پولیس کسی بھی معاشرے کا اہم جزو ہے۔کوئی بھی ملک ہو،پولیس ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ انسان کے وجود،اس کی آزادی اور جان و مال کا تحفظ کرے اور معاشرے کو امن سے محروم کرنے والے عناصر کے خلاف نبرد آزما رہے۔وہ کما حقہ اپنے ان فرائض کو پورا کرتی بھی ہے۔پاکستان میں بھی پولیس کی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔پولیس آرڈر 2002 کے تحت وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو ادا کرتی ہے۔سماج دشمن عناصر پر قابو پانے کے لیئے ہی پولیس کا محکمہ قائم کیا گیا۔تاہم پاکستان میں حکومتوں نے پولیس کو اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے اور خاموش کرانے کے لئے استعمال کیا۔پاکستان میں پولیس اور اس کا کردار کبھی اچھے نہیں رہے۔اسی لیئے پاکستانی پولیس ہمیشہ ہدفِ تنقید بنتی رہی ہے۔کسی بھی مہذب معاشرے میں پولیس کا کردار بہت اہم اور قابل احترام ہوتا ہے۔وہ معاشرے میں جرائم کی روک تھام اور امن قائم کرنے کے لئے کام کرتی ہے۔اس کا حلف اٹھاتی ہے۔کراچی دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے۔کراچی ہی وہ شہر ہے جس سے ملک کو 70 فیصد ریونیو فراہم ہوتا ہے۔لیکن اس شہر کی بدقسمتی دیکھئے کہ پولیس اپنے فرائض صحیح طریقے سے انجام دینے سے قاصر ہے۔ہمارے ہاں پولیس کا کردار اور رویہ ہمیشہ ہی سے ناقابل ستائش رہا ہے۔اگر پولیس ایکٹ 1934 پر دس فیصد بھی عمل ہو جائے تو معاشرے سے کرپشن،ڈکیتی اور قتل و غارت جیسے سنگین جرائم کافی حد تک ختم ہو جائیں۔سندھ پولیس کی کارکردگی اور حالتِ زار کو دیکھیں تو وہ انتہائی حد تک قابل افسوس نظر آئے گی۔یقینا سندھ پولیس میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔اصلاحات ہوں گی تو عوام کا اپنے صوبے کی پولیس پر اعتماد بحال ہو سکے گا۔
یہ المیہ بھی ہے کہ ہمارے لوگ،خاص طور پر نوجوان نسل پولیس کو دیکھ کر ایسے چھپتی ہے جیسے کوئی چور یا جرائم پیشہ پولیس کو دیکھ کر چھپنے کی کوشش کرتا ہے۔چونکہ پولیس کا رویہ ہر ایک سے بہت ہی سخت،غیر منصفانہ اور ناروا ہوتا ہے۔اس لیئے ہمارے ہاں پولیس کی وہ قدر نہیں جس کا حقدار اسے ہونا چاہیے۔یہی وجہ ہے کہ پولیس کے عدم تعاون اور فرائض و ذمہ داری میں غفلت کے باعث جرائم میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ہر صوبے کا جرائم چاٹ دیکھیں اور ملاحظہ کریں تو شرح جرائم گزشتہ سال کی نسبت آپ کو بڑھتی ہوئی نظر آئے گی۔کہتے ہیں انصاف وہ ہے جو نظر آئے۔لیکن پاکستان ایسا بدنصیب ملک ہے جس میں ناانصافی اور لاقانونیت بہت زیادہ ہے۔انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔یہی وجہ ہے کہ اس کے نتیجے میں عدم تحفظ اور محرومیاں بڑھ رہی ہیں۔جو کچھ تھانوں میں ہوتا ہے جتنی بربریت روا رکھی جاتی ہے اس کی داستانیں آئے روز منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔
اخبارات اور ٹی وی چینلز کی زینت بھی بنتی ہیں۔محروم طبقہ ہی خصوصی طور پر پولیس کے ظلم کا شکار ہوتا ہے۔جس سے معاشرے میں پولیس کے خلاف زیادہ نفرت پائی جاتی ہے۔مدعی کو ملزم اور ملزم کو مجرم سمجھنے والی پولیس میں موجود کالی بھیڑوں نے تھانوں کو وحشت کدہ بنا دیا ہے۔شریف شہری کو اپنی شکایت لے کر تھانے جانا ہو تو سخت پریشانی اور گھبراہٹ کا شکار ہوتا ہے۔اپنی جائز شکایت درج کرانے کے لیئے بھی اسے سفارش ڈھونڈنی پڑتی ہے۔تھانے جانے کا تصور ہی اس قدر حواس باختہ عمل ہوتا ہے کہ جس کی مثال نہیں دی جا سکتی۔اس لیئے لوگوں کے پولیس کے بارے منفی خیالات، رجحانات اور خدشات بلا وجہ نہیں،نہ یہ مفروضوں پر مبنی جھوٹی کہانیاں ہیں جسے لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے،نہ ایسے الفاظ متعارف ہوئے ہیں جن سے پولیس کے مظالم کا نشانہ بننے والے کی تشفی ہو سکے۔دنیا کے مہذب ممالک میں تھانے امن، سکون،انصاف اور قانون کے محافظ کی علامت کے طور پر مانے اور جانے جاتے ہیں۔وہاں پولیس سمیت تمام مقتدر حلقے قانون کے مطابق اپنی اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتے ہیں۔کسی کو کسی بھی حالت میں دوسروں پر اہمیت حاصل نہیں۔سب قانون کے تابع ہوتے ہیں۔اور قانون کے مطابق چلتے ہیں۔بڑے سے بڑا اور بااثر سے بااثر شخص کیوں نہ ہو،اسے معلوم ہوتا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی اسے کتنی بڑی مشکل میں ڈال سکتی ہے۔وہ بارسوخ ہونے کے باوجود سزا و جزا کے عمل سے نہیں بچ سکتا۔لیکن ہمارے ملک کا معاملہ کچھ اور ہے۔کسی کو قانون کی پرواہ ہی نہیں۔یہ مسلمہ حقیقت بھی ہے کہ ہر طاقت ور یہاں کسی بھی قانون کی خلاف ورزی پر خود کو قابل سزا نہیں ٹھہراتا۔ پاکستان میں اے ایس آئی لیول کا ایک پولیس والا بھی بڑے اختیارات کا حامل ہے۔پولیس کے پاس اندھے اختیارات ہوتے ہیں۔جائز شکایت پر بھی اکثر اوقات تھانوں میں ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی جس کے لیئے درخواست دہندہ کو پولیس افسران کے دفتروں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔پھر بھی ناکامی ہو تو 22/A، 22/B کے تحت اندراج مقدمہ کے لیئے سیشن کورٹ سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔تفتیشی افسر کے اختیارات کا یہ عالم ہوتا ہے کہ چاہے تو مقدمے کا رخ ملزم سے مدعی کی طرف موڑ سکتا ہے۔پولیس ملزم کے خلاف کچھ بھی ثابت نہ کرنا چاہے تو کوئی ماں کا لال ملزم کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں کر سکتا۔بالآخر گناہ گار یا قصور وار ہونے کے باوجود ملزم،مجرم ہونے اور سزا سے بچ جاتا ہے۔عدالت نے ملزم کے خلاف یا حق میں فیصلہ پراسیکیوشن کے مرتب کردہ چالان کی بنیاد پر دینا ہوتا ہے۔عدالت پولیس سے ملزم کے خلاف جرم کے ثبوت مانگتی ہے اور عدم فراہمی پر ملزم کو شک کا فائدہ دے کر مقدمے سے باعزت بری کر دیا جاتا ہے۔اسی لئے اس الزام میں کافی صداقت ہے کہ کوئی جرم بھی پولیس کی معاونت کے بغیر ممکن نہیں۔جرائم کے منظم گینگ،اگر جرائم کی دنیا میں موجود ہیں اور جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں تو اس میں زیادہ عمل دخل پولیس ہی کا ہے۔بعض جگہ جسم فروشی،منشیات اور جوئے کے اڈے بھی پولیس ہی کی سرپرستی میں چلتے ہیں۔لیکن ان کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں۔تھانوں میں مدعی اور ملزم کی مالی حیثیت کے مطابق انصاف کی خرید و فروخت ہوتی ہے جو زیادہ بولی لگاتا ہے انصاف اس کے پلڑے میں ڈال دیا جاتا ہے۔کئی ذرائع سے اس بات کی تصدیق کی جا سکتی ہے کہ ریپ کی شکایت درج کرانے کے لئے آنے والی کسی لڑکی یا خاتون سے تھانے کا مجاز افسر یہ تقاضا کرتا ہے کہ پہلے وہ خود اپنا میڈیکل کرائے جس کے بعد ہی میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں درخواست پر کارروائی کا سوچا جا سکتا ہے اور مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔پولیس والوں کی جانب سے جرم کا بھائو بڑھانے کے لیئے یہ تاخیری حربہ ہوتا ہے۔جس کے بعد پولیس درخواست میں نامزد ملزم سے رابطہ کر کے لین دین کے دروازے کھول دیتی ہے۔دوسرا حربہ یہ بھی ہوتا ہے کہ مدعیہ کو اس طرح سے پریشان اور ہراساں کیا جائے کہ مدعیہ کسی انجانے خوف کے باعث پرچہ درج کرانے کا ارادہ ہی ترک کر دے۔اس آڑ میں پولیس،ملزم کو خوفزدہ کر کے اس سے بھاری رقم وصول کر لیتی ہے اور معاملہ کھو کھاتے پڑ جاتا ہے۔گزشتہ عشرے کے دوران وردی کی طاقت کے بہیمانہ استعمال کے کئی واقعات ہوئے جس سے عام شہری دہشت زدہ رہتے ہیں۔ ان گنت واقعات ہر روز تھانوں میں پیش آتے ہیں لیکن نوٹس لینے والے کوئی نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ پولیس بدنام ہے اور اس پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔لہٰذا پولیس کلچر کو بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ پولیس پر اعتماد کریں اور اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے انہیں خوف محسوس نہ ہو،جس دن ہماری پولیس ٹھیک ہو گئی،ہمارے 70 فی صد جرائم ویسے ہی ختم ہو جائیں گے۔