Search
Close this search box.
اتوار ,12 جولائی ,2026ء

اسرائیلی میڈیا کا نرم گوشہ؟

ٹائمز آف اسرائیل نامی جریدے میں شائع ہونے والے اس بلاگ کا بہت چرچا ہورہا ہے جس میں لکھاری خاتون نے سابق وزیر اعظم عمران خان سے وابستہ اسرائیلی ریاست کی دیرینہ امیدوں کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ جریدہ اسرائیل کی ریاستی پالیسیوں کا ترجمان سمجھا جاتا ہے۔ لہذا بلاگ کو ذاتی رائے قرار دے کر نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ یہ پہلو نہایت چشم کشا اور تشویش ناک ہے کہ سابق وزیر اعظم کی عوامی شہرت کو اسرائیلی ریاست ایک ایسا اثاثہ سمجھتی ہے کہ جسے وقت آنے پر استعمال کر کے پاکستان میں اسرائیل کا وجود تسلیم کرنے کے لئے راہ ہموار کی جا سکتی ہے ۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ جریدے میں بلاگ کے ذریعے ذریعے اسرائیلی ریاستی لابی نے سابق وزیر اعظم کی رہائی کی دہائی دی ہے۔ اس معاملے کی سنگینی کا اندازہ لگانے کے لئے اسرائیلی ریاست کے طرز عمل پہ نگاہ ڈالنا ضروری ہے ۔اسرائیلی ریاست اپنے قیام سے آج تک جس مسلم دشمن شدت پسندانہ پالیسی پر کار فرما ہے وہ کسی بھی شبے سے بالا ہے۔ گذشتہ برس اکتوبر کے مہینے میں حماس کے حملوں کے بعد نیتن یاہو کی جنونی حکومت نہتے فلسطینیوں کو تسلسل سے وحشیانہ انداز میں ہدف بنا رہی ہے۔ دس ماہ کے عرصے میں اکتالیس ہزار سے زیادہ فلسطینی مردوں ، عورتوں اور بچوں کی شہادت اسرائیلی ریاست کی مسلم دشمنی کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ اسرائیل کی ریاستی غنڈہ گردی کو امریکہ ، برطانیہ اور یورپی ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اسرائیل کے ریاستی وجود کو دوام بخشنے کے لئے مسلم ممالک پر کثیر الجہتی دبا رکھا گیا ہے۔
اسلامی ممالک کی سیاسی صورتحال اور دفاعی استعداد ہمیشہ ہی اسرائیلی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں فلسطینیوں کے جانی و مالی نقصانات سمیت ناجائز یہودی بستیوں کے قیام نے مسلم معاشروں میں گہرے غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ مسلم دنیا میں سرائیت کر جانے والی شدید عوامی نفرت ہمیشہ اسرائیل کو ریاستی دفاع کے حوالے سے شدید نفسیاتی خوف میں مبتلا رکھتی ہے۔ اسلامی ممالک کی عسکری استعداد اسرائیل اور اس کے سرپرست مغربی ممالک کی آنکھ میں کانٹا بن کے کھٹکتی ہے۔ یہ افسانہ یا سنی سنائی غیر مصدقہ بات نہیں بلکہ مبنی بر حقیقت دعوی ہے۔ یہودی سازشوں کے تذکرے کو طنزیہ انداز میں رد کرنے والے بائیں بازو کے ناقدین اگر تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایسے متعدد واقعات مل جائیں گے جو اسرائیل کی مسلم دشمن پالیسیوں کے ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ عراق کی نیو کلیائی تنصیبات پہ اسرائیل کا فضائی حملہ ایک ایسا ہی واقعہ ہے ۔ جون 1981 ء کو اسرائیل نے تمام عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر عراق کے زیر تعمیر نیوکلیئر ری ایکٹر کو تباہ کر دیا تھا۔ یہ حملہ ان عالمی قوتوں کی حمایت کا شاخسانہ تھا جو اسرائیل کے ہر ناجائز اور غیر قانونی اقدام پہ آنکھیں موند لیتے ہیں۔ اسرائیل نے عراقی نیوکلیائی پروگرام کو اپنی قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دے کر عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سرحدوں کی کھلی کھلا خلاف ورزی کر کے بغداد سے سترہ کلو میٹر دور ری ایکٹر پہ فضائی حملہ کیا تھا۔ اسرائیلی ریاست کی اپنے ریاستی وجود کے حوالے سے مجنونانہ ذہنیت کا ادراک رکھنا بے حد ضروری ہے۔ پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہے۔ اس ریاست کا قیام جداگانہ مسلم تشخص کی بنیاد پہ ہوا ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا موقف مسئلہ فلسطین کے حوالے سے روز روشن کی طرح عیاں ہے۔
بابائے قوم اسرائیل کو سامراجی استحصالی قوتوں کی ناجائز اولاد سمجھتے تھے۔ پاکستانی معاشرے کی اسلامی طرز حیات سے گہری وابستگی اور نبی مکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات مقدسہ سے والہانہ وابستگی کی بدولت اسرائیلی ریاست کے مقابل مظلوم فلسطینیوں کے لئے ہمدردی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ پاکستان کی دفاعی استعداد اور ایٹمی پروگرام اسرائیل کی آنکھوں میں کانٹا بن کے کھٹکتے ہیں۔ پا کستان کے ازلی دشمن بھارت کی صورت اسرائیل کو خطے میں ایک ایسا فطری اتحادی دستیاب ہے جو ہمہ وقت جارحیت کے لئے تیار رہتا ہے۔ اس تناظر میں ٹائمز آف اسرائیل کے بلاگ سے ابھرنے والا تاثر مزید سنگین ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ واضح ہے کہ تل ابیب پاکستان کی اندرونی سیاست اور صورتحال پہ گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ پاکستانی معاشرے میں اسرائیل مخالف جذبات سے صیہونی لابی خائف ہے۔ پاکستان سے اسرائیل کے ریاستی وجود کو تسلیم کروانے کی دیرینہ صیہونی خواہش بھی ابھر کر سامنے آچکی ہے۔ یہ چشم کشا انکشاف توجہ کا طالب ہے کہ اسرائیل کا ترجمان جریدہ سابق وزیر اعظم کی اسرائیل کے متعلق حکمت عملی کو وقتی سیاسی مجبوری قرار دیتے ہوئے بااثر برطانوی صیہونی گولڈ اسمتھ خاندان کے درپردہ اسرائیل دوست روابط کو مستقبل کے لئے امید کی کرن قرار دے رہا ہے۔
گزشتہ کالمز میں اسرائیل دوست میڈیا میں سابق وزیر اعظم سے متعلق پائے جانے والے معنی خیز نرم گوشے کا تذکرہ کیا جا چکا ہے۔ اب یہ راز مزید بے نقاب ہوگیا ہے۔ جو اسرائیلی ریاست عراق کا معمولی ری ایکٹر برداشت نہ کر سکی وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کیسے برداشت کر سکتی ہے۔ یہ معاملہ نہایت تعجب انگیز ہے کہ فلسطینیوں کہ قاتل ، عالم اسلام کی دشمن ،بھارت کی اتحادی اور ایٹمی پاکستان سے خائف اسرائیلی ریاست کے دل میں آخر سابق وزیر اعظم کے لئے ہی نرم گوشہ کیوں پیدا ہوا ہے ؟ انصافی نونہالان انقلاب اس اسرائیلی انکشاف کی روشنی میں انتشار ی اور فسادی طرز سیاست کو پرکھ کر اپنی قیادت کے کردار اور سوشل میڈیائی شہرت کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں