اسلام میں خواتین کو بہت اعلیٰ مقام عطا کیا گیا ہے اور قرآن و سنت میں ان کی عظمت اور حقوق کا واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ہم نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا۔‘‘اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کی تخلیق کو ایک دوسرے کا مکمل قرار دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور ایک مکمل اکائی تشکیل دیتے ہیں۔
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔‘‘ اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عورت کو ایک ماں کے طور پر کس قدر عزت و احترام حاصل ہے۔ ماں نہ صرف زندگی بخشنے والی ہے بلکہ انسانیت کی پرورش کرنے والی بھی ہے اور اس حیثیت سے اسے ایک عظیم مقام دیا گیا ہے۔تمام مقدس کتابوں میں یہ بات ملتی ہے کہ حضرت حوا کو حضرت آدم ؑکے جسم کے ایک حصے سے پیدا کیا گیا۔ لیکن عورت، انسانیت کی ماں کے طور پر، اپنی حیثیت برقرار رکھتی ہے اور مرد سے جدا ہوئے بغیر اس کی بقاء کا سبب بنتی ہے۔ اس ربانی حکمت کے عطا کردہ توازن کے نتیجے میں، مرد اور عورت ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں اور ایک غیر منقسم اور متحدہ اکائی بناتے ہیں۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ ہم نے ’’نفس واحد‘‘سے انسان کی تخلیق کی اور پھر مردوں اور عورتوں کو پیدا کیا۔
اسلامی تاریخ کے آغاز میں خواتین کو معاشرتی زندگی میں بہت فعال کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ خلافت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں پہلی بار ایک خاتون کو وزیر تعینات کیا گیا اور اسے بازار اور مارکیٹ کی انسپکشن کے اختیارات دئیے گئے۔ وہ باقاعدہ مارکیٹ کا دورہ کرتی تھیں اور اس بات کو یقینی بناتی تھیں کہ بازارِ تجارت میں قیمتیں اور نرخ زیادہ نہ ہوں۔
اسلامی خلافت کے تحت خواتین کے حقوق کی اعلیٰ مثالیں تاریخ اسلام میں موجودہیں ۔ عورتوں کا بہت اہم کردار رہا ۔ میدان جہاد سے تجارت اور دفتری امور میں عورتیں بہت مستعد تھیں۔ خلافت عثمانیہ تک عورتوں امور سلطنت مین فعال کردار ادا کرتی رہیں۔ ایسی مثالوں سے اسلامی تاریخ بھری پڑی ہے۔ حضور اکرمﷺ نے اپنے آخری خطبہ میں تین مرتبہ خواتین کے حقوق اور ان کی دیکھ بھال کرنے کی تاکید فرمائی، جس سے خواتین کے حقوق کی اہمیت اور ان کی حفاظت کا پیغام واضح ہوتا ہے۔
حضرت محمد ﷺ نے جب یہ دنیا چھوڑی تو اس وقت بھی تین مرتبہ عورتوں کی عزت اور مقام کی تاکید فرمائی۔اسی طرح آپ ﷺ اولاد کو والدین کی عزت و توقیر کی تعلیم قرآنی آیات کی روشنی میں دیتے ہوئے ماں کے درجے کو باپ کے مقابلے میں تین درجے فوقیت دیتے۔تاہم، عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد، ایک نیا دور شروع ہوا جس میں اسلامی تعلیمات میں سخت نظریات کا اضافہ کیا گیا اور خواتین کو مردوں سے کم درجہ پر دکھایا جانے لگا، جو کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں تھا اور عورتوں کو ان کے اسلامی مقام سے نیچے کردیا گیا۔ حضور ﷺ کے دور میں خواتین کو معاشرتی، تعلیمی، اور معاشی میدانوں میں بہت فعال کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔
اسلام نے عورت کی نکاح اور شادی میں آزاد رضامندی کو واجب قرار دیا اور وہ بھی گواہوں کی موجودگی میں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب عورت کا معاشرے میں کوئی مقام نہ تھا۔ اسی طرح قرآنی احکام نازل ہوئے عورت کے حقوق وراثت کے تحفظ کے لیے۔ عورت کے حق وراثت والدین، خاوند، اور اولاد کے ترکہ میں متعین کر دئیے گئے۔مولانا رومیؒ خواتین کو خالقِ حقیقی کی ایک عظیم تجلی قرار دیتے ہیں۔ ان کا قول ’’عورت خدا کا نور ہے، اور اس کے اندر تخلیقی صلاحیت خدائی امر ہے‘‘۔ خواتین کی عظمت اور ان کی حیثیت کو بلند کرتا ہے۔اسلام میں خواتین کو احترام، عزت، اور حقوق کے ساتھ ساتھ سماجی، تعلیمی، اور معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی گئی ہے۔
ہمیں اسلامی تعلیمات کے مطابق خواتین کے مقام اور احترام کا خاص اہتمام کرنا چاہئے۔ ان کو ان کا ہر حق دینا اور اس کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ اور انہیں خاندانی اور معاشرتی زندگی میں فعال کردار کے حق سے محروم نہیں کرنا چاہئے۔ عورت کے وجود سے ہی فیملی لائف اور دنیا میں رونق ہے۔ حضرت رومی نے عورت کو زندگی کا نور کہا۔ لہٰذا ہمیں اسلامی تعلیمات کے مطابق خواتین کا احترام اور ان کے خاص مقام کا پاس اور اہتمام کرنا چاہئے۔