Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

9مئی کا بڑا کیس

اڈیالہ سے بالکل بھی اچھی خبریں نہیں آرہیں۔ سابق ڈپٹی سپرٹنڈنٹ جیل محمد اکرم اور ان کے تین معتمد ماتحت ملازمین کو حراست میں لیئے جانے کے بعد جیل کے مزید چھ ملازمین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ان میں ایک سویپر اور دو خواتین بھی شامل ہیں۔ان پر بانی پی ٹی آئی کی سہولت کاری کا الزام ہے۔زیر حراست ملازمین اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم بانی پی ٹی آئی کے لئے پیغام رسانی کا بھی فریضہ سرانجام دیتے تھے۔جنرل فیض سے اب تک کی تفتیش اور آمدہ اطلاعات سے یہ بات کنفرم ہو رہی ہے کہ جنرل فیض بانی پی ٹی آئی سے رابطے میں تھے۔عمران خان نے ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران جیل میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا انہیں خدشہ ہے کہ جنرل فیض کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنایا جائے گا تاکہ 9 مئی کے مقدمات میں مجھے فوجی عدالت میں گھیسٹا جاسکے۔تاہم میں ڈرا ہوا نہیں ہوں۔یہ کچھ بھی کر لیں 9 مئی میرے اوپر نہیں تھوپ سکتے۔عمران خان کو اس بات پر پورا اطمینان ہے کہ انہیں کسی فوجی عدالت سے 9 مئی میں سزا بھی ہوئی تو وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اس سزا کے خلاف اپیل کا قانونی حق استعمال کریں گے۔وہ امید رکھتے ہیں ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ فوجی عدالت کی سزا کو کالعدم قرار دے دے گی۔اگرچہ مارکیٹ میں اعلیٰ عدلیہ میں بانی پی ٹی آئی کو سہولت کاری فراہم کرنے کی بھی خبریں زیر گردش ہیں لیکن ابھی تک ان کا کوئی ثبوت اور وجود نہیں،اس لیے اعلیٰ عدالتوں میں سہولت کاری کی زیر گردش خبروں کو ہم افواہ ہی قرار دے سکتے ہیں۔برملا کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جہاں ایسی افواہیں ماضی میں بھی گردش کرتی رہی ہیں،اب بھی کر رہی ہیں،آئندہ بھی کریں گی،یہ کوئی نئی بات نہیں۔ جب سے سوشل میڈیا نے اپنا وجود پایا ہے ہر نیگیٹیو مائنڈ شخص نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لی ہے۔کوئی بات کتنی ہی جھوٹ کیوں نہ ہو،سچ بنا کر اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ خود ساختہ بات بھی سچ معلوم ہونے لگتی ہے۔
ہمارے ہاں ایسے بہت سے ماہر موجود ہیں جو اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو سوشل میڈیا پر استعمال کرتے ہیں۔ہر جھوٹ،سچ کے لبادے میں اتنا عام ہو جاتا ہے کہ کسی کو اس کی حقیقت پر کوئی شک نہیں گزرتا۔اب بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کیا ہو گا؟وہ کس حال کو پہنچیں گے؟ بہت سی کہانیاں سننے میں آ رہی ہیں۔تجزیے میں تو دل کی بات تجزیے کی زبان میں بیان ہو سکتی ہے۔ضروری نہیں کہ جو تجزیہ ہو رہا ہے سچ بھی ہو۔تجزیہ کسی کی آرا پر مبنی ہوتا ہے۔تاہم اڈیالہ سے خبر دینے والے رپورٹر کہہ رہے ہیں کہ بظاہر بانی پی ٹی آئی گفتگو سے خود کو پر اعتماد ثابت کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔لیکن باڈی لینگوئج صاف ظاہر کرتی ہے کہ بانی بے حد پریشان ہیں۔انہیں محسوس ہو رہا ہے جنرل فیض کے بعد اب ان کی باری ہے۔اگرچہ بانی کی ہر ممکن کوشش ہے وہ فوج کے ہتھے نہ چڑھیں۔فوجی عدالت میں ان کے خلاف 9مئی کا ٹرائل نہ ہو۔لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ فوجی عدالت سے بانی پی ٹی آئی اب کسی صورت نہیں بچ سکیں گے کیونکہ 9 مئی کا ایشو اتنا بڑا ہے جس پر فوج انہیں معاف کرنے کے لیئے تیار نہیں۔حقیقت بھی یہ ہے کہ 9 مئی کو جو ہوا،کوئی دشمن بھی ہمارے ساتھ ایسا نہیں کر سکا۔اس روز 222 فوجی اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا۔جس انداز سے حملے ہوئے۔اس سے ثابت ہوتا ہے پہلے ہی سے ان حملوں کی منظم سازش کی گئی تھی۔
