Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اسرائیل،امریکہ کاکرائے کاسپاہی

(گزشتہ سے پیوستہ)
1956ء میں جب اسرائیل برطانیہ اور فرانس نے نہرسوئزپرقبضہ کرنے کیلئے جنگ کاآغازکیا تو اس وقت مریکی صدرآئزن ہاورنے اس جنگ پرشدید ناراضی کااظہار کیااوراسرائیل کودھمکی دی جس کے نتیجے میں اسرائیل نے چندمہینوں میں تمام مصری علاقے خالی کردئیے۔1978ء میں جب اسرائیل نے لبنان پرحملہ کیااوردریائے لیتانی تک آگیاتو امریکی صدرجمی کارٹرنے اسرائیل کوامداد بندکرنیکی دھمکی دیکرمجبورکردیاکہ وہ لبنان کی سرحدمیں چند کلومیٹرتک محدودرہے۔اس کے بعداگلے امریکی صدررونالڈ ریگن نے1981ء میں ’’اے آئی پی اے سی‘‘کے بھرپوردباؤکومستردکرتے ہوئے فوکس طیارے سعودی عرب کوبیچے۔اس کے 10 سال بعدبش سینئر نے ’’اے آئی پی ایس ‘‘کے بھرپوردباؤکاکامیابی سے مقابلہ کیااوراسرائیل کی ناک رگڑتے ہوئے10ارب کا قرضہ جاری نہیں کیاجب تک مشرقِ وسطیٰ میں امریکی امن منصوبے کی راہ میں رکاوٹ’’یزٹحاک شمیر‘‘کو شکست نہیں ہوگئی کیونکہ یہ امریکی منصوبے میں رکاوٹ تھا۔2004ء میں بش جونیئرنے اسرائیل کونہ صرف چین سے اس معاہدے کوتوڑنے پرمجبور کر دیاجس کے تحت اسرائیل نے طیاروں کوجدیدبنایا تھا بلکہ اسرائیلی وزارت دفاع کے ’’ڈائریکٹرجنرل آموس یارون ‘‘کوبھی استعفیٰ دیناپڑا۔اسی طرح اسرائیل پچھلے کئی سالوں سے امریکہ کوایران پر حملے کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کررہاہے لیکن نہ صرف یہ کہ امریکہ اس کی اس خواہش کوپورا نہیں کررہابلکہ امریکہ نے اسرائیل کوبھی سختی سے ایران پرکسی بھی قسم کے حملے سے روک دیاہے۔ان تمام حقائق کے باوجودآخرامریکہ کیوں اسرائیل کی اس قدرحمایت کرتاہے۔سب سے پہلے تواس بات کوذہن نشین کرلیناچاہیے کہ امریکہ ایک نظریاتی ریاست اوردنیاکی واحد سپرپاورہے۔ امریکہ جوبھی فیصلے کرتاہے اپنی ضرورت اور مفادات کو سامنے رکھ کر کرتاہے۔مشرق وسطیٰ کی اہمیت کو واضح کر نے کے لئے سابق برطانوی وزیر اعظم ہنری کیمپ بل (بینرمین) کاایک ہی تبصرہ کافی ہے:
’’یہاں پروہ لوگ(مسلمان )رہتے ہیں جواس زبردست علاقے اوراس زمین میں موجود ذخائر کوکنٹرول کرتے ہیں۔ان کی زمین انسانی تہذیب اورمذاہب کاگہوراہ ہے،ان لوگوں کا عقیدہ زبان، تاریخ اورجذبات ایک سے ہیں۔کوئی قدرتی رکاوٹ ان لوگوں کو ایک دوسرے سے جدانہیں کرسکتی اوراگرکبھی جداہوبھی جائیں تویہ دوبارہ ایک مملکت میں ضم ہوجائیں گے۔پھریہ دنیاکی قسمت کو اپنے ہاتھ میں لے لیں گے اور یورپ کوباقی دنیاسے کاٹ دیں گے۔ان وجوہات کوسنجیدگی سے لیاجائے توضروری ہے کہ ایک بیرونی اکائی کو اس قوم کے دل میں پیوست کردیاجائے تاکہ اس قوم کی صلاحیتوں کوکبھی نہ ختم ہونے والی جنگوں میں ضائع کر دیاجائے۔یہ بیرونی اکائی مغرب کے لئے ایک ایسے پلیٹ فارم کاکام بھی کرے گی جہاں سے وہ اپنے خفیہ منصوبوں کوانجا م دے سکے گا‘‘۔یہ ہیں وہ بنیا دی وجوہات جن کی بناپرپہلی جنگ عظیم کے بعداس وقت کی سپرپاوربرطانیہ نے مشرق وسطیٰ کے علاقے میں یہودی مملکت کی کوششوں کا آغاز کیااورپھردوسری جنگ عظیم کے بعدجب امریکہ سپرپاور بن گیاتواس کے مفادکا تقاضہ بھی یہی تھا کہ اسرائیل کی ریاست قائم کی جائے اوراس کومضبوط بنایاجائے۔تاریخی اعتبارسے یہوداپنی سازشوں، مال واسباب اورسیاسی اثرورسوخ کے باوجودکبھی بھی اپنے سیاسی اہداف بغیرکسی بیرونی طاقت کی مددکے بغیرحاصل نہیں کرسکے۔پچھلے چودہ سوسال میں یہودعباسی خلافت، عثمانی خلافت،اسپین کی اموی حکومت، یورپ اورامریکہ میں معاشی لحاظ سے ہمیشہ خوش حال رہے ہیں لیکن کبھی بھی کسی علاقے میں یہودکوئی قابل ذکرسیاسی مقام نہیں بناسکے۔ ریاست مدینہ میں بنو قریضہ،بنوناصر،بنوقینوقاہ اور خیبرکے یہوداپنی معاشی سیاسی اور فوجی قوت کے باوجودکبھی بھی مدینہ کی ریاست کوبراہ راست چیلنج نہیں کرسکے بلکہ ہمیشہ قریش مکہ کی مددکاانتظارکرتے تھے اورآخرمیں اپنی سازشوں اور وعدہ خلافیوں کی بناپران کوبے دخل ہوناپڑا۔
یہودیورپ میں ہمیشہ دوسرے درجہ کے شہری رہے اورجب کسی حکمران نے ان پرظلم وستم کرناچاہا توان کی معاشی طاقت کبھی کام نہ آئی۔جب عثمانی خلافت اپنے کمزورترین دور سے گزررہی تھی تویہودیوں نے خلیفہ عبدالحمید دوئم کواس بات کی پیش کش کی کہ اگرانہیں فلسطین کی زمین دے دی جائے توخلافت عثمانہ کے تمام قرض وہ اداکردیں گے لیکن اپنی معاشی قوت اورخلافت کی کمزوری کے باوجودیہوداپنے مقصدمیں کامیاب نہیں ہوسکے۔وہ قوم جوپچھلے ڈھائی ہزارسال سے اپنی تمام ترسازشی ذہنیت اورمال واسباب کے باوجود دربدرتھی،بالآخربرطانوی وزیراعظم ہنری کیمپ بل کی وفات کے چالیس سال بعداس کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے برطانیہ عربوں کے سینے میں خنجرگھونپ کرفلسطین میں اسرائیل مملکت قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔خطے میں اسرائیل کاقیام اس وجہ سے ضروری تھا کہ مسلمانوں کوہمیشہ کے لئے منقسم رکھنے اورخطے میں اپنے مفادات کے مستقل حصول کے لئے یہ ضروری ہے کہ یہودکوایک ریاست کی شکل میں طاقت دی جائے۔اللہ فرماتے ہیں۔’’یہ تمہاراکچھ بگاڑنہیں سکتے،زیادہ سے زیادہ بس کچھ ستاسکتے ہیں۔اگریہ تم سے لڑیں گے تومقابلہ میں پیٹھ دکھائیں گے، پھر ایسے بے بس ہوں گے کہ کہیں سے ان کومددنہ ملے گی۔ یہ جہاں بھی پائے گئے ان پرذلت کی مارہی پڑی،کہیں اللہ کے ذمہ یا انسانوں کے ذمہ میں پناہ مل گئی تویہ اوربات ہے۔یہ اللہ کے غضب میں گھر چکے ہیں،ان پرمحتاجی ومغلوبی مسلط کر دی گئی ہے،اوریہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہواہے کہ یہ اللہ کی آیات سے کفرکرتے رہے اورانہوں نے پیغمبروں کوناحق قتل کیا۔یہ ان کی نافرمانیوں اورزیادتیوں کاانجام ہے۔‘‘ (العمران111۔(112
اللہ نے قوم یہودپرہمیشہ ہمیشہ کی ذلت مسلط کردی ہے۔یہودسیاسی،معاشی اورفوجی لحاظ سے کبھی بھی مسلمانوں کے ہم پلہ نہیں رہے،آج اگریہود مسلمانوں پرغالب ہیں توصرف اپنے استعماری آقا امریکہ کی قوت کی وجہ سے۔ہم مسلمانوں کویہ سمجھنا چاہیے کہ امریکہ دانستہ اس نظریے کوفروغ دیتاہے کہ یہودی لابی اس قدرطاقتورہے کہ امریکہ جیسی طاقت بھی اس کے آگے مجبورہوجاتی ہے،اس بات کوفروغ دینے سے امریکہ دوفائدے حاصل کرتاہے۔1۔وہ مسلمانوں کی امریکہ سے نفرت کارخ یہودکی طرف موڑدیتاہے۔2۔مسلمان اسرائیل کواپنااصل دشمن سمجھ کرصرف اسرائیلی قوت کوختم کرنے کی کوششو ں میں لگ جا تے ہیں،اس طرح نہ تو امریکہ ختم ہوتاہے اورنہ ہی اسرائیل،امریکہ غدارمسلم حکم رانوں کے ذریعے اس بات کوممکن بناتاہے کہ اسرائیل کے مقابلے میں مسلمانوں کی فوجی قوت منشتررہے اورپھریہ مسلم افواج آپس میں بھی قومیت اوروطنیت کی کفریہ بنیادوں پر لڑتی رہیں،مسلمانوں کوجان لیناچاہیے کہ جب تک وہ اپنی گردنوں پرمسلط غدارامریکی ایجنٹ حکمرانوں سے نجات حاصل نہیں کرتے امریکہ اوراس کے سرمایہ داری نظام سے چھٹکارا نہیں پاسکتے۔یہاں یہ بتانابھی بہت ضروری ہے کہ یہاں امریکہ اوراسرائیل حکومتوں کی طرف اشارہ ہے۔جس طرح اسلامی حکومتیں مسلم عوام کی خواہشات کی علمبردارنہیں بلکہ اسی طرح مغرب اورامریکہ کی حکومتیں بھی یہاں کے عوام کی مکمل خواہشات کی آئینہ دار نہیں۔اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ جب امریکہ ،برطانیہ اوران کے دیگراتحادیوں نے عراق پرحملہ کرنے کا اعلان کیاتو یورپ کی تاریخ کاسب سے بڑاملین افرادکا مظاہرہ برطانیہ میں ہواجہاں ہرمکتبہ فکرکیافرادنے اس حملے کی بھرپور مخالفت کی اورآج بھی آئے دن برطانیہ،یورپ اور امریکہ میں ہزاروں افرادسڑکوں پربے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام روکنے کے لئے سراپا احتجاج ہیں لیکن یہاں بھی سب سے بڑی رکاوٹ اس سرمایہ داری نظام کی پیداکردہ جمہوری نظام ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ دنیامیں جاری اس ظلم وستم کے خلاف جوادراک پیداہورہاہے،اس کوفوری طور پر بہتر اورجاری جمہوری اندازمیں حاصل کرنے کے لئے یہاں کی تمام سیاسی جماعتوں میں عملاً شمولیت اختیارکی جائے اورسیاسی سفرمیں قانون سازاداروں میں پہنچ کرحق وصداقت کے لئے قانون سازی میں اپناکردارادا کیا جائے۔یقیناایک دن ضرورآئے گا کہ جب مظلوم کو انصاف ملے گااوریہی افرادجوآج سڑک پردنیامیں ہونے والے اسرائیلی،امریکی جارحیت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں،وہ آئندہ انتخابات میں اپنے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ہرامیدوارسے یہ وعدہ ضرور لیں گے کہ وہ پارلیمنٹ میں جاکرایسی قانون سازی کریں جن کی بنیادپرہرظالم کولگام ڈالی جاسکے۔
کچھ بھی تونہیں رہے گا،کچھ بھی تونہیں،بس نام رہے گااللہ کا!

یہ بھی پڑھیں