اسلام آباد: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے بعد پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان موجود ہے اور حکومت اس حوالے سے صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور مقامی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا تو اس کا فائدہ پاکستانی عوام تک بھی پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، جس کے مثبت اثرات پاکستان کی معیشت اور عوامی اخراجات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں آنے والی ہر مثبت تبدیلی کا فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے۔
رانا ثنااللہ نے وضاحت کی کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا، جس کے باعث مقامی مارکیٹ میں بھی دباؤ پیدا ہوا۔ اسی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کا نظام وضع کیا تھا تاکہ بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ نرخوں پر تیل کے ذخائر خریدے تھے۔ ایسے حالات میں کاروباری شعبے کو کبھی منافع اور کبھی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن فیصلے کرے گی۔
وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کمپنی یا عنصر مصنوعی قلت پیدا کرنے یا عوام کو مشکلات میں ڈالنے کی کوشش کرے گا تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تیل کی قیمتوں میں مزید کمی سے نہ صرف پٹرولیم مصنوعات سستی ہوں گی بلکہ مہنگائی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔

