پولیس،سرکار(حکومت)کاذیلی ادارہ ہےجس کا کام جرائم کی روک تھام اور امن و امان کی صورت حال کو برقرار اورقابو میں رکھنا ہے۔پولیس اپنے فرائض پولیس آرڈر 2002 ء کے تحت ادا کرتی ہے۔پولیس آرڈر 2002ء چاروں صوبوں میں نافذالعمل ہے۔پولیس کی ذمہ داری ہےکہ وہ قانون کی پاسداری کرے۔پولیس رولزمیں انکے جو فرائض اورذمہ داریاں ہیں،انہیں احسن طریقے سےپورا کرےلیکن ایسا کم ہی ہوا ہے اور انہیں کم ہی اپنے رولز کی پاسداری کرتے دیکھا گیا ہے۔ پولیس کےبارے میں بہت زیادہ شکایات پائی جاتی ہیں۔حکومتی کمپلینٹ سیل میں سب سے زیادہ شکایات محکمہ پولیس کے بارے میں ہی درج کی جاتی ہیں۔بہت سے پولیس مقابلےبھی پولیس کے کھاتےمیں شامل ہیں۔ہرمقابلےکی اپنی الگ کہانی ہے۔زیر حراست ملزمان کے ساتھ تھانوں میں جو غیر مہذبانہ سلوک کیا جاتا ہے وہ رونگٹے کھڑی کر دینے والی داستانیں ہیں جو کسی سے بھی پوشیدہ نہیں۔سیاسی جماعتوں کے برسر اقتدار آنے سے پہلے بہت سے وعدے ہوتے ہیں کہ اقتدار میں آ کر یہ کریں گے،وہ کریں گے۔پولیس کلچر کو بدل دیں گےمگر ایسا نہیں ہوتا۔پولیس کے حوالے سے شکایات کے انبار ہیں لیکن ازالے کا نہیں سوچا جاتا۔نہ کوئی ایسا عملی قدم اٹھایاجاتا ہے کہ پولیس کا رویہ تبدیل ہو اور اس میں بہتری آئے۔پولیس کسی بھی قوم یامعاشرے کی اصلاح و فلاح اورترقی کا اہم ترین ادارہ سمجھا جاتا ہے۔اس کے قیام کا مقصد معاشرے سے جرائم اور خلاف قانون ہونے والی سرگرمیوں کو ختم کرنا ہےتاکہ معاشرہ کامیابی و کامرانی کی منازل طے کرکے امن و امان اور راحت و اطمینان کا ذریعہ بنے۔پولیس کا محکمہ جتنا مضبوط اور مستحکم ہو گا لوگوں کی جان و مال،عزت و آبرو اور تشخص اتناہی محفوظ رہے گا۔صدیوں پر محیط انسانی تاریخ ظاہرکرتی ہےکہ پولیس معاشرے سےجرائم کےخاتمے،امن کےقیام اورقانون کی بالادستی کے لیےحتی المقدوراپنا کردار اداکرتی رہی ہےجس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید وسعت اور بہتری آئی ہے۔آج تک کوئی بھی ادارہ اس کی جگہ نہیں لے سکاالبتہ سہولت کاری کے لیے ریاست کے مختلف ادارے،پولیس کی معاونت ضرور کرتے رہے ہیں۔ایک عرصہ سے پاکستان میں جرائم،امن و امان کی جو صورت حال ہے اور گھمبیر سیاسی صورت حال کے باعث جنگ و جدل کی آماجگاہ بنے۔پاکستان میں پولیس کی ذمہ داریوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق اس قومی ادارے کو مناسب وسائل کی فراہمی،تربیت کی مناسب سہولتیں میسر نہیں۔پوسٹنگ، ٹرانسفرز بھی اشرافیہ اور سیاسی بنیادوں پرحکومتی احکامات کی مرہون منت ہوتی ہیں۔اس المیے کی طرف سندھ اور پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کئی بار توجہ دلاچکے ہیں۔حالیہ سالوں کے دوران ملک میں عمومی طورپرامن وامان کی صورتحال میں بہتری آئی ہےکیونکہ مذہبی انتہا پسندوں،دہشت گردوں اورجرائم پیشہ عناصرکے خاتمے کےلیےریاست نےپوری قوم کی ٹھوس حمایت کے ذریعےموثر اقدامات اٹھائے ہیں۔
پنجاب کےعلاوہ دیگرصوبوں میں بھی پولیس آرڈر 2002 ء پرکافی حدتک عملدرآمد ہو رہا ہے۔جب تک پولیس کو سیاسی اثرورسوخ اورہرقسم کےدبائو سےباہرنہیں نکالاجاتا،پولیس مکمل ، آزاد نہیں ہوجاتی۔ہم اس سےاچھےاوربہتر کاموں کی توقع نہیں رکھ سکتے۔اچھے وقتوں میں پولیس سروس آف پاکستان کوناصرف اندرون ملک بلکہ عالمی سطح پربھی اچھی شہرت کاحامل پاکستانی ادارہ تسلیم کیاجاتاتھاجس سےوابستہ افسران بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک میں فساد کے خاتمے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں تاہم کمزور جمہوری حکومتوں اور آمروں کی مداخلت کے نتیجے میں زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح پولیس کا ادارہ بھی روبہ زوال ہوا۔وسائل کی کمی سے نت نئی مشکلات سامنے آرہی ہیں۔سیاسی مداخلت نےبھی پولیس کے محکمے کو کہیں کانہیں چھوڑا۔اس مداخلت سے اس کا امیج اور مورال بری طرح متاثر ہوا ہے۔
(جاری ہے)