Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

وزیراعظم! بے دھیانی سے لگے رہیں!

ارسطو کا قول ہے کہ’’دنیا میں کوئی بھی بڑا اور عظیم دماغ نیم پاگل پن کے بغیر آج تک قائم نہیں ہوا ہے۔‘‘
No great mind has ever existed without a touch of madness
وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں حکومت کو بظاہر کچھ کام پاگل پن کے بھی کرنے ہونگے جیسا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر 45 فیصد زرعی ٹیکس لگانے کی شرط کو چار و ناچار منظور کر لیا ہے۔ اب اس سے اگلا کام جسے پاگل پن کہیں یا سیاسی بصیرت کہیں وہ بڑی جاگیروں پر ہاتھ ڈالنے کا ہے یعنی یہ ٹیکس جاگیرداروں کے مزارعوں کی بجائے جاگیرداروں کی زمینوں پر براہ راست لگانا چایئے یا جاگیروں کو مزارعوں میں تقسیم کیا جانا چایئے۔ ویسے بھی زندگی میں کوئی کامیابی چھوٹی ہو یا بڑی ہو اسے حاصل کرنے لئے ایک بامقصد جدوجہد اور کوشش کرنا ایک لازمی شرط ہے یعنی کہ آپ اسی صورت میں کامیاب ہوتے ہیں جب آپ مطلوبہ مقصد کے ساتھ پاگلوں کی طرح مسلسل جڑے رہتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ابتدا میں تقریباً سارے بڑے دماغوں کو عوام الناس نظر انداز کرتی ہے۔ لیکن میاں شہباز شریف تو ناقابل یقین حد تک کارکردگی دکھانے کے لئے عجیب و غریب کام کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں کہ کیا خبر وہ طوفانی بارش میں بڑے سائز کے بوٹ پہن کر سڑکوں پر بھی نکل آئیں۔
کامیابی انسان میں عظمت پیدا کرتی ہے۔ بعض دفعہ انسان کی محنت اور کوششیں رنگ نہیں لاتی ہیں۔ لیکن بڑا مقصد حاصل کرنے کے لئے زیادہ ضدی اور ڈھیٹ بننا پڑتا ہے۔ زندگی میں بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ بے شمار کوششوں کے بعد بھی آپ مقصد یا کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تب لوگ آپ کو پاگل ہی سمجھتے ہیں۔ لیکن میرا ایمان ہے اور ذاتی تجربہ بھی ہے کہ آپ کسی کام کو خلوص نیت سے انجام دیتے رہیں تو کامیابی بالآخر آپ کے قدم چومتی ہے۔ چونکہ ایک بڑا دماغ عام لوگوں کے فہم اور سوچ سے الگ تھلگ ہو کر سوچتا ہے، اسی لئے عوام الناس اسے آسانی سے سمجھ نہیں پاتے ہیں۔ ایسے کسی مقصد کی تہہ میں کامیابی پوشیدہ صورت میں موجود ہوتی ہے جسے صرف ایک بصیرت رکھنے والا دماغ ہی دیکھ سکتا ہے۔ دنیا میں بہت سے ایسے محنتی اور زہین و فطین لوگ گزرے ہیں جن کے نظریات کی اہمیت کا اندازہ ان کی زندگی کے بعد ہوا۔ مختصر وقت کے لئے برصغیر پر حکمرانی کرنے والے بادشاہ محمد تغلق کے بارے بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے حکومتی منصوبوں اور پالیسیوں کے اعتبار سے اپنے زمانے سے 100سال پہلے پیدا ہو گئے تھے جس وجہ سے ان کے خیالات اور اصلاحات کو اس کی رعایا سمجھ نہیں پائی تھی، اسی لئے اسے ایک ناکام اور پاگل سلطان بھی کہا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ محمد تغلق برصغیر کا انتہائی جینئس، محنتی اور مخلص شہنشاہ تھا جس کے بعد آنے والے لودھی اور مغل حکمرانوں نے اسی کی پالیسیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر عوام میں مقبولیت اور اعتماد کے قدم جمائے۔
ہمارے وزیراعظم شہباز شریف بھی محنتی حکمران ہیں اور وہ جینئس بھی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر وہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے ضد پکڑ لیں تو وہ اپنے کسی منصوبے کو مکمل کر کے ہی دم لیتے ہیں۔ چونکہ بڑی کامیابی کے لئے مسلسل جدوجہد کرنا پڑتی ہے اور ڈھیٹ بھی بننا پڑتا ہے۔ اس لئے وزیراعظم کو کرنا بھی ایسے ہی چایئے۔ البتہ وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کے ایما پر جو نئے ٹیکس لگائے ہیں یا جس طرح بجلی کی قیمتوں میں یکے بعد دیگرے پہلے اضافہ کیا اور اب تھوڑی سی کمی کی ہے اس سے سفید پوش طبقہ کے اندر ایک خاموش لاوا پکنا شروع ہو گیا ہے جس کو کم کرنے لئے انہیں اس کا رخ مراعات یافتہ طبقے کی طرف کرنا چایئے۔
البرٹ آئن سٹائن کا ایک قول بھی ہے کہ کامیابی مشکلات کے اندر ہی پوشیدہ ہوتی ہے۔ بعض اوقات کامیابی کم وقت اور کم محنت سے بھی مل جاتی ہے۔ اسے خوشی قسمتی بھی کہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیچھے بھی کام کرنے والے کا مافی ضمیر اور اس کی ذہنی و جسمانی مشقت شامل ہوتی ہے۔ ایک عربی روایت کا منظوم ترجمہ کچھ یوں ہے کہ مینڈکوں کا ایک گروہ کہیں جا رہا تھا کہ اچانک ان میں سے دو مینڈک بے دھیانی میں ایک گڑھے میں جا گرے۔
باہر کھڑے مینڈکوں نے دیکھا کہ گڑھا ان دو مینڈکوں کی استطاعت سے زیادہ گہرا ہے تو انہوں نے اوپر سے کہنا شروع کر دیا۔ ہائے افسوس، تم اس سے باہر نہ نکل پائو گے، کوششیں کر کے ہلکان مت ہونا، ہار مان لو اور یہیں اپنی موت کا انتظار کرو۔
ایک مینڈک کا یہ سب کچھ سن کر دل ہی ڈوب گیا، اس نے ٹوٹے دل کے ساتھ چند کوششیں تو کیں مگر اس جان لیوا صدمے کا اثر برداشت نہ کر پایا اور واقعی مر گیا۔
دوسرے مینڈک کی کوشش میں شدت تھی اور وہ جگہ بدل بدل کر جمپ لگاتے ہوئے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اوپر والے مینڈک پورے زور و شور سے سیٹیاں بجا کر، آوازے کستے ہوئے، اسے منع کرنے میں لگے ہوئے تھے کہ مت ہلکان ہو، موت تیرا مقدر بن چکی ہے۔ لیکن مینڈک نے اور زیادہ شدت سے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور وہ واقعی میں باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔
سارے مینڈک اس کے گرد جمع ہو گئے اور پوچھنا شروع کیا کہ وہ کیسے باہر نکلا تو سب کو یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ یہ والا مینڈک تو کانوں سے محروم اور بہرا تھا۔
مینڈک سارا وقت یہی سمجھ کر باہر نکلنے کے لئے اپنا زور لگاتا رہا تھا کہ باہر کھڑے ہوئے سارے مینڈک اس کے خیر خواہ اور دوست ہیں، جو اس کی ہمت بندھوا رہے ہیں اور جوش دلا رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ سارے اس کی ہمت توڑنے اور باہر نکلنے کے عزم کو ختم کرنے میں لگے ہوئے تھے۔
موجودہ حکومت کو بھی کچھ ایسے ہی معاشی حالات درپیش ہیں کہ اسے اپوزیشن کی تنقید کو بہرے مینڈک کی طرح نظرانداز کر کے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، اسے بھی اپوزیشن کی کسی بھی تنقید پر بددل نہیں ہونا چایئے بلکہ اس تنقید کے نشتر کی سیڑھیاں بنا کر اسے کامیابی کی منزل کی جانب بڑھتے رہنا چایئے۔

یہ بھی پڑھیں