غزہ میں اب تک چالیس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں‘ شہید ہونے والوں میں زیادہ تر تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ پوری دنیا اس خونریزی کے سامنے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ایسا محسوس ہورہاہے کہ مغربی ممالک کے علاوہ خود عرب ممالک فلسطینیوں کی شہادتوں پر خاموش ہیں۔ ان کی خاموشی سے اسرائیل کی صیہونی قیادت کو حوصلہ مل رہاہے اور وہ بنا کسی خوف کے فلسطینیوں کو شہید کررہی ہے‘یہاں تک کہ زندہ رہنے والوں کوجو خوراک باہر سے مہیا کی جارہی ہے اس میں بھی صیہونی ریاست روڑے اٹکارہی ہے تاکہ زندہ بچ جانے والے فلسطینی بھوک اور پیاس سے مرجائیں۔ بلکہ ایسا ہی ہورہاہے‘ ایسا محسوس ہورہاہے کہ دنیا نے ان مظلوم فلسطینیوں کو بھلادیاہے۔ اوران سے متعلق اب گفتگو بھی نہیں ہورہی ہے۔ مغربی پریس میں اب کم ان مظلوموں کے بارے میں لکھاجارہاہے‘ باالفاظ دیگرجیسے کہ ان کا تواب کوئی وجود نہیں ہے ‘ اقوام متحدہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور ظلم وتشدد کو روکنے میں ناکام ہوگیاہے۔ ایسا محسوس ہورہاہے کہ اقوام متحدہ کا اپنا کوئی وجود نہیں ہے۔ حالانکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ ادارہ اس ہی لئے وجود میں آیاتھا کہ قوموں کے درمیان جنگوں کو روکو اسکے اور امن کے قیام کویقینی بناسکے۔ نیز جہاں جنگیں نہیں رک رہی ہیں‘ وہاں مختلف ممالک پر مشتمل امن فوج بھیج کر امن کے قیام کو یقینی بنائے‘ لیکن اب دنیا دیکھ رہی ہے کہ غزہ میں اسرائیل بغیر روک ٹوک کے فلسطینیوں کو قتل کررہاہے۔ ان کی تعداد چالیس ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔ خوبصورت بچے بچیاں اوران کی مائیں خاک وخون میں ڈوب کر آسودہ خاک ہوچکی ہیں۔ جدید عہد میں نہتے انسانوں کا قتل کسی بھی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے۔ اسرائیل 7اکتوبر کا بہانہ بناکر جوکچھ کررہاہے وہ انتہائی شرمناک ہے۔ یہاں تک اس نے پڑوسی ممالک سے آنے والی اجناس کی شکل میں امداد کو بھی روک دیاہے۔ باالفاظ دیگر جو فلسطینی اسرائیل کی وحشت ناک بمباری سے بچ رہے ہیں‘ وہ بھوک اور پیاس سے مررہے ہیں۔ یہ۔ انسان دشمنی کا منظر انتہا ئی ہولناک اور اذیت ناک ہے کہ اس پر گہرائی سے تبصرہ کرنے کے سلسلے میں الفاظ نہیں مل رہے ہیں۔
غزہ میں اس وقت جس قسم کا انسانی دشمنی پر مبنی کھیل کھیلاجارہاہے‘ اس کے اثرات آہستہ آہستہ پوری دنیا پر مرتب ہورہے ہیں۔ایک نسل جو جوان ہے اور اپنی آنکھوں سے فلسطینیوں کے قتل عام کامنظر دیکھ رہی ہے وہ بھلا آئندہ اس منظر کو کس طرح بھلاسکے گی؟ دراصل غز ہ میں اسرائیل کی وحشت ناک بمباری سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کے لواحقین نے اب عہد کرلیا ہے کہ اسرائیل کا وجود اب ناقابل برداشت ہے نیز اس کے ساتھ اب کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ہے۔ لبرل فلسطینی بھی اس تلخ لہجے میں کہہ رہے ہیں اس صیہونی ریاست کا وجود اب ناقابل برداشت ہوچکاہے۔ دوریاستوں کا فارمولے کی اب کوئی حیثیت نہیں ہے۔ غزہ کی جنگ جاری رہے گی‘ بلکہ جاری رہنی چاہیے کیونکہ جوممالک اسرائیل کی اس ضمن میں ’’مدد‘‘ کررہے ہیں۔ اس کے شعلے اب جلد یابا دیر ان تک پہنچنے والے ہیں۔ ظلم جب بڑھتاہے تو اس کے سامنے مزاحمت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اور ان لوگوں کا حوصلہ بھی بڑھ جاتاہے۔ جواس ظلم کا شکار ہورہے ہیں۔ غزہ کے شہیدوں کی آہیں اور سسکیاں اب ان ایوانوں تک پہنچ رہی ہیں ‘ اب اس کو روکوانے کی درپردہ کوشش کررہے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ اقوام متحدہ نے دوبارہ بھرپور طریقے سے اس اسرائیل کو جنگ روکنے کے لئے بھی دبائو نہیں ڈالا تو یہ جنگ آئندہ ہولناک شکل اختیار کرسکتی ہے ۔ اور ہوسکتاہے کہ مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک اس میں شامل ہوجائیں اور اگر ایسا ہوگیا تو پھر تیسری جنگ عظیم کے لئے تیارہوجاناچاہیے۔ جس کی ساری ذمے داری مغربی ممالک پر عائد ہوگی اوران عرب ممالک پر بھی جو درپردہ اس کی حمایت کررہے ہیں۔ فلسطین کے شہید زندہ ہیں اور ہمیشہ زندرہ رہیں گے اور یہی اسرائیل کی موت ہے۔اگر اسرائیل سمجھ رہاہے کہ وہ غزہ میں دہشت گردی کرکے کامیاب ہورہاہے تو یہ اس کی بھول ہے بہت جلد اسرائیل کے خلاف خود اسرائیل کے اندر ایک تحریک شروع ہونے والی ہے جس سے اس کی موجودہ قیادت کو نکالا جائے گابلکہ اس کی جگہ ایسے سیاستداں اقتدار میں لائے جائیں گے جو فلسطین کے قانونی اور انسانی حقوق کا احترام کریں گے۔تاہم یہاں یہ بات لکھناانتہائی ضروری ہے کہ اسرائیل جنگ ہارچکاہے۔ ساری دنیاخصوصیت نوجوان اپنے اپنے ملکوں میں سڑکوں پر آکر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمت کررہے ہیں اوراقوام متحدہ پر دبائو ڈال رہے کہ وہ موثر طریقے سے اسرائیل کی اس جارحیت کو روکنے کی کوشش کرے تاکہ دیگر عرب ممالک میں یہ جنگ پھیل نہ سکے اور اگر ایسا ہوگیا تو پھر تیسری عالمی جنگ کا ہونا ناگزیر ہوگا۔