنیامیں صرف دوریاستیں نظریات کی بنا پرقائم ہیں،ایک پاکستان اوردوسری ریاست اسرائیل ہے جس کوعین مسلمان ملکوں کے درمیان ایک سازش کے تحت بطورایک خنجرکے گاڑھ دیاگیاہے اورپچھلی سات دہائیوں سے زائدفلسطینیوں، کشمیریوں کاخون مسلسل بہہ رہا ہے۔ ٹرائیکا (اسرائیل،امریکا، انڈیا) کے ناپاک گٹھ جوڑ اورہمارے مسلم حکمرانوں کی اقتدارکی بدبودارہوس نے مسلم امہ کونزع کی حالت میں پہنچادیاہے اوراس کے لئے جب سے ایک متعصب یہودی نژادامریکی ہنری کسینجر نے’’ورلڈآرڈر‘‘

یہ بھی پڑھیں