Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

الیکشن ایکٹ میں ترمیم اور اس کے مضمرات

اعتدال پسندی اور ریاستی مفادات کی بات جب بھی کی جائے موجودہ ’’آتش فشاں‘‘ ماحول میں اسے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور نہ ہی اسے پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔ معاشرتی اور سیاسی سطح پرPolarization یعنی منفی تقسیم اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اور اس قدر غالب آچکی ہے کہ عقلی دلیل اور شائستہ انداز گفتگو کو ایک احمقانہ اور غیر متعلقہ بات سمجھا جانے لگا ہے ‘ اسے المیہ کہیئے یا پھر اللہ کی پکڑ‘ مجھے اور آپ کو اس روش کا سامنا بہرحال درپیش ہے اس کی ایک جھلک ہماری عدلیہ اور حکومت کے درمیان اس اعلانیہ طبل جنگ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
قارئین کرام جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ گزشتہ دنوں مخصوص نشستوں کے بارے میں عدالت عظمیٰ کے 12 جولائی کے فیصلے نے ریاستی ‘ انتظامی اور سیاسی امور میں طغیانی کی ایک ایسی لہر پیدا کر دی ہے جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔
راقم قانون کے ایک طالبعلم اورشعبہ قانون سے 33 سالہ وابستگی کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ طاقت ‘اقتدار اور اختیار ہماری مقتدر اشرافیہ کے اعصاب اور دماغ پر اس طرح سوار ہوچکے ہیں کہ سیاسی بلوغت اور ریاستی امور میں سنجیدگی‘ تہذیب اور شائستگی بے یارومددگار اور لاچار دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ ترین عدالتوں کے فیصلوں کو بھی ہم نے اپنے ذاتی ‘ گروہی ‘ جماعتی اور سیاسی مفادات کی عینک سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔
قارئین کرام‘ راقم یہ بات اس سے قبل بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہے اور اس کا اعادہ کرتا ہے کہ عدالتی فیصلوں کے مندرجات‘ ان کی قانونی اور آئینی حیثیت اور ان میں دی گئی وجوہات سے اختلاف ہوسکتا ہے اور ایک مہذب معاشرے میں ایسے عدالتی فیصلوں کو زیر بحث بھی لایا جاتا ہے اور متاثرہ فریقین اس سلسلہ میں قانون میں دیئے گئے راستوں کے ذریعے سے ان فیصلوں کو چیلنج بھی کرتے ہیں۔ لیکن کسی بھی عدالتی فیصلہ کو سیاسی رنگ دے کر اسے غیر موثر بنانے کی کوششیں بہرحال کسی طور بھی ریاست کے مفاد میں نہیں ہوسکتی۔
آج ہم اپنے آپ کو محض الیکشن ایکٹ میں حالیہ ترمیم کی حد تک محدود رکھیں گے اور یہ سمجھنے کی کوش کریں گے کہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے پہلے قانون کیا تھا؟ اور حالیہ ترمیم کے ذریعہ سے اس میں کیا تبدیلی لائی گئی ہے۔
پہلے الیکشن ایکٹ کی دفعہ66 کے مطابق کسی بھی امیدوار کیلئے ضروری تھا کہ نشان حاصل کرنے سے قبل وہ ریٹرننگ آفیسر کے پاس ایک بیان یا ڈیکلریشن داخل کرے گا جس میں اسے کسی مخصوص سیاسی جماعت کے ساتھ اپنی وابستگی کو ظاہر کرنا ضروری ہوگا‘ اگر کوئی ہے تو ‘ اس بیان کے ساتھ اسے متعلقہ سیاسی پارٹی کا سرٹیفکیٹ بھی داخل کرنا ہوگا کہ کس مخصوص حلقہ سے اس سیاسی جماعت کا نامزد امیدوار ہے۔
شق نمبر66 میں اب جو ترمیم لائی گئی ہے وہ یہ کہ مذکوہ بالا شرائط پر کوئی بھی عدالتی فیصلہ اثر انداز نہیں ہوگا اور اس شق کا اطلاق ماضی سے بھی ہوگا اور کسی بھی عدالتی فیصلہ کا اطلاق اس شق پر نہ ہوگا۔ یعنی الیکشن ایکٹ کی یہ دفعہ عدالتی فیصلہ سے ماوراء ہے۔
دوسری ترمیم جو اس شق نمبر66 میں کی گئی وہ ایک اضافی شق کو شامل کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت مقررہ وقت میں اپنے مخصوص امیدواوں کی فہرست داخل نہیں کرتی تو پھر وہ سیاسی جماعت مخصوص نشستوں کے کوٹہ کی حق دار بھی نہیں ہوگی۔
اس کے علاوہ الیکشن ایکٹ2017 ء کی دفعہ104-A کا بھی اضافہ کیا گیا ہے جس کے مطابق یہ کہا گیا ہے کہ اگر ایک مرتبہ کوئی آزاد امیدوار کسی بھی سیاسی جماعت کو جوائن کرلے تو پھر وہ اپنے اس فیصلے کو واپس نہیں لے سکتا ‘ باالفاظ دیگر یہ وابستگی ناقابل تنسیخ ہوگی۔ اس ترمیم میں بھی یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ اس شرط پر کوئی بھی عدالتی حکم اثر انداز نہیں ہوگا۔
قارئین کرام‘ مذکورہ بالا قانونی ترامیم سے ایک با ت تو بالکل واضح ہے کہ ان کا براہ راست مقصد12 جولائی کے حالیہ فیصلے کو غیر موثر بنانا ہے۔
آئین اور گزشتہ قانونی نظائر کیا اس کی اجازت دیتے ہیں اور کیا یہ ترمیم مستقبل میں زندہ رہ سکے گی یا پھر سپریم کورٹ اسے کالعدم قرار دے دے گئی۔ یہ ایک قابل بحث موضوع ہے اور اس بات پر بھی بحث ہوسکتی ہے کہ کیا مقننہ اس طرح کی قانون سازی کرسکتی ہے؟
اس کے علاوہ دیگر بہت سے قانونی پہلو ہیں جن کو زیر بحث لایا جاسکتا ہے مگر ا س سے قطع نظر جو بات اس وقت ظاہر دیکھی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک عد التی فیصلہ کے بعد حکومت اور حکومتی جماعت اور ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کے اکثریتی جج صاحبان ایک د وسرے کے مدمقابل آکھڑے ہوئے اور بات محاذ آرائی سے بڑھ کر تصادم کی صورت اختیار کرتی چلی جارہی ہے۔ یہ بات دراصل قابل تشویش اور ریاستی مفاد کے حوالے سے قابل غور و فکر ہے۔ قارئین کرام عدالتی فیصلہ کتنا ہی قانونی سقم رکھتا ہو یا آئینی طور پر کمزور ہو یا قانون کی کسی شق کے متصادم ہو ‘ اداروں کو بہرحال اسے اپنی ادارتی انا یعنی Institutional ego کا مسئلہ بالکل نہیں بنانا چاہیے اور اگر ایسا ہو رہا ہے تو پھر جان لیجئے کہ اس کا سب سے بڑا نقصان بلکہ ناقابل تلافی نقصان ریاست کو بحیثیت مجموعی ہوگا اور ہو رہا ہے یہ ایک ایسی تباہ کن روش ہے جس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلیں بھگتیں گی۔ ہمیں یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ کسی بھی ادارے یا فرد کے پاس اختیار کا ہونا ایک بات ہے اور اس اختیار کا استعمال بالکل ایک مختلف عمل ہے۔ اگر آئین مقننہ کو قانون سازی کا اختیار دیتا ہے تو پھر مقننہ کو اپنے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے دیکھنا ہوگا کہ کہیں ایسی قانون سازی ریاست کو فائدہ پہنچانے کے بجائے الٹا اداروں کو محاذ آرائی اور انا کی جنگ میں تو نہیں دھکیل رہی۔ باالفاظ دیگر مقننہ کو ایسی قانون سازی نہیں کرنی چاہیے جس کا مقصود کسی دیگر ریاستی اور آئینی ادارے کے عمل یا فیصلے کو غیر موثر کرنا ہو اور جس کے نتیجے میں ادارے ایک دوسرے کے مدمقابل حالت جنگ میں دکھائی دیتے ہوں۔
برسبیل تذکرہ یہ بات قابل غور ہے کہ مقننہ کو اس سے قبل الیکشن ایکٹ کی مذکورہ شقوں میں ترمیم کا خیال کیوں نہیں آیا اگر مقننہ اپنے کام پر توجہ دیتی اور ریاستی مفاد اور عوامی فلاح کی قانون سازی اس کے پیش نظر ہوتی تو شائد یہ نوبت ہی نہ آتی مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے قانون ساز اداروں کو بھی قانون بنانے کا خیال اسی وقت آتا ہے جب ان کی دم پر پائوں آتا ہے اور ان کے سیاسی مفادات پر زد پڑتی ہے ۔ ہم نے بحیثیت ایک ریاست اگر اپنی یہ روش تبدیل نہ کی تو اس کا خمیازہ ہم تو بھگت رہے ہیں ہماری آنے والی نسلیں بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکیں گے کیونکہ
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے
نہیں کرتی ملت کے گناہوں کو کبھی معاف

یہ بھی پڑھیں