سیاست کا فلسفہ بھی عجیب ہے۔اس میں کسی پڑھائی لکھائی یا ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔کوئی بھی کسی رکاوٹ کے بغیر کامیاب ترین سیاستدان بن سکتا ہے۔گزشتہ 76 سالوں سے ہم پاکستان کی سیاست کو دیکھ رہے ہیں۔ان دہائیوں میں آج تک یہ باور نہیں کرسکے کہ سیاست کا فلسفہ ہے کیا؟ سیاست میں تقسیم در تقسیم کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔سیاست کو ہم ایک ایسی پگڈنڈی پر لے آئے ہیں جس کی کوئی منزل نہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان میں 251 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔یہ بہت بڑی تعداد ہے۔ ناموں کی فہرست الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ پر موجود ہے جسے دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ووٹرز کی تعداد جہاں 12 کروڑ کچھ لاکھ ہو،وہاں اتنی جماعتیں الیکشن کے لیئے اہل ہوں۔کسی اور ایشیائی یا مغربی ملک میں سیاسی جماعتوں کا ایسا چلن نہیں دیکھا۔بیرونی ممالک ایسی کسی جماعت کو الیکشن کے لیے رجسٹر نہیں کیا جاتا جو عوامی پذیرائی سے محروم ہو لیکن پاکستان میں الیکشن کمیشن کی فہرست میں ایسے بھی نام شامل ہیں جن سےشاید ہی کوئی آشنا ہو۔ بہت بڑی تعدادمیں جماعتوں کا اس طرح الیکشن کمیشن میں رجسٹر ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جماعتیں اقتدار میں آنے پر تو یقین رکھتی ہیں لیکن اگر اقتدار مل جائے تو اپنے منشور پر کھڑی نہیں رہتیں۔سیاست کا المیہ ہے کہ بڑی جماعتوں کو الیکشن نتائج کے بعد اکثر اوقات اقتدار حاصل کرنے کے لیےچھوٹی جماعتوں کا سہارالینا پڑتا ہے۔اسمبلی میں مطلوبہ تعداد پوری کرنےکےلیے اکثر دو،تین چھوٹی جماعتیں بڑی جماعت کو پاور میں لانے کے لیے اس کی حلیف بن جاتی ہیں۔اس لیئے ایک نئی رسہ کشی کا آغاز ہوتا ہے پھر مفادات کی دوڑ میں بہت کچھ گنوا دیا جاتا ہے۔ بلیک میلنگ کی نئی تاریخ رقم کی جاتی ہےجس سے نہ حکومت چلتی ہے،نہ ریاست کا کاروبار۔جن بھی ملکوں میں،خاص طور پرمغربی ممالک میں،جہاں دوجماعتی سیاسی نظام موجود ہے،بدامنی کی ایسی کوئی مثال دیکھنے میں نہیں آتی جس کے نظائر ہمیں یہاں ملتے ہیں۔ذاتی طور پر سمجھتا ہوں پاکستان میں بھی اگر دو جماعتی سیاسی نظام قائم کر دیا جائے اور چند سیٹوں والی جماعتوں پر الیکشن میں حصہ لینے پر مکمل پابندی ہو تو پھر شاید ہمارے سیاسی حالات میں کچھ بہتری دیکھنے کو ملے۔پاکستان میں اس وقت نیشنل لیول کی تین بڑی سیاسی جماعتیں ہیں جن میں ایک پاکستان مسلم لیگ (ن) ‘دوسری پاکستان پیپلز پارٹی اور تیسری پاکستان تحریک انصاف ہیں۔اگرچہ جمعیت علمائے اسلام(ف) ،اے این پی،ایم کیو ایم پاکستان اور پاکستان مسلم لیگ (ق) بھی ہمیشہ الیکشن کا حصہ ہوتی ہیں لیکن ان جماعتوں کو آپ قومی سطح کی جماعتیں نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان جماعتوں کو صوبائی سطح پر ہی پذیرائی حاصل ہے۔اس لیے ووٹ بھی تقسیم ہوتے ہیں اور سیٹیں بھی۔سیٹیں قومی کی ہوں یا صوبائی کی،حکومت سازی پر بہت فرق پڑتا ہے۔ معیشت چلانے کے لیے ہمیں آئی ایم ایف،ورلڈ بینک و دیگر آرگنائزیشن اور ملکوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔بیرونی قرض سے وقتی طور پر ہم معیشت تو چلا لیتے ہیں لیکن سود کے ساتھ یہ بوجھ اتارنے کے لیے ہمیں جو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اس کا حال کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔اس وقت مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی اور چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر وفاق میں حکومت بنا رکھی ہے۔پنجاب میں بھی انہی کی حکومت قائم ہےجبکہ پیپلز پارٹی اس طرح سے شریک اقتدار ہے کہ وزارتیں حاصل کرنے کے بجائے وفاق اور دو صوبوں میں بڑے آئینی عہدے لے رکھے ہیں۔پیپلز پارٹی اس لیے وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں بنی کہ اس کاخیال تھا پاکستان کی معیشت کا جوحال ہے،یہ حال ایسے ہی رہا،معیشت پہلے سے بھی برے حال کو پہنچ گئی تو ان کی سیاست کا کیا بنے گا،مگر اب چونکہ معیشت سنبھل رہی ہے،روپیہ مستحکم ہونا شروع ہو گیا ہےتو لگتا ہے ایسے میں پیپلز پارٹی آنے والے دنوں میں وفاقی کابینہ کا حصہ بن جائے گی۔سندھ کی بات ہو یا بلوچستان کی،وہاں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومتیں قائم ہیں پارٹی کی کوشش ہے کم ازکم سندھ میں اپنے ووٹرز کو مایوس نہ کرے۔یہ پالیسی صوبہ پنجاب میں ن لیگ کی بھی ہے۔جہاں مریم نواز وزیراعلی کی حیثیت سےصوبے کی بھلائی کے کاموں میں دن رات مصروف ہیں۔گزشتہ تین ماہ سےہم انہیں نئے پراجیکٹس کا افتتاح کرتے دیکھ رہے ہیں۔سرکاری ہسپتالوں کو وہ ناصرف بہتربنارہی ہیں بلکہ نئےہاسپٹلز کے قیام کے لیے بھی بہت زیادہ سرگرم ہیں۔انہوں نے نواز شریف آئی ٹی سٹی کا بھی افتتاح کردیا ہے۔ مہنگائی کو بھی کافی حد تک کنٹرول کیا گیا ہے اور مزید بھی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اجناس کی قیمتیں کافی کم سطح پر آئی ہیں۔لوگ بجلی،گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں بھی کمی کے خواہاں ہیں۔اگرچہ یہ پراجیکٹ وفاقی حکومت کا ہےلیکن مریم نواز کی خواہش ہے کہ بجلی،گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں بھی کمی ہو۔اس سلسلے میں وہ وفاقی حکومت سے رابطے میں ہیں۔ایسا ہوجاتا ہے تو صرف پنجاب نہیں پورے ملک میں ن لیگ کی سیاست کو فائدہ پہنچے گا۔سندھ میں پیپلز پارٹی نے کئی عوامی فلاح کے منصوبے شروع کئے ہیں۔جس سے یقینا پیپلز پارٹی کو آئندہ الیکشن میں فائدہ پہنچے گا۔جہاں تک پاکستان تحریک انصاف کامعاملہ ہے جب تک اسٹیبلشمنٹ ان سے راضی نہیں ہوتی۔تحریک انصاف کی سیاست اسی طرح مخمصے کا شکار رہے گی۔پاکستانی سیاست کو ہر طرح کی آلودگی سے پاک کرنے کے لیئے ہمیں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔سیاست صحیح سمت پر چل نکلی تو ہم بہت کچھ ٹھیک ہوتا دیکھیں گے۔