Search
Close this search box.
بدھ ,15 جولائی ,2026ء

پاکستان میں اداروں کا ٹکرا ئواور مصر ماڈل

پاکستان کا یہ ایک دیرینہ المیہ ہے کہ ہر چند عشروں کے بعد اداروں میں ایک خوفناک قسم کا ٹکرائو جنم لیتا ہے جس کے نتیجے میں ملکی نظام سیاست و معیشت کو ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑجاتا ہے ، ملک میں اداروں کے ٹکرائو کے جتنے بھی سابقہ تجربات کیئے گئے ان سب کا ایک ہی نتیجہ نکلا اور وہ یہ تھا کہ قوت مقتدرہ ہی غالب رہی ، اس لئے اگر یہ کہا جائے توبے جا نہیں ہوگا کہ اس حوالے سے ایک اور تجربہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، کہ نتیجہ جب وہی پرانا ہی نکلنا ہے تو پھر ایک اور سعی رائیگاں چہ معنی دارد ؟
ہزاروں سالوں سے چشم فلک نے ہمیشہ یہی منظر دیکھا ہے کہ جب قوت و طاقت بروئے کار آنے کا فیصلہ کر لیتی ہے تو پھر عقل حکیم کی ایک نہیں چلتی۔ شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال رحمتہ علیہ کی مشہور نظم “اہل مصر سے” میں اس باریک نکتے کو بہت کھول کر بیان کیا گیا ہے، فرمایا۔
خود ابوالہول نے یہ نکتہ سِکھایا مجھ کو
وہ ابوالہول کہ ہے صاحبِ اسرارِ قدیم
دفعتہ جس سے بدل جاتی ہے تقدیرِ امم
ہے وہ قوت کہ حریف اس کی نہیں عقلِ حکیم
ہر زمانے میں دِگر گوں ہے طبیعت اس کی
کبھی شمشیرِ محمدﷺ ہے، کبھی چوبِ کِلیم!
کیسا دلچسپ اتفاق ہے کہ شاعر مشرق نے بھی عقل حکیم اور قوت و طاقت کے درمیان اس “کشتی” کا نتیجہ اپنی نظم “اہل مصر سے ” میں بیان کیا ہے اور پاکستان میں اداروں کے درمیان ایک بار پھر جو ٹکرا جاری ہے ، اس کے حوالے سے بھی پاکستان میں مصر ماڈل کی بازگشت شروع ہو گئی ہے ۔
معیشت ہو ، سیاست ہو ، حکومت ہو یا پھر عدلیہ ، ہمارے ہاں ہر شعبے میں یہ ایک عجیب کلچر پھیل گیا ہے کہ ہم اپنے پاس موجود دولت ، سیاسی طاقت ، حکومتی وسائل اور عدالتی اختیارات کے بہترین استعمال کے ذریعے ملک و قوم کی خدمت پر توجہ مرکوز نہیں کرتے بلکہ اپنی توانائیوں کا بڑا حصہ مزید دولت ، مزید سیاسی طاقت ، مزید حکومتی وسائل اور مزید عدالتی اختیارات حاصل کرنے کی محاذ آرائی میں جھونک دیتے ہیں ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم جو خدمت کر سکتے ہیں اس کے بھی قابل نہیں رہتے اور اپنا جو فرض ادا کرسکتے ہیں وہ بھی انجام نہیں دے سکتے ۔ صدیوں کے تجربات کانچوڑ ہے کہ حقیقی اقتدار کا سر چشمہ قوت قاہرہ ہے عقل حکیم نہیں ، اس کے باوجود اگر کچھ شخصیات نوک قلم سے نوک شمشیر والا کام لینا چاہتی ہیں تو اس سادگی پر کیا کہا جا سکتا ہے،لاہور کے عظیم صوفی شاعر شاہ حسین نے اس دریا کو کوزے میں بند کردیا اورفرمایا
کہے حسین فقیر سائیں دا ، تخت نہ ملدے منگے
اگر آپ ہمالیہ میں پہناجانے والا لباس چولستان میں پہنیں گے تو اپنی جان خود ہی عذاب میں ڈالیں گے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ امریکہ و برطانیہ سمیت دنیا کےبڑےجمہوری ممالک کا نظام حکومت و ریاست صدیوں کی داخلی کشمکش کی بھٹی میں کندن بن کرموجودہ مقام تک پہنچا ہے،اگر ہم ایک ہی جست میں یہ طویل فاصلہ طےکرنے کی کوشش کریں گے تو نتیجہ کیا نکلے گا ؟ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے ۔ معزز عدلیہ کی جو شخصیات مہم جوئی پر تلی ہیں انہیں اپنے آپ پر اور 25 کروڑ عوام پر رحم کھانا چاہیئے کہ ہم سب پہلے ہی ناقابلِ بیان صدمات سے دوچار ہیں اس لیئے کسی نئے المیے کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ ہمیں اہل مصر سے اور مصر ماڈل سے ہی سبق لے لینا چاہیئے کہ سیانے کہتے ہیں کہ خود تجربے کی بھٹی میں جلنے سے بہتر ہے کہ دوسروں کے تجربے سے سبق حاصل کر لیا جائے ۔ یہ ایک اوپن سیکرٹ ہے کہ ہماری اعلی عدلیہ اور ماتحت عدالتوں کے پاس کرنے کا بہت کام ہے اور ایک کھلا میدان انہیں دعوت مبازرت دے رہا ہے ، ایک فیصد سیاسی مقدمات کی دلدل میں دھنسے کی بجائے ہماری عدالتیں 99 فیصد غیر سیاسی کیسز نمٹانے پر توجہ دینا شروع کر دیں تو انہیں بھی مفت کی ٹینشن سے نجات مل جائے گی اور عوام بھی دعائیں دیں گے کہ جوڈیشل ایکٹو ازم کے موجودہ رحجان کی وجہ سے عام آدمی کے لاکھوں کیسز عرصہ دراز سے طاق نسیاں پر رکھے معزز جج صاحبان کی توجہ کے منتظر ہیں۔
جولائی 2022 میں عدالتی نظام کی عالمی رینکنگ جاری کی گئی تو 139 ممالک میں پاکستان کا نمبر 130واں تھا ، اس قدر افسوسناک صورتحال پر پورے ملک میں ہاہاکار مچ گئی ، خیال تھا کہ اب عدلیہ کو اپنی حالت سدھارنے کا خیال آ جائے گا اور وہ سیاسی اہمیت کے کیسز کی سماعت کو ترجیح دینے اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر فیصلے دینے کی دلدل سے باہر نکلے گی اور ان ہزاروں لاکھوں سول اینڈ کریمنل کیسز کی طرف توجہ دے کر عوام کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرنے کو اپنی پہلی ترجیح بنا لے جو کئی عشروں سے مسلسل نظر انداز ہو رہے ہیں۔ عالمی رینکنگ کے حوالے سے رپورٹ جاری کرنے والے ادارے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ نے 4 اصولوں احتساب ، قانون ہی حرف آخر ، کھلی و شفاف حکومت اور ہر فرد کیلئے قابل رسائی غیر جانبدارانہ انصاف کی بنیاد پر رینکنگ تیار کی ، اور انڈیکس میں شامل دنیا کے تمام ممالک میں قانون کی حکمرانی کی پیمائش 9 عوامل کی بنیاد پر کی گئی جو یہ تھے ۔ حکومتی طاقت پر پابندیاں ، کرپشن سے پاک ، کھلی و شفاف حکومت ، بنیادی حقوق ، سلامتی و امن و امان ، ریگولیٹری انفورسمنٹ ، سول انصاف ، فوجداری انصاف اور غیر روایتی انصاف۔ ہمارے ہاں اپنی کمزوریاں اور کوتاہیاں دوسروں کے کھاتے میں ڈال کر بری الذمہ ہونے کا کلچر عام ہے اور ملک کی اعلی و ماتحت عدلیہ بھی آخر کار ہم میں سے ہی ہے ، اس لیے پاکستان کے نظام انصاف کی اس حالت زار کی تمام تر ذمہ داری حکومت و ریاست کی مداخلت پر ڈال کرجان چھڑا لی گئی ، حالانکہ یہ ایک اوپن سیکرٹ ہے کہ حکومتوں و ریاست کی طرف سے جو مداخلت کی جاتی رہی ہے وہ ملک بھر کی ماتحت عدلیہ اور اعلی عدالتوں میں زیر سماعت کل کیسز کا ایک فیصد بھی نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں