Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

فیصلہ کن گھڑی

(گزشتہ سے پیوستہ)
سب سے پہلامنصوبہ یہ بنایاگیاکہ پاکستان کی معاشی حالت کواس قدرلاغرکردیاجائے کہ یہ اپنے حالات سے مجبورہوکردیوالیہ کی حدتک پہنچ جائے اورفوری طورپرعالمی میڈیاکے ذریعے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خطرے کااعلان کرکے پاکستان کو اس طاقت سے محروم کردیاجائے اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان میں ایسے حکمران لائے جائیں جوبظاہر تو امریکاکے خلاف نظرآتے ہوں لیکن ان کی ڈورمکمل طورپران کے پاس ہو۔اس
اس سے اگلاقدم یہ ہوگاکہ جیل یاتراکے بعدعمران کوایک بھرپورحمایت کے ساتھ قوم کا لیڈر بناکرایک مرتبہ پھرقوم کے سامنے لایاجائے۔اس کے بعداپنے باقی ماندہ پروگرام کواس طرح عملی جامہ پہنایا جائے کہ پاکستانی قوم کومعلوم ہی نہ ہوسکے کہ ان کے ساتھ’’اتنابڑاہاتھ‘‘ہوگیاکہ نہ صرف پاکستان کوایٹمی قوت سے محروم کردیاگیابلکہ خطے میں تنہاکرتے ہوئے چین جیسے دوست سے بھی محروم کردیاگیا۔اس کی ماضی سے ایک مثال سامنے رکھ دیتاہوں جس سے ہم نے اب تک کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔
2014ء میں ’’را‘‘کے ایک سابق افسر’’ آرکے یادیو‘‘نے اپنی کتاب’’مشن آراینڈاے ڈبلیو‘‘ (Mission R & A W)میں انکشاف کیاہے کہ اندراگاندھی نے1967ء میں آئی بی کے سینئرافسرآراین کاکے ساتھ مل کرایک خفیہ منصوبہ تیارکیاجس کامقصدمشرقی پاکستان، بلوچستان اورصوبہ سرحد(اب خیبرپختونخوا)میں بغاوت کے جذبات کو تقویت دے کران کوعلیحدہ ریاستوں میں تبدیل کرناتھا۔ اس منصوبے کو’’کاؤپلان‘‘کانام دیاگیا۔ باوثوق شہادتوں کے مطابق شیخ مجیب الرحمن بھارتی خفیہ ایجنسی سے 25ہزار روپے ماہانہ وصول کرتا تھا۔حسینہ واجدنے مجیب کی یادداشتوں پرمبنی کتاب میں تسلیم کیاہے کہ مجیب الرحمن نے بنگلہ دیش کی آزادی کے لئے ایک خفیہ تنظیم قائم کررکھی تھی۔اگرتلہ سازش کیس بے بنیادنہ تھا جو سیاسی مصلحتوں کی نذرہوگیا۔
کون نہیں جانتاکہ عمران خان کی سیاسی پرورش کیسے ہوئی اورکن ہاتھوں نے اسے تیارکرکے اپنے مقاصدکے لئے میدان میں اتارا۔2014 ء کے طویل دھرنے کے وقت ہی تمام حقائق سامنے آناشروع ہوگئے تھے اوراس سلسلے میں باقاعدہ طورپرکئی ہزار افرادکوباقاعدہ تنخواہ پرسوشل میڈیاکے لئے استعمال کی تربیت دی گئی گئی اوریہ کام صرف اندرونِ ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں بھی بڑی رازداری کے ساتھ سرانجام دیاگیا۔پاکستان کے سیاسی تاریخ میں عمران خان بلامبالغہ اسٹبلشمنٹ کاسب سے چہیتاقریبی باخبر اور بااعتماد وزیراعظم بن گیا۔جتنی بریفنگ میٹنگزاور معلومات عمران کوملٹری اسٹبلشمنٹ اورملکی خطرات کے بارے میں ہیں،ممکن نہیں کہ موجودہ سیاستدانوں میں کسی اورکے پاس ہوں کیونکہ عمران کوایک سویلین اورسیاسی لیڈرکی بجائے ایک ملٹری لیڈرکی طرح سسٹم کاحصہ بناکررکھاگیاتھا۔جس کے لئے پہلی بارایک سیاسی لیڈرکے لئے ہرادارے کومجبورکیاگیا تھاکہ وہ ہروہ کام کرے جس سے عمران کی شخصیت پارٹی اورمقاصد کاحصول سہل ترہوجائے۔
کل کی بات ہے کہ پہلی دفعہ اس کی خاطرخود جنرل باجوہ اوراس کے فوجی رفقاکھلم کھلامہینے میں چھ چھ بارمیڈیا کومثبت رپورٹنگ کی ہدایات دیاکرتے تھے۔ اس لئے مجھ جیسے کئی افراد کے لئے عمران خان کے اس انٹرویوکونظراندازکرناممکن نہیں تھا جس میں عمران خان نے سمیع ابراہیم کے ساتھ (فکسڈانٹرویو میں)ملک کے دیوالیہ ہونے،اس سے ہمارے سب سے مضبوط فوج کے ادارے کامتاثر ہونے،اس کے بدلے میں یوکرین کی طرح ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردارہونے اوراس کے نتیجے میں خدانخواستہ ملک کے تین ٹکڑے ہونے کا خدشہ ظاہرکیاتھا۔یقیناعمران اس انٹرویوسے جہاں اپنے بیرونی آقائوں کی نظرمیں وفاداری کاپیغام دے رہاتھاوہاں مضبوط فوجی ادارے پربھی اپناخوف قائم کرنے کی کوشش کررہا تھالیکن بظاہرجنرل باجوہ اوردیگراہم عسکری عہدیداروں کویہ یقین دلاتارہاکہ وہ دراصل قوم کواپنی فوج کی اہمیت واحترام بڑھانے کے لئے بیان دے رہاہے ۔
آئیے! اب اس تناظرمیں9مئی کے واقعات کوسمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔جب آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی کے معاملے میں عمران نے اپنی من مانی اورمداخلت کرتے ہوئے ادارے کی سلامتی کوکئی خطرات سے دوچارکردیااوروہاں سے جنرل باجوہ اوردیگران عسکری رفقاء کوایک شدیدجھٹکالگااوراس وقت اس خطرے سے جان چھڑانے کے لئے طے پاگیاکہ اپنے ہاتھ کی لگائی ہوئی گرہ کودانت سے کھولنے کاوقت آگیاہے۔ ادھرعمران نے بھی جنرل باجوہ اوراس کے ساتھیوں کوبرسرعام جلسوں میں میرجعفراورمیرصادق کے لقاب سے پکارنا شروع کردیا۔عمران کوسوشل میڈیاکی جانب سے شہرت کی جن بلندیوں پردکھایا گیا،اس سے خودعمران کویہ غلط فہمی ہوگئی کہ جس طرح ترکی میں عوام نے فوجی بغاوت کوکچل دیا،اب ایسا ہی عمل وہ پاکستان میں لانے میں کامیاب ہوجائیں گے جس کے بعداگلے پندرہ سال تک جنرل فیض حمیدکے ساتھ طے کردہ پلان پرعمل کرنابہت ہی آسان ہوجائے گااوراس کے لئے یقینابیرونی آقابھی درپردہ ان کااسی طرح ساتھ دیں گے جس طرح الجزائراور مصرمیں دیاگیالیکن عمران خان یہ بھول گئے کہ ترکی میں توفوج نے منتخب حکومت کوگرانے کے لئے راست اقدام کیاجس کوعوام نے ناکام بنایالیکن یہاں تو عمران نے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ منصوبہ بندی کرتے ہوئے ۹مئی کاپلان تیارکیاکہ اس پرکوئی حرف نہ آئے جس کے لئے وہ جیل چلاگیالیکن اگلے ہی دن جب عدالت میں پیشی ہوئی تومیڈیاکے سامنے سینہ پھلاکربیان داغ دیاکہ مجھے اگرپھرگرفتارکیاجائے گاتواس سے کہیں زیادہ شدید ردعمل آئے گا۔
اگرآپ کویادہوتوپاکستان کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کانظریہ ریٹائرڈلیفٹیننٹ کرنل پیٹررالف نے امریکی فوج کے میگزین میں 2006 ء میں اپنے ایک مضمون’’بلڈبارڈرز، ہاؤ اے بیٹرمڈل ایسٹ ووڈ لک‘‘مجوزہ نقشے کی صورت میں چھاپاتھا۔
پیٹررالف کے آرٹیکل اورمجوزہ نقشے(جس کوٹرائیکاکی مکمل پشت پناہی حاصل تھی)کے مطابق مسلم دنیاکے تین اہم امریکی اتحادی ممالک یعنی ترکی سعودی عرب اورپاکستان نئے نقشے کے مطابق بڑی تبدیلیوں سے گزارکرکئی ٹکڑوں میں تقسیم دکھائے گئے ہیں۔ترکی سے بڑاعلاقہ کاٹ کرکردستان کانیاملک تخلیق کیاگیا، سعودی عرب کے تین ٹکڑے کرکے شیعہ ملک، مقدس سرزمین اورسعودی عرب بنائے گئے ہیں،جبکہ پاکستان کودریائے سندھ کے کنارے کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹے ملک کے طورپردکھایاگیاجس کے جنوبی علاقہ آزاد بلوچستان اورشمالی علاقے افغانستان کودیے گئے ہیں۔
یادرکھیں جب جسم کا ایک حصہ کمزورپڑجائے تواس پربیماریاں حملہ آورہوجاتی ہیں۔اب وقت آگیاہے کہ ہم اپنی غلطیوں کوسامنے رکھتے ہوئے اور اغیارکی سازشوں اورریاکاریوں کوسمجھنے کے لئے جہاں اپنی سیاست کے معیارقائم کریں،وہاں اپنوں میں موجودایسے عناصرکوسختی سے دبائیں جووطن پرستی کوختم کرنے کاباعث بنتے ہیں۔آج وہ خطرناک مرحلہ آچکا ہے جب نحیف ونزارمریض زندگی کی ڈورسلامت رکھنے کے لئے اس پو شیدہ قوت پرانحصارکرتاہے جواس کے جسم میں بجلی کی سی طاقت بھردیتی ہے۔گونگے،بہرے اوراندھے بھی اس نازک دورکی شدت سے کچھ کرگزرنے کوتیار ہوجائیں توجن کواللہ نے تمام ترتوانائیوں سے نواز رکھاہے ان کواپنی صلاحیتوں سے بھرپورفائدہ اٹھا نے سے کس نے روک رکھاہے؟
مسلمانان پاکستان نے اگرآج اپنی اس طاقت کے رازکوپالیاجس کانام ایمان ہے اوراس کوپختہ کرلیاتویہ وہ مورچہ ہے جس میں پناہ لینے والوں کے لئے دائمی فتح کی خوشخبریاں ہیں۔ارضِ وطن کی سلامتی کے لئے ہراس مجرم کوکیفرکردارتک پہنچاناضروری ہے جنہوں نے اس ملک کے ساتھ ایسابھیانک کھلواڑکیاکہ شہدا تک کونہیں بخشاگیا۔
پیڑاسی احساس سے مرتے جاتے ہیں
سارے پرندے ہجرت کرتے جاتے ہیں

یہ بھی پڑھیں