جنرل فیض کی گرفتاری کے بعد اب کافی باتیں کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔منظم سازش کے سارے چہرے ایک ایک کر کے بے نقاب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ان کی گرفتاریاں بھی عمل میں آ رہی ہیں۔ایک بات سب کو ماننا پڑے گی، تسلیم شدہ بھی ہے کہ فوج تحقیق کے بعد کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر کسی کو بھی ملزم نہیں گردانتی،نہ اسے پکڑتی ہے۔تحقیق میں الزام ثابت ہو جاتا ہے،شواہد مل جاتے ہیں،تب واقعہ کے مرتکب افراد پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے۔ثبوت کے بغیر ممکن نہیں کہ فوج کا ادارہ کسی کو الزام دے یا اسے پکڑے۔جنرل فیض معمولی شخص نہیں۔فوج میں لیفٹیننٹ جنرل اور بہت سے کلیدی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ڈی جی آئی ایس آئی ہونا بھی کوئی عام بات نہیں۔یہ فوج میں اہم ترین اور سب سے بااختیار اور باخبر رہنے والا عہدہ ہے لیکن تحقیق میں جب جرم سامنے آئے اور شواہد مل گئے تو فوج نے انہیں بھی معاف نہیں کیا۔اب وہ فوج کی تحویل میں ہیں۔تفتیش کے کٹھن اور سخت ترین مراحل سے گزر رہے ہیں۔جنرل فیض نے دوران تفتیش جو انکشاف کئے،ذرائع بتاتے ہیں اس کے بعد تفتیش کی کڑیاں ایک آئینی ادارے کی کچھ شخصیات تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔اسی لئے اس آئینی ادارے میں جنرل فیض کے ساتھ رابطوں میں رہنے والوں میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔انہوں نے مانا بھی ہے کہ جنرل فیض ان کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے ہیں۔جب وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے جنرل فیض سپریم کورٹ آ کر ان کے رجسٹرار کو ملتے تھے۔جو بھی پیغام دینا ہوتا،رجسٹرار کو لکھوا دیتے۔ایک مرتبہ جب وہ فیملی کے ہمراہ شمالی علاقہ جات کے تفریحی دورہ پر تھے،جنرل فیض نے ان کا بہت خیال رکھا۔
پچھلے دنوں ثاقب نثار کے لندن جانے پر اگرچہ یہ افواہ اڑی کہ گرفتاری کے خوف سے لندن چلے گئے ہیں لیکن لندن میں ایک پاکستانی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایسی خبروں کی تردید کی،کہا وہ معمول کے تفریحی دورے پر فیملی کے ہمراہ برطانیہ آئے ہوئے ہیں،جہاں سے 5ستمبر کو واپس پاکستان پہنچیں گے۔ انہوں نے واضح کیا وہ کسی سے خوفزدہ نہیں،وہ کیوں گھبرائیں گے اور ڈریں گے کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔بانی پی ٹی آئی اور پاکستان تحریک انصاف پر جو مشکل گھڑی ہے۔اس کا اندازہ اور ادراک تمام باخبر حلقوں اور تجزیہ کاروں کو ہے۔تحریک انصاف پر اب یہ مشکل بھی آن پڑی ہے کہ مولانا فضل الرحمان ان کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں۔یہ پی ٹی آئی کے لئے بڑا دھچکا ہے۔اس نے تحریک چلانے کا جو پروگرام بنایا ہوا ہے ۔ شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہوتا نظر آ رہا ہے۔ایک بات مسلمہ ہے 9 مئی کے حوالے سے عمران خان کا ٹرائل فوجی عدالت میں ہوا تو ان کا سزا سے بچنا محال ہو گا۔سزا ہوئی تو پی ٹی آئی بھی اس کے بعد بین ہونے کے مرحلے سے گزرتی نظر آئے گی۔اس کے بعد کیا ہوگا؟ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہاوت ہے انسان کو اپنا بویا خود کاٹنا پڑتا ہے عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں