جب بھی مجھے اور آپ کو کسی بھی ذاتی یا اجتماعی کام کی ناکامی اور کامیابی کا پتہ چلا ہو تو اس کا ایک ہی پیمانہ یا معیار ہوسکتا ہے اور وہ ہے انجام یا نتیجہ، تمام سیاسی، گروہی، ادارتی ، مالی اور تجارتی مفادات سے بالا تر ہو کر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ میرے اور آپ کے اردگرد پائے جانے والے حالات سے یہ نتیجہ بخوبی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ہم بطور معاشرہ یا قوم محض ایک ’’ریوڑ‘‘ یا ’’چھتے‘‘ کی شکل میں ڈھل چکے ہیں، بطور ریاست ہماری پہچان ایک مقروض اور بھکاری کی سی ہے، دینی اور مذہبی حوالے سے رجعت پسندی اور انتہا پرستی ہماری شناخت بن گئی ہے، تعلیم کو ہم نے ایک کاروبار کے طور پر متعارف کروایا ہے، رشتوں کو مادیت اور مفاد کی عینک پہنا دی ہے، دوستی مفادات سے جڑی نظر آتی ہے اسی طرح سے تجارت نے دھوکہ دہی کا لبادہ اوڑ رکھا ہے۔ غرض یہ کہ زندگی کے ہر شعبہ میں گزشتہ ستر سالوں کی کارکردگی کا انجام ناکامی، شرمندگی، افراتفری، عدم استحکام، معاشی بدحالی، سیاسی ناہنددگی، اخلاقی پستی، مذہبی منانفرت اور نجانے کیا کچھ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
راقم جو نقطہ آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہ رہا ہے وہ یہ ہے کہ مرض کی تشخیص سے بھی پہلے مجھے اور آپ کو یہ تسلیم کرنا ہوگا اور اس امر کا ادراک بھی کرنا ہوگا کہ دراصل ہماری ستر سالہ قومی، اجتماعی اور انفرادی زندگی کا نتیجہ اور حاصل بدترین ناکامی، ہزیمت اور شرمندگی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اب آئیے مستقبل کی طرف تو پھر جان لیجئے کہ فطرت کا اصول اور اس کائنات کے خالق کا اعلان یہ ہے کہ جس نے توبہ کرلی، اپنی اصلاح کی وہی فلاح کی توقع کر سکتا ہے، خواہ فرد ہو یا قوم دونوں پر اللہ کے اس قانون کا مکمل طور پر یکساں اطلاق ہوتا ہے۔
آئیے وقت ضائع کئے بغیر کسی بحث میں الجھے بغیر یہ مان لیں کہ مستقل میں سوائے اللہ سے معافی مانگ کر توبہ کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہوں گے، کی گئی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھیں گے تو سب کچھ لاحاصل ہے… ہاں اگر ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے محض اپنی بات منوانے، اپنے آپ کو عقل کل سمجھ کر دوسرے کو زچ کرنے اور انا کی آگ میں جلتے رہنے کی روش کو برقرار رکھنا ہے تو پھر ذلت اور رسوائی کا سب سے نچلے درجہ کو ہمارا انجام اور مقدر ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
آئیے ذات اور ادارتی و نجی انا پرستی کی لعنت سے چھٹکارہ حاصل کریں، ہم کب تک ذلالت اور خود فریبی کے اس جنگل میں اپنے آپ کو محصور رکھیں گے یقین جانیے جب تک ہم مذکورہ بالا طریقہ پر عمل پیرا نہیں ہوں گے نہ صرف ہم اپنے آپ کو دھوکہ دیتے رہیں گے بلکہ ذلت و رسوائی کا یہ آسیب لمحہ بہ لمحہ ہمارے ساتھ ساتھ چلتا رہے گا۔
ہمارا پیارا وطن آج شہر آسیب کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ارباب اقتدار اور ریاستی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عام شہری اس قدر کرب اور ذہنی کوفت کا شکار ہے کہ اسے سمجھ میں ہی نہیں آرہا کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون سا فریق دروغ گوئی سے کام لے رہا ہے اور جو کسی ایک گروہ کو درست سمجھ بھی رہا ہے تو وہ جبر کے خوف سے وہ اپنا نقطہ نظر تک پیش کرنے سے قاصر نظر آتا ہے۔
آج بھی وقت ہے ، ہمیں جنگل کے قانون سے چھٹکارہ حاصل کرکے اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا ۔ ڈنڈے اور بندوق کے بجائے دلیل اور علم کے ہتھیار کو تھامنا ہوگا مگر افسوس جب ہمارے معاشرے کا ایک شہری اشرافیہ کے رویوں اور ان کے انداز گفتگو اور طریقہ تکلم کو دیکھتا ہے تو اس میں اسے ہٹ دھرمی، نفرت، خود پسندی اور اناپرستی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور پھر اس کے اثرات پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔
ایک لمحہ کے لئے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ذرا سوچئیے کہ اگر آپ کے بھی معاملات میں آپ کے گھرانہ اور خاندان کے ساتھ وہ صورتحال درپیش ہو جو ہمارے معاشرے اور ریاست کے ساتھ اجتماعی طور پر ہے تو کیا آپ کا اور میرا رویہ یہی ہوگا جو ہم نے اپنے ریاستی اور اجتماعی امور میں اپنا رکھا ہے؟ ہرگز نہیں یقینا ایسے حالات میں ہم معاملات کو انتہائی پرامن انداز میں ذاتی دلچسپی لے کر، انا اور ہٹ دھرمی کو پس پشت ڈال کر انتہائی ٹھنڈے دل اور دماغ سے مل بیٹھ کر افہام و تفہیم کے ساتھ مسائل کو حل کریں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میرے اور آپ کے پیش نظر سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ خاندان کے خراب حالات کی تشہیر نہ ہو کہیں ہمارے کنبے کی نیک نامی پر حرف نہ آجائے، کیا میرا اور آپ کا یہ معیار یا ہمارے ارباب اقتدار اور اشرافیہ کا یہ پیمانہ اور رویہ ریاستی اور اجتماعی معاشرتی اور سیاسی امور میں بھی ہے؟ ہرگز نہیں… افسوس صد افسوس ریاست، وطن اور اجتماعی معاشرتی امور میں ہمارا عملی کردار، معاشی، سیاسی اور ذاتی مفادات کی سولی پر ذاتی انا کی تسکین کی پھٹ چڑھا ہوا دیکھائی دیتا ہے۔ غور کیجئے تقابل کرنے سے شائد ہم اس ذہنی اور نفسیاتی مرض کا کوئی مداوا کر سکیں اور ناامیدی اور جہالت کے اس گھپ اندھیرے میں شائد ہم روشنی کی ایک نحیف شمع جلاکر تاریکی کو توڑنے میں کامیاب ہو جائیں۔ لیکن اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ:
شہر آسیب میں آنکھیں ہی نہیں ہیں کافی
الٹا لٹکو گے تو سیدھا نظر آئے گا