کہتے ہیں کہ اگر ماضی سے سبق حاصل کرنے کی صلاحیت اور خواہش نہ ہو تو اسے بھول جانا چاہیے۔ اپنے اردگرد کے ماحول اور مقتدر سیاسی اور دیگر متعلقہ اشرافیہ کے رویے اور غیر سنجیدہ حرکتوں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ انا پرستی اور ادارتی بالادستی کے نفسیاتی امراض نے ہمیں اس قدر ذہنی بیمار کر دیا ہے کہ اب اقتصادی اور معاشی دیوالیہ پن کے ساتھ ساتھ ہم ’’فکری بے ایمانی‘‘ کی ان حدوں کو چھو رہے ہیں جو کسی بھی معاشرے کے لئے تباہی اور بربادی کا آخری پیغام ہوا کرتی ہیں۔ ہم نے اب Moral Default کے ساتھ ساتھ ’’سیاسی نادہندگی‘‘ کا اعزاز بھی حاصل کرلیا ہے اور اس کا عملی مظاہرہ ہم اپنے سوشل میڈیا اور قومی سطح پر دیگر نشریاتی ذرائع پر ہونے والی گفتگو سے دیکھ سکتے ہیں اور بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انفرادی اور نہ اجتماعی سطح پر ہم نے ماضی سے سبق نہ سیکھنے کا ’’عزم صمیم‘‘ کر رکھا ہے اور اس بات کا پکا عہد کرلیا ہے کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے ایک سیاسی گروہ نے دوسرے جتھے کو نیچا دیکھا کر اسے زچ کرنا ہی کرنا ہے۔ یقین جانیئے راقم کو وہ الفاظ نہیں مل رہے جن کے ذریعہ سے وہ اپنے سیاسی اور دیگر اداروں کے ’’مقتدر حلقوں‘‘ کی سوچ اور روئیے پر کف افسوس مل سکے اور حالات کی ستم ظریفی پر ماتم کناں ہوسکے افسوس صد افسوس ہمارا پیارا وطن کن مسائل کا شکار ہے آفات کی کس بھنور میں گھرا ہوا ہے اور ہماری اشرافیہ کی سوچ اور عمل محض ذاتی اور ‘‘ ادارتی مفادات‘‘ کے مکروہ عمل کے گرد گھومتی دیکھائی دے رہا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا میں اور آپ جہالت اور تنگ نظری کے اندھیرے میں محض مصلحت اور خود غرضی کے فریب میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو محفوظ بنائیں اور سارے منظر نامے کو محض قرب قیامت کی نشانیاں سمجھ کر ان سے صرف نظر کرلیں؟ یا پھر ہر فرد اپنی اپنی بساط اور استطاعت کے مطابق اپنے حصے کا چراغ جلائے۔ قارئین کرام گھپ اندھیرے میں ایک نحیف چراغ بھی اس قدر کار آمد ہوتا ہے کہ وہ تاریکی کو توڑ کر انسانی آنکھ کو کم از کم اس قابل بنا دیتا ہے کہ اسے اس حد تک اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی رکاوٹ کھڑی ہے لیکن اگر اندھیرا گہرا ہوگا اور گھپ ہوگا تو پھر حادثے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوسکتا۔ اپنے اردگرد بے حسی کے اس اندھیرے کو توڑنے کے لئے لازم ہے کہ آپ اور ہم مل کر جھوٹے جھوٹے ’’چراغ‘‘ روش کریں جو معاشرے میں ایک بڑی روشنی کی شکل اختیار کر جائیں۔ محض خاموش رہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔
آئیے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کم از کم بات کا آغاز تو کریں کچھ تو کہیں زبان بندی کا خمیازہ اس دنیا اور جواب دہی یوم حساب بھگتنا پڑے گی۔ ہماری منزل اور ہمارا مطمہ نظر ایک ترقی یافتہ اور انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں میری اپنے قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے اس نحیف چراغ کو جلانے کے بعد اپنے اردگرد کے مکروہ اور مفاد پرستی سے آلودہ ہوائوں سے اس چراغ کو مکمل طور پر محفوظ رکھیں۔ انشاء اللہ ایک دن آئے گا جب ہماری یہ روشنیاں ہمارے وطن عزیز اور اردگرد کے معاشرتی ماحول کو اس قدر پرنور بنا دیں گی کہ ہم یہ کہنے میں حق نجانب ہوں گے کہ ہم نے جاہل اور کم ظرف ’’زعماء‘‘ سے جان خلاصی کرکے اپنی آنے والی نسلوں کو ایک ایسی ریاست اور ایک ایسے ماحول میں چھوڑا ہے جہاں علم، کشادہ دلی، اعلیٰ ظرفی، نفع دینے والا ہنر، پاکیزہ سوچ، وسیع النظری اور اعلیٰ اخلاق کے نور سے ہم بین الاقوامی برادری میں ایک مہذب اور ترقی یافتہ ریاست کے طور پر جانے جائیں گے اور بھیک کے قومی کشکول کو اس قدر دور پھینک دیں گے کہ وہ مستقبل میں کبھی بھی ہمارا تعاقب نہ کر سکے۔
قارئین کرام یاد رکھیے یہ کوئی تصوارتی اور محض ’’خواہشاتی سوچ‘‘ یعنی (Wishful Thinking) نہیں ہے بلکہ ایک قابل عمل حل اور معاشرے کی جانب اپنا حصہ ڈالنے کی ایک ترکیب ہے۔ جس کا نہ تو کوئی سیاسی مقصد ہے اور نہ ہی معاشی فائدہ اس کا مطمہ نظر محض ایک خالص Idea ہے جسے اپنا کر میں اور آپ نہ صرف اپنے فرض سے مبرہ ہوسکتے ہیں بلکہ گٹھن اور تنگ نظری کے ماحول سے چھٹکارہ بھی حاصل کر سکتے ہیں اس کے اثرات ہماری انفرادی زندگیوں پر بھی اس قدر مثبت ہوں گے کہ ہم اس کی راحت سے ناقابل یقین حد تک مخروز ہوں گے اور اس کے لئے ہمیں کسی مسیحا یا لیڈر شب کا انتظار نہیں کرنا، کیونکہ انہیں کم روشن چراغوں سے ہی ایک بڑی روشنی بنے گی جو ہماری رہنمائی کا ذریعہ بنے گی اور اسی طرح ہم میں سے ہی ہمیں کوئی قیادت بھی میسر آہی جائے گی۔
قارئین کرام آپ کے ذہن میں ایک سوال ضرور پیدا ہو رہا ہوگا کہ مذکورہ بالا مشن کو بروئے عمل اور عملاً اس کام کو کرنے کا طریقہ کیا ہوسکتا ہے۔ سب سے پہلا کام جو میرے اور آپ کے کرنے کا ہے وہ یہ کہ سوشل میڈیا اور قومی نشریاتی اداروں پر ہونے والی لایعنی اور فضول بے مقصد گفتگو کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ شکنی کی جائے مثلاً آپ پوری ایمانداری سے بتائیں کہ کیا آج ہمارا اور وطن عزیز کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کن سیاسی گروہ کے کسی لیڈر نے جو بیان دیا ہے اس کا سیاق و سباق اور پس منظر کیا ہے؟ اس بیان کا دوسری مخالف سیاسی جماعت پر ردعمل کیا ہے یا کیا ہونا چاہیے تھا؟ آج کسی حکومتی عہدیدار نے کیا کہا اور کس کے اشارے پر کیا؟ کن دو ’’سیاسی زعما‘‘ نے ایک دوسرے کی ذات پر کتنا کیچڑ اچھالا اور اس غیر اخلاقی زبان یا لہجے کو کس قدر زیادہ سے زیادہ مزے لے لے کر بیان کیا جائے تاکہ عوام میں اضطراب اور اشتعال کو زیادہ سے زیادہ ہوا دی جاسکے بالفاظ دیگر Ratingکے چکر میں پورے ملک کو شیطانی چکر بنا ڈالا ہمارے نام نہاد ’’دانش وروں‘‘ نے دراصل دانش اور حکمت کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم سب مل بیٹھ کر اپنے اپنے سیاسی مفادات اور معاشی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ان مسائل کو اپنا موضوع بحث بتائیں جو وقت کی ضرورت ہے مثلاً کیا کسی بھی قومی یا مقامی سیاسی قیادت کو کبھی بھی آپ نے پاکستان کو درپیش توانائی، آبادی، تعلیم، ہنر، انصاف کی فراہمی، ٹیکنالوجی، تجارت پر بات کرتے سنا، یقینا جواب نفی میں ہوگا۔ بس یہی وقت کی ضرورت ہے اور آپ اپنا موضوع سخن پر نجی یا اجتماعی محفل میں مذکورہ بالا مسائل کو بنائیں۔ ان کے حل پر بات کریں اور ریاستی سطح پر پائی جانے والی غفلت اور لاپرواہی کی نہ صرف نشان دہی کریں بلکہ اپنی اپنی بساط کے مطابق ریاستی اداروں سوچے بلکہ عمل کرنے پر بھی مجبور کر دیں کہ وہ اس ملک کے اصل مسائل کے حل کے لئے اپنی توانیاں اور وسائل بروئے کار لائیں۔ یہ کام آپ نے اور میں نے ہی ہر سطح کر کرنا ہے کیونکہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا۔