Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

امریکی پابندیوں کا اثر: چین اور پاکستان کا جوابی ردعمل

(گزشتہ سےپیوستہ)
یادرہے کہ2022ء میں ایک براہموس میزائل پاکستان میں آگراتھاجس کے بارے میں انڈین وزارت دفاع کی جانب سے کہاگیاتھاکہ پاکستان کی حدودمیں گرنے والابراہموس میزائل حادثاتی طور پر انڈیاسے فائرہواتھا۔اس لئے یہ عین ممکن ہے کہ ’’انڈیابراہموس کوپاکستانی سٹریٹجک فورسزاور کمانڈ اینڈکنٹرول کے خلاف روایتی کاؤنٹرفورس (پہلی) سٹرائیک کیلئے استعمال کرکے انڈیا یہ دعویٰ کرسکتاہے کہ ہم نے تومحض روایتی حملہ کیاہے لیکن اس طرح کی روایتی سٹرائیک کوپاکستان کی طرف سے پہلاجوہری حملہ تصورکیاجائے گا‘‘۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ کسی ایسے حملے کوروکنے اورجوابی کاروائی کیلئے پاکستان مکمل طورپرتیارہواوریہ اسی صورت ممکن ہے اگرپاکستان دشمن کودکھانے کیلئے اپنی صلاحتیوں کااظہارکرتارہے اور اسی مقصدسے پاکستان نے شاہین تھری اورابابیل جیسے نیوکلئیروارہیڈزبنائے ہیں اوران کی نمائش کی ہے۔
سوال یہ ہے کہ امریکاکوان میزائلوں پر کیا تشویش ہے۔امریکی وزارتِ خارجہ کے بیان میں الزام عائدکیاگیاہے کہ’’آرآئی اے ایم بی نے شاہین تھری اورابابیل میزائل سسٹمزاور‘‘ممکنہ طورپراس سے بھی بڑے سسٹمز’’کیلئے ڈائیامیٹرراکٹ موٹرزکے ٹیسٹ اورآلات کی خریداری کے سلسلے میں پاکستان کے ساتھ کام کیا ہے‘‘۔’’ممکنہ طورپراس سے بھی بڑے سسٹمز‘‘ کا مطلب یہ ہوسکتاہے کہ اسی میزائل کی اگلی جنریشن پرکام ہورہاہے۔ابابیل کاپہلاٹیسٹ جنوری2017ء میں ہواتھااوراس کے بعدابابیل کادوسراتجربہ چھ سال بعد گزشتہ برس اکتوبر2023ء میں ہوا،اوران چھ سالوں کے دوران این ڈی سی میں اس ٹیکنالوجی پرمسلسل کام ہوتارہاہے۔امریکی تشویش کی ایک اوروجہ ابابیل تھری سٹیج میزائل سسٹمزبھی ہیں اورموبائل لانچروالاسسٹم ایک بہت اہم صلاحیت ہے کیونکہ کسی بھی سرپرائزحملے کی صورت میں یہ سسٹم ناصرف بڑی آسانی سے مختلف مقامات پرکیموفلاج کیے جاسکتے ہیں بلکہ انہیں باآسانی ایسی جگہ بھی لے جایاجاسکتاہے جہاں دشمن کوان کاپتہ نہ چل سکے۔ماہرین کامانناہے کہ کوئی بھی تھری سٹیج میزائل سسٹم،زیادہ رینج والے سسٹم کی بنیادبن سکتاہے۔
ابابیل کےپہلے اوردوسرے ٹیسٹ کے درمیان چھ سال کاوقفہ اس بات کاثبوت ہے کہ پاکستان اب مقامی طورپراس ٹیکنالوجی پرکام کررہاہے۔یادرہے اپریل میں ان سسٹمز کے موبائل لانچرزپرپابندیاں لگائی گئی تھیں۔امریکا کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ شیٹ میں کہاگیاتھاکہ بیلاروس میں قائم مِنسلک وہیل ٹریکٹر پلانٹ نے پاکستان کوبیلسٹِک میزائل پروگرام کیلئے خصوصی گاڑیوں کے چیسس فراہم کیے ہیں۔
امریکی پابندیوں میں پاورفل راکٹ موٹرز کا بھی تذکرہ ہے جس سے ظاہرہوتاہے کہ امریکاکو ابابیل کی طویل رینج کے علاوہ پاکستان کے سپیس پروگرام پربھی تشویش ہے۔یادرہے اپریل کی فیکٹ شیٹ میں چین کی گران پیکٹ کمپنی لمیٹڈپرالزام عائدکیاگیاتھا کہ یہ کمپنی پاکستان کی خلائی تحقیق کے اداریـ کو‘‘کے ساتھ مل کرراکٹ موٹروں کی جانچ پڑتال میں معاون آلات کی فراہمی میں ملوث پائی گئی ہے اورمزیدیہ بھی الزام لگایاگیاتھاکہ یہی کمپنی پاکستان کوبڑی راکٹ موٹرز آزمانے کیلئے پرزے فراہم کرتی رہی ہے۔ امریکا کو فکر ہے کہ پاکستان اپنامقامی سپیس لانچ وہیکل نہ بنالے اورپاکستان پہلے سے2047سپیس پروگرام کاوژن رکھتا ہے۔نیوکلئیرڈیٹیرنس کیلئے سپیس پروگرام میں صلاحیتیں حاصل کرنا بہت اہم ہیں جوآپ کوہدف کودرست نشانہ بنانے اوردفاعی نگرانی وغیرہ کے قابل بناتاہے۔حالیہ پابندیاں کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ 70کی دہائی سے جاری ہے جب انڈیا کے میزائل پروگرام (جس کیلئے وہ روسی اور کئی دوسرے ذرائع سے مددحاصل کررہاتھا)کے جواب میں پاکستان نے اپنا میزائل پروگرام شروع کیااورہمیشہ سے چین کے ساتھ قریبی تعلقات بھی رہے۔چین اور پاکستان کی کمپنیوں اورافرادپرلگائی گئی ان پابندیوں کادونوں ملکوں پرکوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ پاکستانی ادارہ نیشنل ڈویلپمنٹ کامپلیکس(این ڈی سی)میزائل ٹیکنالوجیزکیلئے مغرب پرانحصارنہیں کرتالہذااس پرکوئی فرق نہیں پڑے گا۔ شمالی کوریا کی مثال آپ کے سامنے ہے،جس پرکتنی پابندیاں لگیں مگران پرکوئی اثرنہیں ہواجبکہ پاکستان کامیزائل پروگرام تومکمل طورپرمقامی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں ایم ٹی سی آر(میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول ریجیم)کابھی ذکرہے،یہ میزائل ٹیکنالوجی کی برآمدپر کنٹرول رکھنے والے ممالک کاگروپ ہے۔اس حوالے سے پاکستان اورچین دونوں نے ایم ٹی سی آرپردستخط نہیں کیے مگراس کے بغیربھی چین اورپاکستان دونوں اس کاپاس کرتے ہیں اورکوئی ایساسسٹم برآمدنہیں کیاگیاجس کی رینج تین سو کلومیٹرسے زیادہ ہومگر اس اقدام کی تعریف کرنے کی بجائے یہ کہاجاتاہے کہ پاکستان اورچین آپس میں تعاون کررہے ہیں۔اگرمسئلہ دونوں ملکوں کے تعاون سےہے تودوسری طرف انڈیاکاسارامیزائل پروگرام روس کے تعاون اورمددسے بناہے اوراب امریکااور اس کے اتحادی اس کی برملامددکررہے ہیں جن میں اسرائیل سب سے بڑامعاون ہے۔ اس کی مثال انڈیاکابراہموس میزائل ہے،جب ابتدامیں روس سے یہ ٹیکنالوجی لی گئی تواس کی رینج290کلومیٹرتھی مگراب انڈیااسے 800 کلومیٹرتک لے جاچکاہے اوراسرائیل کی مددسے اس کے ہائپرسانک ورژن پر بھی کام ہورہاہے مگر یہاں ایم ٹی سی آرکی بات نہیں کی جاتی۔یادرہے ایم ٹی سی آرمیں300کلومیٹرسے زیادہ رینج والے میزائل کی برآمدپرپابندی ہے اور500 کلوسے زیادہ کے وارہیڈزکی بھی اجازت نہیں ہے۔اس وقت انڈیاکااگنی فائیوجس کی رینج 5000-8000کلومیٹرہے اوریہ تین سے پانچ اورشایداس سے بھی زیادہ وار ہیڈزلے جانے کی صلاحیت رکھتاہے۔۔پاکستان کاانڈیاکے جواب میں تیار کی گئیں ٹیکنالوجیز سے امریکاکوکوئی مسئلہ تو نہیں ہونا چاہیے تاہم اصل بات یہ ہے کہ امریکا کے نزدیک انڈیا’’کواڈ‘‘ کا سب سے اہم رکن ہے۔ اس نے امریکی اورمغربی ممالک کے تعاون سے مغربی ممالک کے ہرتھنک ٹینک میں اپنے لوگوں کوشامل کررکھاہے جومقامی عوام اور حکومتوں کی رائے عامہ بنانے پربہت اثررکھتے ہیں۔ یادرہے’’کواڈ‘‘چار ممالک کاگروپ ہے جس میں انڈیا، آسٹریلیا،جاپان اورامریکا شامل ہیں۔امریکا کی مختلف بین الاقوامی مقامات پرجیوسٹریٹیجک دلچسپیاں ہیں جیسے یوکرین روس،مشرقِ وسطیٰ اورتائیوان چین وغیرہ کی صورتحال ہے اوراسی باعث اس نے مختلف جگہوں پر ان ملکوں سے مختلف وعدے کررکھے ہیں اورجنوبی ایشیاکے خطے میں چین کے اثرورسوخ کوکم کرنے کیلئے ’’کواڈ‘‘ بنایاہے، اورچین کے ساتھ کشیدگی بھی پاکستان کے میزائل پروگرام پرپابندی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ امریکی پابندیوں کامحوربنیادی طورپر پاکستان کی بجائے چینی کمپنیاں ہیں،تاکہ بیجنگ کو مجبورکرکے اس پرمعاشی دبائو ڈالاجائے ۔ کیاٹرائیکا (امریکا، اسرائیل،انڈیا)اس میں کامیاب ہوسکیں گے جبکہ زمینی حقائق اس خطے سے امریکاکوبے دخلی کابڑا واضح پیغام دے رہے ہیں!

یہ بھی پڑھیں