Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

لاہور کے سرکاری رہائشی منصوبے ، کوئی پرسانِ حال نہیں

لاہور کا شمار پاکستان کے وسیع اور کشادہ دل شہروں میں ہوتا ہے۔اس میں بہت ہی تاریخی عمارتیں ہیں۔ماضی کی کئی مشہور داستانیں بھی اس سے وابستہ ہیں۔شہر کی آبادی وقت کے ساتھ ساتھ دو اڑھائی کروڑ کے لگ بھگ ہو چکی ہے۔اس میں کبھی دریائے راوی بھی بہتا تھا جس کا پانی اب کئی برسوں سے مفقود ہے۔بھارت میں ڈیم بننے سے اب یہ پانی نہیں آتا۔تاہم دریا کے ساتھ ساتھ ایک نئے شہر کی بنیاد رکھ دی گئی ہے جو راوی شہر کے نام سے کئی ہزار ایکڑ پر آباد کیا جا رہا ہے۔اس شہر کو بسانے کے لیئے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا)کے نام سے ایک ترقیاتی ادارہ بھی قائم کیا گیا ہے جو لاہور سے متصل اس نئے شہر کو آباد کر رہا ہے۔اس کی تمام تر ڈویلپمنٹ کا کام روڈا کے ذمے ہے۔لاہور میں پاکستان کی خوبصورت ترین سڑکیں انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ بدترین ٹریفک بھی پائی جاتی ہے۔پطرس بخاری مرحوم نے لگ بھگ نوے سال قبل لاہور کے بارے جو پیش گوئیاں کی تھیں وہ حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی ہیں۔حدود اربع کی بات کریں تو اس کے ایک جانب رائے ونڈ اور قصور ہیں تو دوسری جانب اس کی حدود واہگہ مریدکے اور مانگا منڈی تک جا پہنچتی ہے۔اصلی لاہوری خالص دودھ،مکھن اور تازہ ہوا کی طرح معدوم ہو چکے ہیں۔کہا جاتا ہے لاہور کے لوگ بہت فراخ دل ہوتے ہیں لیکن راقم نے مرسیڈیز میں سوار خواتین اور اکثر مردوں کو سبزی والے کی دکان پر نرخوں پر صرف پانچ روپے کی خاطر لڑتے اور بحث کرتے دیکھا ہے۔لاہور کا موسم چھ سے ساتھ ماہ گرم اور 5 ماہ سرد رہتا ہے۔ مال روڈ کو لاہور کا دل کہا جاتا ہے۔یہاں دو سٹروک رکشوں کا داخلہ منع ہے۔گدھا ریڑھی والے بھی اس روڈ پر نہیں آ سکتے۔چڑیا گھر،گورنر ہائوس اور اولڈ پنجاب یونیورسٹی بھی اسی مال روڈ پر واقع ہیں۔یہیں سے ایک سڑک اولڈ انارکلی اور نیو انارکلی کو بھی جاتی ہے۔جی او آر بھی اسی روڈ سے متصل ہے۔واپڈا ہائوس بھی مال روڈ پر ہی واقع ہے۔اس روڈ کے ایک جانب چھائونی کا علاقہ،اولڈ ایئرپورٹ ہیں تو دوسری جانب جہاں روڈ کا اختتام ہوتا ہے۔
ناصر باغ،ٹائون ہال،پوسٹ ماسٹر جنرل کا آفس اور سول سیکرٹریٹ ہیں۔اس بات پر فی الحال تحقیق ہو رہی ہے کہ لاہور کھانوں کی وجہ سے مشہور ہے یا کھانے لاہور کے باعث مشہور ہیں۔لاہور میں عالمی شہرت کی ایک فوڈ سٹریٹ بھی ہے جہاں انواع و اقسام کے لذیذ کھانوں سے لوگ لطف اٹھاتے ہیں۔شاہی قلعہ،مزارِ اقبال،بازار حسن اور شاہی مسجد لاہور کے تاریخی اور یادگار مقامات ہیں۔لاہور کبھی بارہ دروازوں کا شہر تھا۔جہاں نصف صدی قبل پورا شہر آباد تھا۔لاہور کے یہ علاقے گنجان آبادی والے علاقے تھے۔پھر جیسے جیسے وقت بدلا۔آبادی میں بھی اضافہ ہونے لگا۔لاہور بارہ دروازوں سے باہر نکل آیا۔نئی بستیاں وجود میں آنے لگیں۔لاہور جو کبھی بھاٹی،موچی،موری، لوہاری، شیرانوالہ اور مستی گیٹ تک محدود تھا،پھیلتا پھیلتا ایک طرف قصور،دوسری جانب رائے ونڈ،واہگہ بارڈر،مریدکے اور مانگا منڈی کو چھونے لگا۔کئی نئی ماڈل بستیاں وجود میں آگئیں۔نئے اور جدید لاہور کی ڈویلپمنٹ کے لیئے ایل ڈی اے یعنی لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس اتھارٹی کو پنجاب کے کیپیٹل لاہور میں نئی منصوبہ بندی اور ارتقا کی ذمہ داری سونپی گئی۔اس اتھارٹی کا دائرہ کار پورے ضلع لاہور ڈویژن اور چاروں اضلاع تک تقریبا پھیلا ہوا ہے۔حکومت پنجاب کے اختیارات اور اس کا آئینی ڈھانچہ جس طرح آئین میں بیان کیا گیا ہے ویسے ہی ایل ڈی اے کا آئینی ڈھانچہ صوبائی اسمبلی سے منظور شدہ ہے۔لیکن بدقسمتی سے اس پر پوری طرح سے عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آتا ہے۔محکمہ کے افسران اور اہلکاران بھی اسے پوری طرح سے فالو نہیں کرتے ہیں۔ایل ڈی اے جہاں نئی سوسائٹیوں کو وضع کردہ رولز کے مطابق ان کے قیام کی اجازت دیتا ہے۔وہاں اس بات کا بھی پابند ہے کہ نئی سوسائٹیوں کے قیام کے بعد ان میں اپنے رولز کی خلاف ورزی نہ ہونے دے۔یہی وجہ ہے کہ لوگ ایسی سوسائٹیوں پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں جو ایل ڈی اے سے منظور شدہ ہوتی ہیں۔ایل ڈی اے کے لاہور میں اپنے بھی کچھ ہائوسنگ پراجیکٹس ہیں۔ان میں سے رائے ونڈ روڈ پر واقع ایک سرکاری ملازمین کا ہائوسنگ پراجیکٹ ایل ڈی اے ایونیو ون سکیم رائے ونڈ روڑ بھی ہے۔
یہ ہائوسنگ پراجیکٹ 974 ایکڑ رقبے اور 14 بلاکس پر پھیلا ہوا ہے جس میں 261 کنال اراضی کمرشل ایریا مقاصد کے لیئے مختص کی گئی ہے۔اس ہائوسنگ سکیم میں کل 13,855رہائشی پلاٹ ہیں۔2001 میں رائے ونڈ روڈ پر واقع اس ہائوسنگ پراجیکٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔تاہم اپنے قیام سے اب تک گزشتہ 23 سالوں میں یہ سوسائٹی تمام بنیادی سہولیات سے اب بھی محروم ہے۔یہی وجہ ہے کہ سوسائٹی میں اتنے سال گزر جانے کے باوجود اب تک بہت کم لوگ آباد ہوئے ہیں جبکہ آس پاس کی پرائیویٹ سوسائٹیز کافی زیادہ ڈویلپ ہو چکی ہیں۔ ایل ڈی اے اور واپڈا ایک دوسرے پر ذمہ داریاں ڈالتے رہتے ہیں۔445 کنال رقبے پر جو مختلف پارکس ہیں وہ بھی نگہبانی نہ ہونے کے باعث مکمل طور پر اجڑ چکے ہیں۔مختلف پارکس،پارکس سے زیادہ کسی آسیب زدہ باغ کا منظر پیش کرتے ہیں۔بعض پارکس پر قبضہ مافیا کا راج ہے۔جہاں انہوں نے ایل ڈی اے کی ملی بھگت سے ناجائز تجاوزات بھی قائم کر رکھی ہیں۔جے بلاک میں بھی ناجائز قبضوں کی ایسی ہی صورت حال ہے،بہت سے معاملات عدالتوں میں کئی کئی سالوں سے زیر سماعت ہیں مختلف بلاکس جن میں ایل اور کے بلاک شامل ہیں ان کے الاٹیوں کو ابھی تک پلاٹوں کے قبضے بھی نہیں مل سکے ہیں ایل ڈی اے سرکاری وکیل عدالتوں میں پیش ہی نہیں ہوتے ہیں۔حالات کے بگاڑ کی شاید وجہ یہ بھی ہے کہ ایل ڈی اے کے ڈائریکٹرز جنرل اور ایل ڈی اے ایونیو ون کے ڈائریکٹرز بار بار تبدیل ہوتے رہتے ہیں لہذا کام مسلسل التوا کا شکار رہتے ہیں۔ایونیو ون کے رہائشیوں کی پریشانیاں بے حد بڑھ چکی ہیں۔جس پر اب اعلیٰ سطح پر کچھ کرنے اور نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔موجودہ ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے طاہر فاروق اور چیف منسٹر پنجاب مریم نواز شریف ہی اس سلسلے میں کچھ کر سکتے ہیں۔رہائشیوں کی ان سے نوٹس لینے کی استدعا ہے۔

یہ بھی پڑھیں