اس وقت آکسفورڈ یونیورسٹی کی چانسلر شپ کامسئلہ صرف اخبارات کی زینت بنا ہواہے‘ ابھی تک کسی بھی چانسلر کے تقرر کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ اس چانسلر شپ کے لئے پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مایہ ناز کرکٹر عمران خان نے بھی ’’درخواست ‘‘دائر کی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اور بھی افراد ہیں جنہوں نے چانسلر شپ کے لئے apply کیاہے۔ فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا ہے۔ یعنی دلی ہنوزدور است کے مصداق۔ لیکن پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کے اخبارات میں عمران خان کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر شپ کی ’’ خواہش‘‘ پر خاصے تبصرے ہورہے ہیں‘ خصوصیت کے ساتھ پاکستان میں جہاں مسلم لیگ (ن) کے سیاسی رہنما ان پر غیرضروری تبصرے کرکے اپنے دل کے چھالے پھوڑ رہے ہیں۔ وہیں اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ نون کے کسی رہنما کے پاس نہ تو آکسفورڈ کی ڈگری ہے اور نہ ہی ان کے پاس اعلیٰ تعلیم کا کوئی ریکارڈ موجود ہے۔ ان کے رہنمائوں نے پاکستان کے کالجوں سے جوڈگریاں حاصل کی ہیں اس پر بھی عوام کو شک ہے۔ نیز ان کے لب ولہجے سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ انہوں نے کسی بھی کالج یا یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہو ۔
عمران خان سے انہیں اس لئے حسد‘ بغض اورعناد ہے کہ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہے۔ انہوں نے کرکٹ کی دنیا میں اپنا اور پاکستان کانام روشن کیاہے(ورلڈ کپ کے حوالے سے)۔ تو دوسری طرف وہ پاکستان کا واحد سیاسی رہنما ہے جو پاکستان کے عوام میں غیر معمولی طور پر مقبول ہے۔ نیز ہرگزرتے دن کے ساتھ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔ جبکہ مسلم لیگ نون کے رہنما سازشی ذہین کے حامل عناصر ہیں۔ وہ ارباب اختیار سے ملکر پاکستان کی سیاست کو جس رخ پر لے جارہے ہیں۔ اس سے آئندہ مملکت پاکستان کو خدانخواستہ ناقابل تلافی پہنچ سکتا ہے۔اس ضمن میں یہاں شیخ رشید کا ایک جملہ دوہراناچاہوں گا جس میں انہوں نے کہاتھا کہ پاکستان کی سیاست صرف اور صرف عمران خان کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس ہی قسم کے خیالات پاکستان سے باہر بیٹھے ہوئے ہمارے دوست بھی کہہ رہے ہیں عمران خان نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر شپ کے لئے اگر خواہش ظاہر کی ہے۔ تواس میں برائی کی کیا بات ہے؟ دراصل مسلم لیگ(ن) کے رہنما عمران خان کی مقبولیت اوران کی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کی صورت میں خاصے احساس کمتری میں مبتلا ہیں یہی وجہ ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی چانسلر شپ کے ضمن عمران خان کے حاسدوں اور احساس کمتری میں مبتلا مسلم لیگ (ن) کے رہنما برطانوی اخبارات میں جس قسم کے غلط اور بے بنیاد بیانات شائع کرارہے ہیں اس سے عمران خان کی ہتک نہیں ہورہی ہے بلکہ انہیںبے پناہ مقبولیت مل رہی ہے۔ بقول ہمارے ایک دوست کہ جو لندن میں گزشتہ چالیس سالوں سے مقیم ہیں‘ انہوں نے بتایا کہ اگر عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر بنتے ہیں یا نہیں‘ لیکن انہیں اس وقت جوپرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں پبلسٹی مل رہی ہے وہ شاید انہیں چانسلر شپ ملنے کی صورت میں بھی نہ مل سکے۔ ان کی سابقہ بیوی جائماما اوران کے بیٹے سیاستدانوں کے ساتھ ملکر ان کے لئے چانسلر شپ کی راہیں ہموار کررہے ہیں تاہم اس کے لئے زیادہ تگ ودو کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ عمران خان کانام برطانیہ میں ایک house hold نام بن چکاہے۔ نیز جیل میں ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھاجارہاہے اس کے سب بھی ان کیلئے برطانوی عوام کی اکثریت میں محبت اور احترام کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ ان کے پاکستانی مخالفین برطانوی اخبارات میں ان کے خلاف جو بیانات شائع کرارہے ہیں اس سے عمران خان کی ذات پر کوئی اثرنہیں پڑرہاہے بلکہ اس صورت میں ان کی شہرت اور مقبولیت میں مزید اضافہ ہورہاہے۔ نیز موجودہ حکومت پاکستانی عوام کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی کوئی نیک نام نہیں ہے۔ وہ جس طرح اقتدار میں آئی ہے۔ اس سے پاکستان کے علاوہ بیرونی ممالک کے باشعور عوام اچھی طرح واقف ہیں‘رہی سہی کسر قیصر بنگالی نے پوری کردی ہے جوکچھ عرصے تک موجودہ حکومت کے ساتھ تھا لیکن اب حکومت کی ناقص کارکردگی سے متعلق معلومات عوام کے سامنے لارہاہے ‘ مزید براں موجودہ حکومت پاکستان کے عوام کو یہ تاثر دے رہی ہے کہ ہم عمران خان سے بات چیت کرناچاہتے ہیں تاکہ مملکت کا کاروبار احسن طریقے سے چلایاجاسکے۔ لیکن عمران خان مسلسل انکارری ہیں بلکہ ان کا یہ بیانیہ عوام میں بے حد مقبول ہے کہ وہ صرف ان سے مکالمہ کریں گے جو اس ملک کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں عمران خان کا موقف سوفیصد درست ہے۔ اصل سیاسی طاقت اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے باقی سب ہیر پھیر ہے۔
چنانچہ مسلم لیگ(ن) کے رہنما آکسفورڈ یونیورسٹی کی چانسلر شپ کے سلسلے میں عمران خان کے خلاف جومہم چلارہے ہیں اس سے عمران خان کی مقبولیت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ دراصل انہیں چانسلر شپ ملنے سے پہلے ہی برطانوی پریس کے علاوہ عالمی سطح پر جو شہرت مل چکی ہے وہ انہیں چانسلر شپ ملنے کی صورت میں نہیںمل سکتی تھی۔ دراصل موجودہ حکومت کو چاہے کہ وہ پاکستانی عوام میں اور بیرونی دنیا میں اپنی کارکردگی کے حوالے سے اچھا امیج پیداکرنے کی کوشش کرے تاکہ عوام کی زندگیوں میں خوشحالی اور آسودگی کے آثار پیدا ہوسکیں۔ تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت عمران خان کی مقبولیت کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہے اور نہ ہی ان میں وہ قابلیت یا صلاحیت ہے کہ وہ عوام کو درپیش سیاسی ومعاشی مسائل حل کرسکے۔ اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت کے بیشتر ارکان مملکت کے لئے نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کے لئے کام کررہے ہیں جبکہ قانون سازی بھی ذاتی مفاد کی عکاسی کررہی ہے۔
اس لئے موجودہ حکومت کو آکسفورڈ یونیورسٹی کی چانسلر شپ کے سلسلے میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘ یہ چانسلر شپ عمران خان کو ملتی ہے کہ نہیں لیکن جس قسم کی پبلسٹی انہیں مل رہی ہے وہ آکسفورڈ یورنیورسٹی کی چانسلر شپ سے کہیں زیادہ ہے۔پاکستان میں سیاسی طور پر چھوٹے قد کے لوگ جس قسم کا بھی عمران خان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرلیں‘ فرق نہیں پڑتاہے‘ جسے اللہ رکھے اس کو کون چکھے۔