Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

بھٹو خاندان کی حقیقت

پاکستانی سیاست میں ہمیشہ ہی سے چند خاندانوں کی اجارہ داری رہی ہے۔ان میں ایک بھٹو خاندان بھی ہے جو نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے پاکستانی سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔سندھ سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان تین صدیوں سے یہاں آباد ہے۔خاندان کے دو افراد ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم کے عہدے پر بھی براجمان رہے ہیں۔جبکہ بھٹو کے داماد آصف علی زرداری دوسری بار صدر منتخب ہوئے ہیں۔اس سے قبل 2008 ء سے جون 2013ء تک پاکستان کے صدر رہے۔ذوالفقار علی بھٹو کے والد کا نام شاہنواز بھٹو جبکہ والدہ کا نام خورشید بیگم تھا۔اس خاندان نے حکومت اور سیاست میں اپنی انفرادی حیثیت منوائی اور کروڑوں دلوں پر راج کیا۔ایوب حکومت میں بطور وزیر خارجہ استعفی کے بعد بھٹو نے 1967 ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ اسلام، سوشلزم اور جمہوریت کا نعرہ دے کر اس کی قیادت سنبھالی۔پارٹی کو بڑی کامیابی کے ساتھ لے کر آگے بڑھے۔ذوالفقار علی بھٹو کی ولولہ انگیز قیادت اور سحر انگیز شخصیت نے پاکستان پیپلز پارٹی کو دنوں میں ہی پاکستان کی مقبول ترین جماعت بنا دیا۔بھٹو نے پینٹ کوٹ چھوڑ کر عوامی لباس شلوار قمیض زیب تن کر لی۔عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں ٹرین سے سفر کرتے۔کراچی سے لاہور اور لاہور سے پنڈی،پشاور اور کوئٹہ ان کے روٹ ہوتے۔ ٹرین کا جس شہر میں پڑائو ہوتا لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر پہلے ہی سے ان کے استقبال کے لیے وہاں موجود ہوتا۔بھٹو کچھ دیر کے لیے ٹرین کے دروازے پر آتے،مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ لوگوں کے نعروں کا جواب دیتے۔خطاب کرتے اور ٹرین پھر اگلی منزل کے لئے یہاں سے روانہ ہو جاتی۔بھٹو کے طوفانی دوروں نے پیپلز پارٹی کو اس قدر مقبولیت دی کہ بچے بچے کی زبان پر بھٹو اور پارٹی کا نام آنے لگا۔کچھ ہی عرصے میں یہ نوزائیدہ جماعت نہ رہی بلکہ پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت بن گئی۔بھٹو 13برس کے تھے تو ان کی شادی ہو گئی۔وہ امریکی یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ تھے۔انہوں نے قانون کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی۔بھٹو کی ذہانت،سیاسی اور قائدانہ صلاحیتوں کے ان کے سخت ترین مخالف بھی ہمیشہ معترف رہے ہیں۔یہ امر بھی خصوصیت کا حامل ہے کہ بھٹو کے سیاسی سفر کی ابتدا اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے ہوئی جب پاکستانی وفد کے ہمراہ بطور رکن امریکہ گئے۔اقوام متحدہ میں تقریر کی۔یہ ایسی تقریر تھی جس نے پوری دنیا کو ان کا مداح بنا دیا۔ اس تقریر کے بعد وہ پاکستانی عوام کے ہردلعزیز ہیرو بن گئے۔یہی وہ تقریر تھی جس نے ان کی سیاست کی بنیاد رکھی اور بھٹو پاکستانی سیاست پر چھاتے چلے گئے۔بھارتی وزیر اعظم شاستری سے صدر جنرل ایوب خان کے اعلان تاشقند معاہدے کے بعد بھٹو کے صدر ایوب سے شدید اختلافات پیدا ہو گئے اور انہوں نے ایوب کابینہ سے استعفی دے دیا۔بھٹو کے کئی بین الاقوامی رہنمائوں سے ذاتی تعلقات تھے۔انہیں سعودی عرب،ایران،چین،لیبیا اور مصر کے بہت قریب سمجھا جاتا تھا۔بھٹو عام انتخابات کے بعد 1972 ء میں برسراقتدار آئے تو انہیں بہت سے اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا تھا۔لیکن وہ ان سے نبرد آزما ہوتے چلے گئے۔روٹی،کپڑا اور مکان کے سلوگن نے انہیں بہت پذیرائی اور مقبولیت بخشی۔وہ پذیرائی کی اتھاہ بلندیوں کو چھونے لگے۔بھٹو کے دورِ اقتدار میں آرمی چیف جنرل ضیا الحق تھے جو 5 جولائی 1977 ء کو ان کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر خود برسراقتدار آ گئے اور عنان حکومت سنبھال لی۔ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔فوجی عدالتیں قائم ہو گئیں جبکہ سول عدالتوں کے تمام آئینی اختیارات سلب کر لئے گئے۔یہ ایسا تاریک دور تھا جس میں نہ اظہارِ رائے کی آزادی تھی نہ سول عدالتیں آئین و قانون کی پاسداری کر رہی تھیں جو لوگ سیاسی قیدی بنائے گئے۔فوجی عدالتیں انہیں قید اور کوڑوں کی سزائیں دے رہی تھیں۔عجیب ہراسگی کا عالم تھا۔ضیا الحق کو خوف تھا بھٹو جیل سے باہر آ گئے تو انہیں نہیں چھوڑیں گے۔اس لئے ضیا الحق نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بھٹو کو ایڈووکیٹ احمد رضا قصوری کے والد کے مقدمہ قتل میں جس میں بھٹو پہلے ہی سے نامزد ملزم تھے،گرفتار کرا دیا،ٹرائل ہوا اور لاہور ہائی کورٹ نے بھٹو کو سزائے موت کا حکم سنا دیا۔بعد میں سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی۔بھٹو تو پھانسی چڑھ گئے لیکن اپنے پیچھے بھٹو ازم چھوڑ گئے۔
لاکھوں لوگ آج بھی بھٹو کے سیاسی افکار کے پیروکار ہیں۔انہیں اپنا لیڈر مانتے ہیں۔بھٹو نے سیاست کو جو سمت دی،کوئی اس کی گرد تک کو نہیں چھو سکا۔دنیا انہیں مانتی تھی،تسلیم کرتی تھی وہ بے بہا قوت ارادی رکھتے تھے۔اسی لیئے جنرل ضیا الحق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا۔اپنی سوچ اور عزائم کے مطابق ڈٹے رہے۔پھانسی چڑھ گئے اور ثابت کر دیا کہ وہ ایک بڑے رہبر اور رہنما ہیں۔حالات کی سختیاں انہیں زیر نہیں کر سکیں۔بھٹو، ضیاالحق سے مفاہمت کر لیتے تو پھانسی سے بچ جاتے لیکن انہوں نے ایک ڈکٹیٹر سے کسی قسم کی مفاہمت کی بجائے مرنا پسند کیا۔حالیہ دنوں میں موجودہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس پر بھٹو کیس کی سماعت کی تو قرار دیا کہ بھٹو کی پھانسی غلط تھی۔بینچ نے فیصلے میں بہت سے قانونی سقم ظاہر کئے،لکھا کہ کیس میں اتنے سقم ہیں کہ بھٹو پر جرم کا ثابت ہونا پایا ہی نہیں جاتا۔بھٹو کی موت کے بعد بھٹو خاندان ناگہانی حالات سے گزرنے لگا۔ایسے میں پارٹی کی قیادت بھٹو کی بیوہ نصرت بھٹو نے سنبھالی اور پارٹی کو فعال رکھا۔صحت بگڑنے لگی تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی،وہ چیئر پرسن کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے لگیں۔اگرچہ پارٹی کو توڑنے کی بہت کوشش کی گئی اور بہت سے باغی گروپ بنائے گئے تاکہ پیپلز پارٹی کمزور ہو سکے۔لیکن کسی کی بھی یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی اور پیپلز پارٹی پوری قوت کے ساتھ اپنے پائوں پر کھڑی رہی۔محترمہ بے نظیر بھٹو کے فرزند بلاول بھٹو زرداری والدہ کی شہادت کے بعد اب سیاست میں ہیں۔آکسفورڈ نے انہیں علمِ سیاست کی نئی جہتیں دی ہیں۔پی ڈی ایم کے 16ماہ کے دور میں پہلی بار حکومت کا حصہ بنے۔بطور وزیر خارجہ خدمات سرانجام دیں۔ان کی پارٹی نا صرف سندھ بلکہ بلوچستان میں بھی دو صوبائی حکومتیں چلا رہی ہے جبکہ پنجاب اور کے پی کے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے گورنر تعینات ہیں۔بھٹو خاندان کا خیال ہے وہ اگر پنجاب میں اپنا سیاسی وجود مستحکم کرنے میں کامیاب رہے تو وفاق میں اگلی حکومت ان ہی کی ہو گی۔اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں