(گزشتہ سے پیوستہ)
امریکا کی خطے میں عسکری موجودگی ہی کی وجہ سے اسرائیل اپنی بے مہارطاقت کے استعمال سے ساری دنیاکیلئے ایک خطرہ بن چکا ہے۔ اس حوالے سے واشنگٹن میں پالیسی انسٹیٹیوٹ ولسن سینٹر میں مڈل ایسٹ پروگرام کے کوارڈینیٹریوسف کین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی موجودگی طاقت کاتوازن اسرائیل کے حق میں کرنے میں چارطریقوں سے اہم کرداراداکرتی ہے۔ایک تو امریکی سیاسی حمایت اسرائیل کی کسی بھی قسم،خاص کرعالمی اداروں میں اس کی کارروائیوں کوجائزقراردینے میں اہم کردار اداکرتی ہیں۔ دوسرا امریکا کی خطے میں موجودگی کی وجہ سے مقامی اورخطے میں موجود تنازعات کومحدود کرنے میں مددملتی ہے اورشام جیسے ممالک جو سالوں سے تنازعات کا شکار تھے، میں استحکام آتاہے اور اسرائیل کو مزید آزادی ملتی ہے۔ تیسرایہ کہ اسرائیلی اور امریکی مفادات خاص کر معاشی اعتبار سے ایک جیسے ہیں، اور آخری یہ کہ اسرائیل کو امریکا کی موجودگی کے باعث تحفظ ملتاہے، انٹیلیجنس شیئر ہوتی ہے اور سٹریٹیجک سپورٹ ملتی ہے۔
امریکا کی بین الاقوامی پالیسی پرگہری نظر رکھنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ ’’اسرائیل ایک چھوٹی ریاست ہے اور چھوٹی ریاستوں کا ایک مسئلہ ان کی ’’سٹریٹیجک ڈیپتھ‘‘ کی کمی ہوتی ہے یعنی ان کے پاس خطے میں اپنے دشمنوں کے خلاف لڑنے کیلئے وہ وسعت نہیں ہوتی جو بڑی طاقتوں کے پاس ہوتی ہے۔ امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں موجودگی ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں یعنی پراکسیز کیلئے ایک ڈیٹیرنس (یعنی ڈر پیداکرنے کیلئے) ہے۔ امریکی بحری بیڑے خطے میں بحیر احمر، بحیر روم اور بحرِہند میں بھی موجودہیں اوریہ ایک مربوط نیٹ ورک ہے۔اسی وجہ سے ایران جب بھی حملہ کرتاہے تو امریکا کو اس بات کا فوری علم ہوجاتاہے اور وہ اسرائیل کو اس حوالے سے خبردار کر دیتا ہے یاوہ خود بھی ان میزائلوں کو روک دیتا ہے‘‘۔
امریکا رواں صدی میں مشرقِ وسطیٰ میں عراق اورشام کی جنگ میں براہ راست جبکہ متعددجنگوں میں بالواسطہ یعنی پراکسی کردار ادا کرتا آیا ہے تاہم تجزیہ کاروں کے نزدیک ماضی کے تجربے کو دیکھتے ہوئے امریکا اب مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہے گا۔ امریکا کا قومی مفاد تو یہی ہے کہ یہ جنگ طویل نہ ہو اور یہیں تک محدود ہو جائے۔ ایرانی بھی ’’سٹریٹیجک صبر‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہیں اور جو ایک غیر اعلانیہ معاہدہ تھا اسرائیل اور ایران کے درمیان کہ وہ ایک دوسرے کی پراکسیز پر تو حملہ کر سکتے ہیں لیکن ایک دوسرے پربراہ راست نہیں اور امریکا چاہے گا کہ یہ توازن برقرار رہے۔
تاہم نیتن یاہونے اپنااوراسرائیل کامفاد دیکھا،امریکاکانہیں اوراس نے امریکامیں الیکشن سیزن کوجنگ کووسیع کرنے کیلئے استعمال کیاہے جبکہ اسے معلوم ہے کہ اسے امریکامیں ڈیموکریٹ اوررپبلکن دونوں ہی طرف سے حمایت ملے گی، اورجیسے ہی نئی امریکی حکومت آئے گی،توخاص کرڈیموکریٹس کے پاس اسرائیل کوروکنے کا مینڈیٹ ہوگاجبکہ ٹرمپ نے تواسرائیل کوایران کے ایٹمی پلانٹ کوتباہ کرنے کاعندیہ بھی دیاہے۔ اگرامریکاکی قومی سلامتی کے دستاویزات دیکھیں تواس کاسٹریٹیجک مقصداس وقت تیزی سے ترقی کرتے چین کوقابوکرناہے،توہروہ مسئلہ جواس سے ان کادھیان ہٹاتاہے وہ دراصل ان کے قومی مفادمیں نہیں ہے۔
یادرہے کہ چین امریکاکیلئے جتنابھی اہم کیوں نہ ہولیکن امریکاہمیشہ دنیامیں ایسے مواقعوں کی تلاش میں رہے گاجہاں اسے اپنا اثرورسوخ دکھانے کاموقع مل سکے۔یہ صورتحال تبدیل بھی ہوسکتی ہے لیکن اس وقت امریکاپوری طرح سے اسرائیل کے پیچھے کھڑاہے اورجب تک ایسارہے گا اسرائیل کواپنا نسلی قوم پرست(ایجنڈا)اور اپنااثرورسوخ بڑھانے جیسے اہداف کوحاصل کرنے میں مدد ملتی رہے گی۔انسٹیٹوٹ فارسوشل پالیسی اینڈانڈرسٹینڈنگ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹرکے مطابق’’روس اورچین کے کڑے مقابلے کے باوجودامریکا اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں موجودوہ واحدعالمی طاقت ہے جس کایہاں اثرورسوخ ہے اوروہ اسے خطے میں توازن کواسرائیل کے حق میں پلٹنے کیلئے استعمال کرتاہے۔امریکاخطے میں زیادہ ترممالک پراثراندازہوسکتاہے اوروہ اس چھوٹ کوضرورت پڑنے پراسرائیل کی حفاظت کیلئے استعمال کرتاہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکاکافوجی اورمعاشی اثرورسوخ اوراس کی جانب سے اسرائیل کی عوامی اورذاتی حمایت کے بعدامریکاکاکرداراسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی جرأت دیتاہے۔
قارئین کویاددلانے کیلئے یہاں یہ بھی بتاتاچلوں کہ 13/اگست 2024کوپینٹاگون کے پریس سیکریٹری ایئرفورس میجرجنرل پیٹ رائڈرنے نیوزکانفرنس کے دوران کہاتھاکہ مشرق وسطیٰ میں سفارت کاری کیلئے ابھی بھی وقت ہے تاہم امریکی فوجیں امریکی سینٹرل کمانڈکے ذمہ داری کے علاقے میں ڈیٹرنس اقدام کے طورپرمنتقل ہورہی ہیں۔ انہوں نے امریکی فوجیں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ذمہ داری کے علاقے میں ڈیٹرنس اقدام کے طور پر منتقل ہو رہی ہیں۔ فضائیہ نے’’ایف22ریپٹر‘‘طیاروں کوخطے میں منتقل کردیاہے اور امریکی بحریہ’’یوایس ایس‘‘ابراہام لنکن کیریئراسٹرائیک گروپ کو’’ایف 35سی‘‘لائٹنگ کوبھی متعین کردیاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گائیڈڈمیزائل آبدوزیوایس ایس جارجیابھی کسی بھی ہنگامی حالت کیلئے تیارہیں۔
رائڈرنے کہا کہ آج سینٹ کام کے علاقے میں تقریبا40,000امریکی سروس ممبران اس کے علاوہ موجودہیں جومشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پرگہری نظررکھے ہوئے ہیں۔ سکریٹری آف ڈیفنس لائیڈ جے آسٹن اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ اورخطے کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ تقریبا روزانہ رابطے میں ہیں۔آسٹن نے اسرائیلی رہنماگیلنٹ کو اسرائیل کے دفاع کیلئے ہرممکن قدم اٹھانے کیلئے امریکی عزم کاپورایقین بھی دلایاہے۔بڑھتے ہوئے علاقائی تناکی روشنی میں پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی قوت کے انداز میں ہونے والی یہ تبدیلیاں امریکی فورس کے تحفظ کوبہتربنانے،اسرائیل کے دفاع کیلئے ہماری حمایت کو بڑھانے،اوراس بات کویقینی بنانے کیلئے کی گئی ہیں کہ امریکامختلف قسم کے ہنگامی حالات کاجواب دینے کیلئے تیارہے۔
ایران اورایرانی حمایت یافتہ گروپوں نے اسرائیل پرحملہ کرنے کی دھمکی دی ہے اورامریکاان دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیتاہے لیکن ہماری توجہ کشیدگی کوکم کرنے،جنگ بندی کوفعال کرنے اوریرغمالیوں کی واپسی پرہے۔امریکا مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع،علاقائی جنگ کوروکنا چاہتاہے۔کوئی بھی بڑھتاہوانہیں دیکھناچاہتا،کوئی بھی وسیع ترعلاقائی تنازعہ نہیں دیکھنا چاہتا۔ لہذاامیدہے کہ ہم خودکوان صلاحیتوں کوبروئے کارلانے کی حالت میں نہیں پائیں گے لیکن اگرہمیں اسرائیل کے دفاع میں ضرورت پڑی توہم کریں گے۔اب سوال یہ ہے کہ ایران نے توپینٹاگون کے پریس سیکریٹری ایئرفورس میجرجنرل پیٹ رائڈرکی نیوزکانفرنس سے پتہ چلتاہے کہ امریکااس خطے میں اسرائیل کوکھلی چھٹی دیکرکیاکرنے کاارادہ رکھتاہے۔ایران نے توامریکی جنرل رائڈرکی پریس کانفرنس کے 50دن بعد اسرائیل پرمیزائل حملہ کیالیکن اس دوران اسرائیل کی بڑھتی ہوئی درندگی کوامریکانے لگام کیوں نہیں دی؟