Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

کیا سیاسی خلفشار ایسے ہی رہے گا؟

کہتے ہیں سیاسی عدم استحکام ہو تو معاشی استحکام کبھی نہیں آ سکتا۔اخبارات اور ٹی وی چینلز پر یہ بات ہر روز ہوتی ہے۔مگر مجال ہے کسی اپوزیشن لیڈر پر کبھی اس کا کوئی اثر ہوا ہو۔جبکہ معاشی و سیاسی استحکام سے ہی ہر ایک کی سیاست جڑی ہوئی ہے،دکھ سے کہنا پڑتا ہے آج سیاسی عدمِ استحکام نے معیشت کا جو حال کر رکھا ہے 90 فی صد غریب عوام مہنگائی کی جس چکی میں پس رہے ہیں۔اس پر افسوس صد افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔فروری 2024 ء کے الیکشن میں کس کو کتنا مینڈیٹ ملا۔حکومت کرنے والی جماعتوں کا مینڈیٹ جعلی ہے یا اصلی؟ اس پر بات تو ہو رہی ہے۔لیکن اس کا حل نہیں نکالا جا رہا۔کیا ہمیں نئے مینڈیٹ کے لیئے پھر سے الیکشن میں جانا ہو گا؟ یا کوئی اور سلوشن بھی کسی کے پاس ہے۔اس پر بات کرنا بہت ضروری ہے۔کیونکہ جو سیاسی ماحول بنا ہوا ہے ہیجان کی جو کیفیت ہے اس سے نکلنے کے لیئے سیاسی جماعتوں کو ہی نہیں،اداروں کو بھی بڑی سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔ورنہ ایسا نہ ہو ہم کہتے ہی رہ جائیں اب پچھتائے کیا ہوت،جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔سیاست ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔اس معاملے کو ہمیں سنجیدگی ہی سے لینا چاہیئے۔بشمول پی ٹی آئی سب سیاسی جماعتوں کو چاہیئے کہ معاملے کو سلجھائیں۔مسئلے کا کوئی حل نکالیں تاکہ ملکی حالات میں بہتری آ سکے۔ملکی سیاست کا سب سے بڑا محور اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل بنی ہوئی ہے۔جہاں تحریک انصاف کے بانی عمران خان پابندِ سلاسل ہیں۔اگرچہ کچھ اہم اور سنگین نوعیت کے مقدمات میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت لے لی ہے لیکن 9 مئی سمیت ابھی کئی اور ایسے مقدمات ہیں جن میں ان کی ضمانت ہونا باقی ہے۔آئین اور دستور کے مطابق کوئی بھی قیدی یا حوالاتی اس وقت تک جیل سے رہا نہیں ہو سکتا جب تک اس کی تمام مقدمات میں ضمانت نہ ہو چکی ہو۔آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر متعدد بار اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ 9 مئی کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ وہ 9 مئی کرنے والے ہوں یا ان کے سہولت کار۔ ماسٹر مائنڈ سمیت سب قانون کے کٹہرے میں ہوں گے اور سزا پائیں گے۔اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ 9 مئی والوں کے مقدمات معمول کے مطابق سول عدالتوں میں چلتے ہیں یا انہیں فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے لیے بھیجا جائے گا۔اس اہم قانونی نکتے پر ابھی کسی جانب سے بھی کوئی حتمی رائے تو سامنے نہیں آئی۔تاہم اعلی عدلیہ کے اب تک کے رویے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سویلین کے کیس فوجی عدالتوں میں چلانے کے حق میں نہیں۔اس سلسلے میں معزز ججز کی آبزرویشن اور سپریم کورٹ کا فیصلہ آ چکا ہے۔وفاقی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کر رکھی ہے۔اب دیکھنا ہے حتمی فیصلہ کیا سامنے آتا ہے۔بانی پی ٹی آئی کو پابند سلاسل ہوئے ایک سال سے زیادہ عرصہ بیت گیا ہے۔پہلی بار ہوا ہے کہ انہیں سیاست میں قیدو بند کی صعوبتیں اٹھانی پڑ رہی ہیں۔پی ٹی آئی کے دیگر کئی اور اہم رہنما اور ورکرز سمیت بانی کی اہلیہ بشری بی بی بھی اس وقت جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔سارا دارومدار اب عدلیہ پر ہے کہ ان کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔تاہم ایک بات تو طے ہے کہ 9 مئی کی صورت میں جو ہوا،جو کیا گیا۔مقتدر حلقے اسے بھلانے اور ذمہ داروں کو معافی دینے کے لئے تیار نہیں-یہی وجہ ہے کہ سیاست میں بھونچال کی سی کیفیت ہے۔
پاکستان کا قیام 14 اگست 1947 ء میں عمل میں آیا تو ایک نوزائیدہ ملک میں سیاست نے اپنی سمت بنانی شروع کی۔11ستمبر 1948 ء میں قائداعظم محمد علی جناح انتقال کر گئے تو پاکستان میں قیادت اور سیاست کا فقدان پیدا ہوا۔1955 ء میں ون یونٹ کا قیام اور 1956 ء میں آئین کو معطل کیا گیا۔1957 ء ایسا سال تھا جس میں تین وزرائے اعظم آئے اور انہوں نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالا۔1964 میں 22 خاندانوں کا بہت چرچا رہا۔ملکی سرمائے کا 90 فی صد انہی بائیس خاندانوں کے پاس تھا۔4 اپریل 1979 ء کو بھٹو کو پھانسی دی گئی۔جبکہ 1980ء میں روس نے افغانستان میں فوجی مداخلت کی جس کے گہرے اثرات پاکستان پر بھی آئے۔ 19 دسمبر 1984 ء کو جنرل ضیا الحق نے صدارتی منصب پر فائز رہنے کے لیئے بدنام زمانہ ریفرنڈم کرایا۔28 فروری 1985ء ملک میں غیر جماعتی الیکشن کا سال تھا۔14 جولائی 1987 ء کو پاکستان میں دہشت گردی کا آغاز ہوا۔جس نے عوام کو خوف اور بے چینی میں مبتلا کر دیا۔1992 ء ایسا سال تھا جب ملک میں موٹرویز پر کام شروع ہوا اور پورے ملک میں موٹرویز کا جال بچھا دیا گیا۔
18 اگست 2018 ء میں عمران خان الیکشن جیت کر وزیراعظم منتخب ہو گئے لیکن 10 اپریل 2022 ء کو ان کا زوال شروع ہوا اور وہ تحریک عدمِ اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے الگ کر دئیے گئے۔پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ پاک میگزین کے نام سے موجود ہے۔جس میں سال بہ سال رونما ہونے والے اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر مستند معلومات موجود ہیں۔ویب سائٹ میں تحریر و تصاویر کے علاوہ اہم نقشہ جات،ویڈیوز اور کئی تاریخی حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔پاکستان میں ہمیشہ ہی سے آئین پاکستان، صدر، وزیراعظم، آرمی چیف،چیف جسٹس آف پاکستان،سیاسی جماعتیں،انتخابات اور آئی ایم ایف لوگوں کی توجہ اور بحث کا موضوع رہے ہیں۔لیکن موجودہ سیاسی صورت حال میں تنائو کی جو کیفیت ہے اس نے آئین پاکستان،شخصیات اور اداروں کا تشخص جس طرح سے مجروح کر رکھا ہے اس طرح کی مثال اور صورت حال کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔اقتدار میں موجود جماعتیں اس حق میں تو ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے مابین ڈائیلاگ ہونا چاہیئے لیکن بانی پی ٹی آئی برملا کہہ چکے ہیں کہ وہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ بات چیت کے لیئے تیار نہیں۔وہ خواہش ظاہر کر رہے ہیں صرف اسٹیبلشمنٹ سے ہی مذاکرات ہو سکتے ہیں کیونکہ مذاکرات کے حتمی فیصلے کی فائنل اتھارٹی اسٹیبلشمنٹ ہی ہے۔تاہم اسٹیبلشمنٹ نے واضح طور پر بانی پی ٹی آئی کی اس خواہش کو رد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ مذاکرات صرف سیاسی جماعتوں کے مابین ہی ہونے چاہئیں۔ اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں۔
یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی حقیقت ہے۔بانی کے پیروکار کروڑوں میں ہیں۔خیبرپختونخوا میں ان کی حکومت بھی قائم ہے۔صوبے کے وزیر اعلی علی امین گنڈا پور کو بانی پی ٹی آئی کی طرف سے مینڈیٹ ملا ہے کہ وہ اتھارٹیز کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں۔علی امین نے مذاکرات کے لیے مختلف ذرائع سے کئی پیغام بھی اسٹیبلشمنٹ تک پہنچائے ہیں مگر اسٹیبلشمنٹ ہے کہ مانتی ہی نہیں۔نتائج کیا نکلیں گے۔صورت حال کہاں تک جائے گی۔کیا سیاسی خلفشار ایسے ہی برقرار رہے گا یا اس میں کچھ ٹھہرائو بھی آئے گا۔یہ سب وقت بتائے گا جو ابھی کسی طرح سے بھی مذکرات کے لئے نارمل نظر نہیں آتا۔پھر دعائے خیر ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ بہتر کرے۔

یہ بھی پڑھیں