غیبت، چغلی، حسد اور جھوٹ وہ بيمارياں ہیں جو معاشرتی انتشار اور نفاق اور تباہی کی بنیادیں ہیں۔ غیبت اور جھوٹ سے بچنے کے قران و سنت کے احکام ہمیں ان برائیوں سے دور رہنے کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ ہم باہمی محبت اور اخوت کی بنیاد پر پرامن اور صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکیں۔ جہاں ہر ایک عزت اور انسانی وقار محفوظ ہو۔
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانیت کو اخلاقیات اور سماجی عدل کے اصولوں پر مبنی معاشرہ قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اس کے لئے قرآن و حدیث میں بارہا ان باتوں سے منع کیا گیا ہے جو معاشرتی بگاڑ اور خرابی کا باعث بنتی ہیں، جن میں غیبت اور جھوٹ شامل ہیں۔ یہ دونوں برائیاں نہ صرف فرد کے کردار کو تباہ کرتی ہیں بلکہ پورے معاشرے میں انتشار، بدگمانی اور فساد پیدا کرتی ہیں۔ قرآن مجید کی روشنی میں: قرآن مجید میں غیبت کو صریحاً منع کیا گیا ہے اور اس کی شدت کو اس مثال کے ذریعے بیان کیا گیا ہے کہ یہ عمل ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔
(سورۃ الحجرات: 12) کی آیات: اس آیت میں غیبت کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اسے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ یہ تشبیہ انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہے کہ غیبت کس قدر ناپسندیدہ عمل ہے۔ اسی طرح چغلی اور جھوٹے الزام کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ جھوٹ اور چغلی کے بارے میں قرآن مجید کی (سورۃ الحج: 30) : اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کو واضح طور پر ناجائز قرار دیا ہے اور اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ جھوٹ بھی شرک کے مانند ایک بڑا گناہ ہے۔
احادیث کی روشنی میں:
نبی کریم ﷺ نے غیبت اور جھوٹ کو انتہائی ناپسندیدہ اعمال قرار دیا ہے اور انہیں دوزخ کی طرف لے جانے والا عمل بتایا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟‘‘ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا: ’’اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہارا اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرنا جو اسے ناگوار گزرے۔‘‘(صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی دوزخ کی طرف لے جاتی ہے۔‘‘
(صحیح بخاری)
یہ احادیث ہمیں بتاتی ہیں کہ غیبت اور جھوٹ نہ صرف دنیا میں فتنہ و فساد کا باعث بنتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی انسان کو عذاب میں مبتلا کرتے ہیں۔ تمام اہل علم و دانش نے بھی غیبت اور جھوٹ ، چغلی اور حسد کی مذمت کی ہے اور انہیں معاشرتی بگاڑ کی جڑ قرار دیا ہے۔ مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’غیبت کرنا اپنے دل کی سیاہی کو بڑھانا ہے، اور جھوٹ بولنا روح کی پاکیزگی کو کھو دینا ہے۔‘‘اور حسد کر کے اپنے باطن کو جلانا ہے۔ ’’غیبت وہ زہر ہے جو صرف دوسرے کو ہی نہیں بلکہ خود کرنے والے کو بھی اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔‘‘
غیبت ، چغلی ،جھوٹ اور حسد معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں اور لوگوں کے درمیان اعتماد اور محبت کو ختم کرتے ہیں۔ انکی وجہ سے لوگوں کے درمیان بدگمانی اور دشمنی بڑھتی ہے، جس سے معاشرے میں افراتفری پیدا ہوتی ہے۔ جھوٹ بولنے سے افراد اور اداروں کے درمیان اعتماد کی فضا ختم ہو جاتی ہے، جس سے معاشرتی اور اقتصادی نقصان ہوتا ہے۔ غیبت، بدظنی ،حسداور جھوٹ وہ برائیاں ہیں جو انسان کےکردارکو داغدار کرتی ہیں اور معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتی ہیں اور باہم تفرقہ کا باعث بنتی ہیں دوسروں کے عیوب اور غلطيوں پر پردہ ڈالنا اور انکی پیار و احترام سے اصلاح کرنا ہی مثبت اور نیکی کا طریقہ ہے۔ ایک حديث کے مطابق جو مسلمان بھائی کا پردہ رکھے گا اللہ اسکا پردہ یوم حساب یعنی قیامت کے دن رکھے گا۔ اسی طرح حسن ظن رکھنے کو نیکی اور خیر سے تعبیر کیا گیا اور چغلی كو مردہ بھائی کا گوشت کھانے کےبرابرقرار دیا گیا۔ اسی طرح دوسروں کی کامیابیوں اور عزت و ابرو سے جلنا اور ان سے حسد کرنا نہیں بلکہ خوش ہونا چاہئے۔ عزت و مال و اولاد دینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ سب کو کوشش کرنی چاہئے کہ صبر و رضاء اور باہمی احترام و محبت کے ساتھ دنیا کی زندگی گزاریں اور اللہ کی رضا حاصل كرکے عارضی زندگی سے ابدی زندگی کو اللہ تعالی کےمقرہ وقت پر خوشی خوشی جائیں اور ہمیشہ کی عیش و راحت بھری زندگی سے لطف اندوز ہونے والوں میں شامل ہو جائیں۔ قرآن و حدیث كےواضح احکام کی روشنی میں ہمیں ان برائیوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ ہم ایک پرامن ، اور پاکیزہ معاشرہ دنیا میں قائم کر سکیں۔ جہاں اخوت و مساوات اور انصاف کی فضا ہو اور ہم ايک دوسرے کیساتھ بھائی چارے اور پیار و محبت كے ساتھ دنیا کی زندگی ایک مثالی انداز میں اللہ کی رضا اورخوشنودی کے لئے گزار کر امتحان دنيا میں کامیابی کا رحمت ربانی کاسرٹیفکیٹ لے کر اللہ کے سایہ رحمت میں کامیاب ابدی زندگی کے مسحق ہوسکیں۔