Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

پاکستان پہ ابلاغی یلغار

ریاست کا وجود اندرونی استحکام پہ منحصر ہے۔ ہم نے ماضی قریب اور ماضی بعید میں عدم استحکام کی وجہ سے کئی ریاستوں کا شیرازہ بکھرتے دیکھا ہے۔ تیونس میں ایک شخص کی خود سوزی سے جنم لینے والے احتجاج کی لہر نے بہت کچھ برباد کر دیا۔ عوام میں ہیجان پھیلانے والے عناصر تخریبی تشدد کی آگ کو ہوا دینے کی صلاحیت تو رکھتے ہیں لیکن کسی تعمیری عمل کو مہمیز نہیں دے سکتے۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ہیجان انگیز بیانئے کے خالق دراصل تخریبی مقاصد کے حصول کیلئے ہی کسی ریاست کو ہدف بناتے ہیں۔
عرب اسپرنگ کی ابتدائی طاقتور اٹھان آگے چل کر عوام اور ریاستوں کے لئے مضر ثابت ہوئی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے افواہوں اور جھوٹی خبروں کی برق رفتار ترسیل کسی ریاست میں انتشار پھیلانے کا انتہائی موثر ذریعہ بن چکا ہے۔ اس ابلاغی ہتھیار کی ہلاکت خیزی کا حالیہ مظاہرہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ معاشرے میں ہوا ہے۔ چند گھنٹوں میں جھوٹی سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پہ سفید فام نسل پرست طبقات کو اس مذہبی اقلیت کے خلاف تشدد پر اکسایا گیا جس کا سائوتھ پورٹ لینڈ چاقو زنی واردات سے کوئی لین دین نہیں تھا۔ پڑوسی ملک بھارت جعلی خبروں (ڈس انفارمیشن) کے نیٹ ورکس کے ذریعے بین الاقوامی پروپیگنڈے میں خاص مہارت کا حامل ہے۔ لگ بھگ تین برس قبل بین الاقوامی تنظیم ڈس انفو لیب نے بھارت کی ابلاغی جعلسازی کا بھانڈا پھوڑا تھا۔ بھارت کی ابلاغی جنگ کا مرکزی ہدف پاکستان ہے۔ ڈس انفو لیب کی مفصل رپورٹ نے بھارت کے پاکستان مخالف ابلاغی اقدامات کے ٹھوس شواہد پہش کئے ہیں۔
پاکستان کو ناکام ریاست ثابت کرنے کے لئے گذشتہ تین برسوں میں بھارت نے اپنے زرخرید چینلز ، اخبارات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔ یہ سلسلہ آج بھی زور و شور سے جاری ہے۔ مغربی میڈیا کے اسرائیل دوست عناصر نے پاکستان مخالف ابلاغی یلغار میں بھارت کو بھرپور معاونت فراہم کی ہیں۔ پاکستان میں سابق حکمران جماعت کے ہیجان انگیز احتجاجی بیانئے سے جنم لینے والے انتشار کو بھارتی اور اسرائیل دوست مغربی میڈیا نے بھرپور انداز میں استعمال کیا ہے۔ انصافی نونہالان انقلاب کے علاوہ نام نہاد قوم پرست جتھوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست پاکستان میں وسیع تر انتشار کے لئے پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے۔
یہ امر نہایت غور طلب ہے کہ جو مغربی میڈیا چالیس ہزار سے زائد فلسطینی شہدا کے حق میں اسرائیل کی معمولی مذمت کا روادار نہیں وہ سابق وزیراعظم کی خود ساختہ مظلومیت پہ ٹسوے کیوں بہا رہا ہے۔ جس مغربی میڈیا نے نیتن یاہو کے امریکی کانگریس میں خطاب کے دوران بولے گئے سفید جھوٹوں کو شہ سرخیوں میں شائع کیا اور شہید فلسطینیوں کو دہشت گرد کہا وہ کرپشن کے الزامات کے تحت قید سابق وزیر اعظم کو دیوتا بنا کر کیوں پیش کر رہا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ عالمی میڈیا کے وہ با اثر صیہونی حلقے جن کی سماعتوں تک فلسطینیوں اور کشمیریوں کی آہیں نہیں پہنچ پاتیں وہ ہمہ وقت علیحدگی پسند قوم پرستوں کے غم میں گھل جارہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سنجیدہ ذہن طبقات کے لئے یہ امر باعث تشویش ہونا چاہئے کہ اسرائیل دوست مغربی اور بھارتی میڈیا آخر ان کے بانی چیئرمین پہ اتنا مہربان کیوں ہے؟ کیوں بعض پارٹی لیڈر لندن ، امریکہ اور مغربی ملک میں بیٹھ کر ایسا بیانیہ گھڑتے ہیں جس سے ملک میں انتشار بھی پھیلتا ہے اور پاکستان میں مقیم سنجیدہ مزاج قیادت کی بھی سبکی ہوتی ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ بھارتی اور صیہونی ابلاغی یلغار کا اولیں ہدف یہی ہے کہ پاکستان میں عوام کو حکومت ، فوج ، پارلیمان اور پولیس کے مد مقابل لا کر ریاست کی بنیادیں ہلا دی جائیں۔ اس طرز کے انتشار کی بدولت تیل کی دولت سے مالا مال ریاستیں بھی اپنی خود مختاری گنوا چکی ہیں۔ سابق وزیراعظم ہونے کے ناطے بانی پی ٹی آئی کا اسرائیل دوست میڈیا پہ انحصار اور ان کے نام پہ بعض شاطر افراد کی امریکی و برطانوی پارلیمانی ایوانوں میں دوڑ دھوپ نے ملک دوست عناصر میں کافی تشویش پیدا کی ہے۔ ان کے سابقہ صیہونی سسرال کے عالمی میڈیا میں اثر و رسوخ کے حوالے سے بھانت بھانت کی کہانیاں زبان ذد خاص و عام ہیں۔ پی ٹی آئی کی صفوں میں پھیلتے انتشار سے مایوس ہوتی عوام یہ سوال کر رہی ہے کہ جماعت کی قیادت بیرون ملک مقیم مشکوک کرداروں اور پاکستان دشمن میڈیا سے لاتعلقی کے اظہار میں ہچکچاہٹ کا شکار کیوں ہے؟

یہ بھی پڑھیں