Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

نیم حکیم خطرہ جاں

مشہور ضرب المثل ہے نیم حکیم خطرہ جاں مراد یہ کہ ناتجربہ کار سے ہمیشہ کام بگڑنے کا اندیشہ رہتا ہے اور ایسا شخص جوکسی سند،ڈگری اور تجربے کے بغیرطب جیسے پیشے سے جڑ جائے تو اندازہ کیجئے کتنی انسانی زندگیاں خطرے میں پڑسکتی ہیں؟طب جیسے پیشے سے ایسے لوگ بھی منسلک ہیں جوکوالیفائیڈ نہیں،پھر بھی اس مقدس پیشےکو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ڈگری اورکسی تجربےکےبغیر لوگوں کاعلاج کررہے ہیں۔انہیں پوچھنےوالا کوئی نہیں ۔ ان کے باعث انسانی زندگیوں کو جوشدیدخطرات لاحق ہیں،اس کاسدباب اگرچہ انتظامیہ اور حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن کماحقہ وہ اس ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو رہے۔یہ دور سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کادور ہےجو آئے روز عطائی ڈاکٹروں اورجعلی حکیموں کی حقیقت کا پردہ چاک کرتارہتا ہے۔پرنٹ میڈیابھی اس تحریک میں پیچھے نہیں۔تاہم انسانی جانوں سے کھیلنے والوں سے حساب کون لےگا؟کسی کو پتہ نہیں۔ کارروائی کرنے والے ادارے بھی ان کے سامنے بےبس دکھائی دیتے ہیں۔یہی وجہ ہےکہ جعلی لوگوں کی چاندی ہے۔وہ کسی خوف اور ڈرکے بغیر اپنا یہ قبیح کاروبار چلائے ہوئے ہیں۔ بچپن میں بس میں سفر کرتے ہوئے کھڑکی سے باہر نظر پڑتی توجابجادیواروں پرتواترسےچند جملے لکھے نظر آئے نقالوں سے ہوشیار ، جعل سازوں سے خبردار۔ سکول میں پڑھائی کے دوران مختلف نصابی کتب چھاپنے والوں کی جانب سے ٹیسٹ اور گیس پیپرز تیار کئے جاتے جنہیں اکثر طالب علم نقل کے لیئے استعمال کرتے۔ان ٹیسٹ پیپرز کے پہلے اور آخری صفحے پر بڑے جلی حروف میں خبردار کیا جاتا کہ یہ ٹیسٹ پیپر فلاں ادارے کا شائع کردہ ہے لہذا نقالوں سے ہوشیار،جعل سازوں سے خبردار رہیے۔ سڑک کنارے بیٹھے دنداں ساز زیادہ اہتمام سےتحریر کراتے کہ جعلی دنداں سازوں سے ہوشیار مردوں کے مخصوص امراض کے لیئے دیواروں پر لکھوایا جاتا کہ اِدھر ادھر نہ جائیے، سیدھے ہمارے پاس آئیے۔آپ کے تمام پوشیدہ امراض کا علاج صرف ہمارے پاس ہے اور مزید یہ کہ نقالوں اور جعل سازوں سے ہوشیار رہیے۔ المیہ یہ ہے کہ معاملہ فقط ٹیسٹ پیپرز،دنداں ساز اور پوشیدہ امراض کے ماہروں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اتنا وسیع ہوا کہ ڈاکٹروں،انجینئروں کی جعلی ڈگریوں اورجہاز اڑانے والے پائلٹوں کے جعلی لائسنسوں تک پھیل گیا اور یہی حال اب ہر شعبہ ہائے زندگی میں نظر آتا ہے۔طب کے شعبے کا تو برا ہی حال ہے جس میں جعلی حکیموں اور عطائی ڈاکٹروں نے ڈیرے جمالئے ہیں۔علاج معالجے کے نام پر بہت ہی مکروہ دھندے میں مصروف ہیں۔ان کی وجہ سے بے شمار لوگ اپنی زندگیاں گنوا بیٹھے ہیں۔ بہت سے ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے ہیں۔سندھ اس وقت سب سے زیادہ جعلی حکیموں اور عطائی ڈاکٹروں کے نرغے میں ہے۔عمر کوٹ بھی ان میں سے ایک ہے جو عطائیوں سے اب تک نجات نہیں پا سکا۔میڈیا کی توجہ دلانے کے باوجود عطائی ڈاکٹروں کا مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔ عمر کوٹ سے پندرہ کلومیٹر دور گائوں ولید اپلی میں ایک چھوٹے سے کمرے میں پرانا ٹیبل، کرسی، بینچ اور کونے میں دواخانہ ہے۔یہ ایک ہندو عطائی ڈاکٹر تیرتھ کمار کا کلینک ہے۔ جو کسی طبی ادارے سے تربیت یافتہ نہیں۔اس کا کل اثاثہ وہ چند ماہ ہیں جو اس نے ایک ڈاکٹر کے کلینک پر گزارے۔ایک مقامی صحافی تیرتھ کے کلینک پر پہنچا تو وہ ایک مریض کو انجکشن لگا رہا تھا۔ تیرتھ کے مطابق اس کے پاس زیادہ تر اسہال اور بخار میں مبتلا مریض آتے ہیں۔مریضوں کے پاس پیسے ہوں تو یقینا وہ علاج کے لئے شہر کے کسی ایم بی بی ایس ڈاکٹر کے کلینک کا رخ کریں لیکن تیرتھ کاکہنا تھا وہ صرف 50 روپے میں اسہال اور بخار میں مبتلا مریض ٹھیک کر دیتا ہے۔ ایسے میں کسی کو کیا ضرورت پڑی کہ وہ علاج کے لئے کسی ایم بی بی ایس ڈاکٹر سے رجوع کرےاور ہزار روپیہ بھی دے۔پاکستان میں ڈاکٹروں کی تنظیم پی ایم اے کا دعوی ہے کہ سندھ میں دو لاکھ عطائی ڈاکٹر ہیں۔ہر عطائی ڈاکٹر کے پاس اگر روزانہ دس مریض آئیں تو اس بنیاد پر مریضوں کی روزانہ تعداد 20 لاکھ بنتی ہے۔ملک بھر میں عطائی ڈاکٹروں اور جعلی حکیموں سے رجوع کرنے کی اصل وجہ یہ سامنے آئی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں سستا علاج اگرچہ ضرور موجود ہے لیکن سرکاری ہسپتال تک پہنچنے کے لیے مریض کو کرایہ کی مد میں بہت زیادہ پیسےخرچ کرنے پڑتے ہیں۔اتنا کرایہ لگ جاتا ہے کہ اسے کسی عطائی ڈاکٹر کے پاس جانا ہی پڑتا ہے۔ملک میں نافذ العمل قانون کے مطابق رجسٹرڈ معالجین کے علاوہ کوئی بھی شخص کسی کا علاج کرنے کا مجاز نہیں لیکن پاکستان میں عطائیوں کا یہ دھندہ کئی دہائیوں سے ہو رہا ہے۔جب تک حکومت اس طرف توجہ نہیں دے گی،علاج معالجے کے نام پرجعلی حکیموں اور عطائی ڈاکٹروں کا یہ قبیح دھندہ اسی طرح جاری رہے گا۔جہاں تک جعلی حکیموں کی بات ہے تو وہ بھی کسی خطرہ جاں سے کم نہیں،ان کے دیئے کشتوں سے لوگوں کے گردے فیل ہو جاتے ہیں۔کئی جانوں سے ہی ہاتھ دھو چکے ہیں۔یہ جعلی حکیم شہروں کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔اگرچہ کہا جاتا ہے کہ جڑی بوٹیوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا،لیکن چونکہ ان جعلی حکیموں نے کوئی تربیت حاصل نہیں کی ہوتی لہٰذا ان سے نقصان کا ہر وقت احتمال رہتا ہے۔قانون موجود ہے کہ عطائی ڈاکٹر اینٹی بائیوٹکس سمیت کسی بھی خطرناک دوا کا نسخہ نہیں لکھ سکتا۔ایساکرتا ہے تو قانون کی خلاف ورزی پر اسے ایک سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔مجاز عدالت جرمانہ بھی عائد کر سکتی ہے۔اگرچہ عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کئی مقامات پر کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے،لیکن اس کے بعد پھر سب کچھ معمول پرآجاتا ہے اور یہ عطائی ڈاکٹر پھر سے اپنا دھندہ شروع کر دیتے ہیں۔ان کے غلط علاج سے جس طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں وہ سماج کی ابتر صورت حال کا ایک بھیانک رخ ہے۔اس تحریر اور ساری گفتگو سے ایک ہی چیز اخذ کی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں قانون تو موجود ہے لیکن اس کی عملداری نہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس دھندے پر آج تک قابو نہیں پایاجاسکا۔ہم ایسا ملک ہیں جہاں جس کا جو جی چاہتا ہے،کرتا ہے۔قانون اجازت دے،نہ دے لیکن ڈنکے کی چوٹ پر یہاں سب کچھ ہوتا ہے۔ڈرگ انسپکٹرز پر لگنے والے اس الزام میں کافی وزن ہے کہ وہ رشوت کےعوض ہر اس جگہ سے اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں جہاں کچھ بھی غلط ہو رہا ہو۔جب تک بنے ضابطے بروئے کار نہیں لائے جاتے،جو ہو رہا ہے،اسی طرح ہوتا رہے گا۔ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں