Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

پی ٹی آئی کا مستقبل

عمران خان اور پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا؟ اس پر خوب بحث ہو رہی ہے اور سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے۔بانی پی ٹی آئی جب سے پابند سلاسل ہوئے ہیں،باہر کی دنیا سے ان کا براہ راست رابطہ کٹا ہوا ہے۔تاہم قانونی ٹیم میں سے جو وکلا انہیں اڈیالہ میں مل کر آتے ہیں ان کے توسط سے بانی کا کوئی نہ کوئی پیغام میڈیا اور ان کے فالورز تک ضرور پہنچ جاتا ہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بانی کی سوچ میں اب تک کوئی تبدیلی نہیں آئی،نا،رویے میں کوئی لچک پیدا ہوئی ہے۔ایک بات تو واضح ہو رہی ہے کہ بانی، اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ کسی دوسرے فریق سے بات چیت کے لیے تیار نہیں۔حکومتی اکابرین متعدد بار انہیں مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں لیکن وہ ہیں کہ مانتے ہی نہیں لیکن سیاست میں ایسا ہرگز نہیں ہوتا ہمیشہ بات چیت کے دروازے کھلے رکھے جاتے ہیں۔اسی سے بات بنتی ہے اور راستے نکلتے ہیں لیکن عمران خان نےسوچ لیا ہے کہ کسی صورت حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں سے مذاکرات نہیں کریں گےچاہے کچھ بھی ہو جائے۔وہ اسٹیبلشمنٹ کو اس لیے ترجیح دے رہے ہیں کہ سمجھتے ہیں اسٹیبلشمنٹ ہی وہ فائنل اتھارٹی ہے جس سے بات چیت ہو تو کسی نتیجے تک پہنچ سکتی ہے۔یہ طرزِ عمل کیا سیاست میں عمران خان کو تنہا کر دے گا یا وہ جو کچھ کر رہے ہیں ٹھیک کررہے ہیں۔اس حوالے سے مختلف رائے پائی جاتی ہے۔ عمران خان کا خیال ہے اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست ہی انہیں سیاست میں زندہ رکھ سکتی ہے۔اب تک اگر سیاست میں زندہ ہیں تو اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کی وجہ سے ہی یہ ممکن ہوا ہے۔ان کے فالورز بھی چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی صرف اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کرے۔ سو، عمران خان اور ان کی جماعت اسی راستے پر گامزن ہے۔اگرچہ یہ راستہ بڑا کٹھن ہےلیکن عمران ہر چیز سے بے نیاز انہی راہوں کے مسافر بن گئے ہیں جس میں مشکلات ہی مشکلات ہیں۔ پاکستان میں آج تک کوئی بھی سیاسی جماعت اسٹیبلشمنٹ کی مرضی اور آشیرباد کے بغیر اقتدار میں نہیں آئی لہٰذا ممکن ہی نہیں کہ اقتدار کو پانے کے لیے پی ٹی آئی کے لیے آسانیاں ہوں۔ اب سیاست ہی نہیں،اعلیٰ عدلیہ میں بھی واضح تقسیم نظر آتی ہے۔اس کا اظہار سپریم کورٹ کے مختلف معزز جج صاحبان کےمختلف کیسوں کی سماعت کے دوران ریمارکس سے ہوتا ہے۔تاہم اسٹیبلشمنٹ کا رویہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سخت سے سخت تر ہوتا جا رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اپنے سخت موقف کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ 9 مئی والوں کو ہرگز معاف نہیں کیاجائے گا۔
آرمی چیف بھی اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ 9 مئی والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ خود پی ٹی آئی کے متعدد سینئر رہنما بھی یہ موقف رکھتے ہیں اور متعدد بار اس کا برملا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ 9 مئی والوں کو ہرگز معاف نہ کیا جائےتاہم جو بے گناہ 9 مئی کی پاداش میں جیلوں میں ہیں ان کی رہائی ممکن بنائی جائے۔اب یہ کیسے ہو گا،کیسے ممکن ہے؟ یہ واضح نہیں ہو رہا۔تاہم 9 مئی والا سارا معاملہ اب عدلیہ کے ہاتھ میں ہے وہ اس کے اسیران کے حوالے سے کس نتیجے پر پہنچتی ہے،کیا فیصلہ کرتی ہے؟ دیکھیں، آنے والے چند دنوں میں کیاہوتا ہے۔درحقیقت عمران خان ہی پی ٹی آئی ہیں اور ان کے بغیر پاکستان تحریک انصاف کا کوئی مستقبل نہیں۔یہ بات کئی مرتبہ پی ٹی آئی کے سیاسی حریفوں کے علاوہ خودان کے حامیوں کی جانب سےبھی کی جاتی رہی ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے سپورٹرز کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ عمران خان مقبولیت کی اس بلندی پر ہیں کہ وہ جس کسی کو بھی پارٹی ٹکٹ دیں گے وہ آئندہ ہونے والے الیکشن میں کامیاب ہو جائے گالیکن بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان تحریک انصاف آئندہ انتخابات تک قائم و دائم رہے گی اور عمران خان کا سیاسی مستقبل 9 مئی کے مقدمات کی سماعت اور سزا و جزا کے عدالتی فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟ پہلے سوال کاجواب تو ہمیں خاصے واضح انداز میں مل رہا ہے۔
9 مئی کے واقعات کو لے کر اب تک جو کریک ڈائون اور گرفتاریاں ہو چکی ہیں وہ اعلان ہیں کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے معافی اور بخشش کی کوئی گنجائش نہیں،تمام راستے بند ہیں۔اب یہاں یہ سوال بھی بڑا اہم ہے کہ کیا تحریک انصاف کو ختم کیا جا رہا ہے؟ عمران خان کا الزام ہے کہ پارٹی رہنمائوں کو زبردستی پارٹی چھوڑنے پرمجبور کیا جا رہا ہے۔جو ماضی میں پارٹی چھوڑ گئے انہیں بھی بہت مجبور کیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے جب رہنمائوں کی ہمت جواب دے گئی،ان کے حوصلے توڑدیئے گئے تو وہ دوسری پارٹیوں میں شامل ہونا شروع ہو گئے یاپھر اپنی پارٹیاں بنا لیں۔ مثال ہمارے سامنے ہے۔پرویز خٹک نے پی ٹی آئی پارلیمینٹرین بنائی جبکہ علیم خان اور جہانگیر ترین نے استحکام پاکستان پارٹی کی بنیاد رکھی۔عمران خان کا الزام ہے کہ پی ٹی آئی کے ان منحرفین کو اسٹیبلشمنٹ نے مجبور کیا کہ وہ اپنی پارٹیاں بنائیں تاکہ پی ٹی آئی سیاسی طور پر کمزور ہو سکے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اسٹیبلشمنٹ سے عمران خان کے تعلقات قریبا دو سال قبل خراب ہو گئے تھےاور اس نہج پر آچکے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ان کا بوریا بستر گول کرا دیا۔جو کبھی اسٹیبلشمنٹ کے بہت زیادہ قریب تھےاتنے زیادہ دور ہو گئے کہ سب کچھ بدل گیا۔عمران خان اقتدارسےتو گئے،جیل بھی جانا پڑا۔جیل پھر جیل ہوتی ہے،جیل کی صعوبتوں سے وہی واقف ہیں جو جیلوں میں رہتے ہیں۔وہی بتاسکتے ہیں کہ جیلوں کے شب و روز کیاہوتے ہیں۔خان کے حوصلوں کو توڑنے کی حتی المقدور کوشش کی گئی،تاہم کسی بھی فریق کو ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ملی۔عمران خان اپنے اوپر قائم بہت سے مقدمات میں ضمانت حاصل کر چکے ہیں لیکن کچھ مقدمات میں ان کی ضمانت ہونا ابھی باقی ہے۔وہ ان مقدمات میں بھی عدالتوں سےضمانت حاصل کرلیتے ہیں تو 9 مئی کے مقدمات ان کے منتظر ہوں گے۔یہ مقدمات بہت ہی سنگین نوعیت کے ہیں جن کا ماخذ اور ماسٹر مائنڈ عمران خان کو قرار دیا جا رہا ہےلہٰذا شک نہیں ہونا چاہیے کہ عمران خان باقی مقدمات سے اگر بچ گئے تو 9 مئی کے مقدمات سے ہرگز نہیں بچ سکیں گےکیونکہ ان مقدمات کا ایک فریق وہ ہیں جن سے سب خوف کھاتے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہو گا کہ عمران اور پی ٹی آئی سیاست میں رہتے ہیں یا انہیں مٹانے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔بانی پی ٹی آئی کے لئے یہ فیصلے کی گھڑی ہےجس میں انہیں اپنےاوراپنی پارٹی کے اچھےمستقبل کاکوئی حتمی فیصلہ کرنا ہے۔خان صاحب 2018ء میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آئے تھے،اب بھی ان کی یہی خواہش ہے کہ اقتدار کے لیئے اسٹیبلشمنت ان کی مدد کرےتاہم موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی موجودگی میں تو ایسا ہوتاممکن نظر نہیں آتا۔کیا پی ٹی آئی اپنا وجود قائم رکھ سکے گی یا اسے توڑنے کے لئے کوئی نیا پلان سامنے آئے گا۔اس کا فیصلہ آنے والا وقت کر دے گا۔بس…ہمیں اس کے لیے مزید کچھ ماہ انتظار کرنا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں