Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

ربیع الاول ولادت نبی آخرزما ںﷺ

اسلام حضرت محمد ﷺ کی ولادت با سعادت کا پر نور مہینہ ہے، یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں دعائے خلیل اور نویدِ مسیحا کا ظہور ہوا، یعنی محسنِ انسانیت پیغمبراعظم ﷺ کو خالقِ کائنات نے رحمتِ مجسم بناکر اس خاکدان عالم میں بھیجا۔ نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کی پیدائش 12ربیع الاول کو مکہ مکرمہ میں ہوئی۔چالیس سال کی عمر میں آپ ﷺ پر آغاز وحی ہوا، جبکہ آپ تنہا غار حرا میں خلوت گزینی اور دعاو مناجات کی حالت میں جستجو حق میں محومراقبہ تھے۔آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین بنا کر دنیا میں مبعوث فرمایا، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس عظیم مقام پر فائز کرتے ہوئے فرمایا:وما رسلنا ِلا رحمۃ لِلعالمِین ’’اور (اے نبی) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ (سورہ الانبیا: 107)
آپ ﷺکی ولادت کے واقعہ میں ایک عظیم پیغام پنہاں ہے،آپ ﷺ کی بعثت نے دنیا کو شرک و کفر اور جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر رشد و ہدایت اور علم و عرفان کے نور میں بدل دیا۔ آپ ﷺ کی ولادت کے وقت دنیا میں ظلم و بربریت عام تھی،انسان انسان کا دشمن تھا، قتل و غارت گری کا ہر سو بازار گرم تھا ، دین ومذہب، تہذیب وتمدن، معاشرت ومعیشت، اور اخلاق وکردار غرضیکہ زندگی کے تمام شعبوں میں جہالت وضلالت کا دور دورہ تھا اور انسانیت اپنے مقام سے دور ہو چکی تھی۔ عین اس تباہی وبربادی کے عالم میں آپ ﷺنے گرتی ہوئی انسانیت کا ہاتھ پکڑا اور اپنی روشن تعلیمات اور تابناک اخلاق کے ذریعہ دنیا سے نہ صرف کفر وشرک اور ظلمت وجہالت کی تاریکیوں کو دور کردیا، بلکہ لہوولعب بدعات و رسومات اور بے سروپا خرافات سے مسخ شدہ انسانیت کو اخلاق وشرافت، وقار وتمکنت اور سنت وشریعت کے خوشنما دیدہ زیب زیور سے آراستہ کردیا۔
آج دنیا میں جہاں کہیں بھی شرافت ومروت، عدل وانصاف، علم وحکمت، عبادت واطاعت اور ایمان وایقان کی روشنی نظر آتی ہے، وہ درحقیقت عطیہ ہے، اسی آفتابِ رسالت اور محسنِ انسانیت کا۔
حضرت محمد ﷺ کی ابتدائی زندگی سچائی، دیانت داری، اور امانت داری کی مثال تھی۔ آپ ﷺ کی شخصیت کو قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے:وِانک لعلی خلق عظِیم ’’اور بے شک آپ عظیم اخلاق کے حامل ہیں۔‘‘ (سورہ القلم: 4)
جب آپ ﷺ کی عمر چالیس برس ہوئی، تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو نبوت و رسالت عطا فرمائی۔ سب سے پہلی وحی غارِ حرا میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے نازل ہوئی، جس میں آپ ﷺ کو اللہ کے نام سے پڑھنے کا حکم دیا گیا:
اقر بِاسمِ ربِ الذِی خلق ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘(سورہ العلق: 1)
یہ وحی نبوت کی ابتدا تھی اور اس کے بعد قرآن مجید کی آیات نازل ہوتی رہیں، جو مکمل 23سال تک جاری رہیں اور جو قرآن پاک کی صورت میں موجود ہے جس کی تلاوت لاکھوں مسلمان روزانہ کرتے ہیں اور معجزانہ طور پر قرآن پاک لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں محفوظ ہے۔یہ قرآن پاک کا اعجاز ہی ہے کہ سات سال کی عمر کے بچے قرآن کریم کو حفظ رلیتے ہیں اور رمضان کے مہینہ میں تمام مسلمان ملکوں بلکہ دنیا بھر کی مساجد میں نماز عشاء کے بعد باجماعت پورا قرآن نماز تراویح میں ختم یا جاتا ہے۔ آسمانی کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب بھی اپنی اصل صورت اور زبان میں موجود نہیں ہے ۔ یہ اعجاز قران ہے کہ قرآن آج بھی اپنی اصل شکل و صورت اور صوت و تحریر میں موجود ہے۔
نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار معجزات عطا کیے، جن کا ذکر قرآن مجید میں بھی موجود ہے،قرآن مجید سب سے بڑا معجزہ جو آپ ﷺ کو عطا کیا گیا، قرآن خود اپنے بارے میں فرماتا ہے کہ یہ ایسی کتاب ہے جس کا کوئی بدل نہیں ہو سکتا:
’’کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ اس قرآن جیسا کچھ لے آئیں تو اس جیسا نہیں لا سکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘(سورہ الالسراہ : 88)
کفار مکہ نے آپ ﷺ سے معجزہ طلب کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو چاند کے دو حصے کرنے کا معجزہ عطا کیا۔ اس کا ذکر قرآن میں یوں ہوا:
اقتربتِ الساعۃ وانشق القمر ’’قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔‘‘سورہ القمر: 1)
آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایک رات بیت المقدس اور پھر آسمانوں کی سیر کرائی۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں یوں ہے:
’’پاک ہے وہ ذات جو راتوں رات اپنے بندے کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصی ٰلے گئی، جس کے گرداگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں، تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں۔‘‘(سورہ الالسراہ 1)
پیغمبر اعظم حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا، اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ’’محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔‘‘ سورہ الاحزاب: 40)
ابتدائی وقت سے لے کر حالیہ دور تک جھوٹے جعلی مدعیان نبوت ظاہر کرائے گئے مگر ناکام رہے۔ صیہونی زدہ حکمران اہل غرب اور صہیونیوں نے مشترکہ طور پر قادیان سے جعلی جھوٹے مدعی کو ظاہر کراکر مسلمان کو تقسیم کرنے کی ناپاک کوشش کی جس کو تمام مسلمان حکمرانوں اور علماء کرام نے بیک آواز مسترد کیا۔ آج تک اسلام دشمن صیہونی زدہ مغرب ملک اور اسرائیل قادیانی احمدیوں کو اپنے ملکوں سے ایک خاص ایجنڈے کے تحت خاص کر پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ حتیٰ کہ کچھ نابلد اور ناعاقبت اندیش سیاسی لیڈروں کو بھی استعمال کررہے ہیں کہ وہ قادیانیوں کو کھلے عام قادیانی جعلی اسلام پھیلانے دیں اور قرآن و دین اسلام سے ناواقف یہ سیاسی لیڈران لا اکراہ فی دین کی آیت کو غلط تعبیر دے کر منافق قادیانیوں کے حق میں پیش کرکے امریکی برطانوی سیاسی حمایت کی کوشش کرتے ہیں اور مالی مفادات اور یہودی میڈیا کے منظور نظر بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ حد یہ کہ عدالت کے کسی جج نے بھی ناسمجھی میں لا اکراہ فی دین کی توجیہ قادیانیوں کے حق میں کردی اور پھر علمائے کرام کی مداخلت پر تصحیح ۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی ولادت، معجزات اور ان کی نبوت کے مختصر حالات کا احاطہ ایک مختصر مضمون میں کرنا ممکن نہیں ہے۔ اظہار محبت اور میلاد النبیﷺ مناسبت سے یہ چند سطور تحریر ردیں تاکہ محبین و عاشقان محمدﷺمیں ہمارا نام بھی آجاتے کہ روز حساب شفاعت رسول ﷺکے حق دار ہو جائیں۔ قرآن مجید کی آیات اور آپ ﷺ کے معجزات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ کی تعلیمات انسانیت کے لیے ہدایت اور فلاح کا آخری اور حتمی راستہ ہیں۔
ہمارے مرشد گرامی حضرت رومی نے فرمایا تھا کہ میں پائے خاک محمد ہوں اور ان کا لایا ہوا حتمی اور آخری رسالہ ہدایت ہے،ہمار نجات اورکامیابی کا ذریعہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں