گزشتہ روز معروف عالم دین مولانا تقی عثمانی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ معاشی اور سیاسی نظام ریاست مغرب کا غلام ہوچکا ہے، سیاسی تحریک کامیاب نہیں ہوسکتی۔
موجودہ حالات میں اسلامی نظام کا نفاذ بھی مشکل نظر آتا ہے، ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کا نعرہ لگتا ہے اور پھر نئے الیکشن کی بات کی جاتی ہے، مولانا نے مزید کہا کہ عوام اور معاشرے کے مختلف طبقات اکٹھے ہوں اور مسائل کا کوئی حل نکالیں انہوں نے مزید کہا کہ عوام منتظر ہیں کہ کوئی بہتر سیاسی نظام اور سیاسی قیادت آئے اور ان کے دکھوں کا مداوا کرے، جب عوام اور مختلف طبقات طے کرلیں تو غلامی سے نجات مل جاتی ہے۔ اگر مذکورہ بالا بیان کسی دیگر سیاسی یا مذہبی شخصیت نے دیا ہوتا تو شاہد میری اور آپ کی توجہ کا مرکز نہ بنتا مگر جس شخصیت نے یہ بات کہی ہے اس کو یکسر نظرانداز کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے محض ایک سیاسی بیان سمجھ کر مسترد کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ مولانا صاحب نے یہ بات کسی مفاد یا ایجنڈے کے تحت کی ہوگی اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ مولانا صاحب مزاجاً کوئی ایسی بات نہیں کرتے جس کا مقصد ذاتی تشہیر یا پھر محض خود نمائی ہو۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مذکورہ شخصیت ایک باتحمل اور دیانتدار عالم دین کے طور پر جانی جاتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کی علمی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر Acknowledge کیا جاتا ہے۔ اس تمہید کا مقصد ہرگز کسی ایک شخص کی تعریف اور توصیح نہیں ہے بلکہ مقصد اپنے قارئین کو بتانا ہے کہ ایک غیر متنازعہ اور قابل تقلید عملی ذہن رکھنے والے عالم دین کی طرف سے مذکورہ بالا نشان دہی ہمارے لئے Food For Thought ہے۔
قارئین کرام علمی اور فکری سطح پر یہ بات قابل بحث لگتی ہے کہ علماء دین کی ریاستی امور پر رائے دینی جائز ہے یا نہیں اس بات پر بھی گفتگو کی جاسکتی ہے کہ جدید جمہوری نظام میں دینی فکر کے حامل طبقات کی گنجائش کس حد تک ہونی چاہیے یا پھر کس درجہ دین کو ریاستی امور میں دخل حاصل ہے مگر ان سب متنازعہ اور قابل بحث موضوعات سے بالاتر ہو کر ہمیں یہ نہیں دیکھنا ہے کہ کون کہہ رہا ہے اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ کیا کہہ رہا ہے۔
اس بات پر اپنی توانائیاں خرچ کرکے ہمارے قلم گھس گئے ہیں اور زبانیں شل ہوگئی ہیں کہ عمران خان سچے ہیں یا نواز شریف جھوٹ بول رہے ہیں۔ زرداری محب وطن ہیں یا فضل الرحمن ایک جہاں دیدہ رہنما مگر شائد ہم ایک لایعنی اور بے مقصد بحث میں الجھ کر نہ صرف اپنا وقت اور توانائیاں برباد کر رہے ہیں بلکہ ایک خود فریبی میں بھی مبتلا ہو کر محض اپنے اپنے مفاد کو مدنظر رکھ کر کسی ایک سیاسی گروہ کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ یقین جانیے موجودہ سیاسی نظام سے ہمیں کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے بلکہ اگر ہم اس نظام سے چمٹے رہے تو مزید تباہی اور بربادی ہمارا مقدر بن جائے گی شخصیات اور سیاسی جماعتوں سے بالاتر ہو کر ہم سب کو مل بیٹھ کر یہ سوچنا ہے کہ موجودہ معاشرتی، معاشی، سماجی ، اقتصادی و سیاسی بحران سے کیسے نکالا جائے جیسا کہ مولانا تقی عثمانی نے فرمایا۔ ان حالات میں نہ تو کوئی دینی تحریک کامیاب ہوسکتی ہے اور نہ کوئی سیاسی جماعت اپنے ’’مقاصد‘‘ میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔
عوام اس بات کے منتظر ہیں کہ کون ان کو مسائل کے گرداب سے نکال سکے گا۔ مختلف طبقات کو مل بیٹھنا ہوگا۔ جب تک ہماری اجتماعی سوچ اس طرح نہیں ہوگی جیسے ہم اپنی انفرادی فلاح اور مفاد کے لئے سوچتے اور کام کرتے ہیں۔ اس وقت تک کچھ بھی بدلنے والا نہیں ہے۔ ذرا سوچئے ہم اپنے ذاتی گھر کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں کیا ہمارا عمل ہمارا رویہ ہماری فکر اپنی ذات اور اولاد کے لئے بھی وہی ہے جو اپنے ملک اور ریاست کے لئے۔ ہرگز نہیں تو پھر ہم کیسے بہتری کی طرف گامزن ہوسکتے ہیں۔
ایک مکتبہ فکر تو یہ بھی ہے کہ کیا ضرورت ہے معاشرے اور ریاست کی فکر کرنے کی اپنے کام سے کام رکھا جائے، کوئی ضرورت نہیں ہے اجتماعی مسائل اور ریاستی حالات کی فکر کرنے اور اپنا خون جلانے کی ہر شخص اپنا کام کرے مال دولت جمع کرے سیر و تفریح کرے اپنے بچوں اور خاندان کی فلاح و بہبود پر توجہ دے اور بعض اوقات تو یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ کیا آپ کے لکھنے، بات کرنے یا فکر کرنے سے معاشرتی اور اجتماعی مسائل حل ہو جائیں گے؟
راقم کا اس سلسلے میں نقطہ نظر یہ ہے کہ ہماری انفرادی فلاح کا تعلق براہ راست ہمارے ریاستی اور اجتماعی کردار سے ہے، انفرادی سطح پر بھی ہم ترقی محض اسی صورت میں پاسکتے ہیں اور سکون کی انفرادی زندگی بسر کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ جب ہمارے ریاستی اور اجتماعی معاشرتی حالات اچھے ہوں گے مثلاً آج ریاستی بدانتظامی کی وجہ سے عوام زندگی کی روزمرہ سہولیات سے محروم دکھائی دے رہے ہیں کیا سستی توانائی یعنی گیس، بجلی اور پٹرول ایک عام آدمی کا حق نہیں ہے۔ کیا معیاری تعلیم، صحت، ترسیل کے ذرائع ایک شہری کے بنیادی حقوق میں شامل نہیں ہے جنہیں ہم اجتماعی سیاسی مسائل کا نام دے کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ وہ دراصل ہماری روزمرہ زندگی ہیں زندگی رہنے کا حق صاف آب و ہوا اور مالیاتی، ماحولیات، ذہنی اور معاشی آلودگی سے پاک معاشرہ ہی آپ کی اور میری آسان اور پرلطف ذاتی زندگی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ بصورت دیگر گھٹن کرب، مایوسی، آسیب اور خوف سے لپٹا ہوا ہر لمحہ ہمارے ساتھ ہمارا ہمسفر رہے گا۔