Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

تحریک پاکستان کی بنیاداوراغیارکی سازشیں

پاک وہندکی صدیوں پرپھیلی ہوئی تاریخ کامطالعہ کیاجائے توغوروفکرکے نئے دریچے کھلتے ہیں اوریوں محسوس ہوتاہے جیسے قیام پاکستان کی بنیادکئی صدیا ں پہلے رکھ دی گئی تھی اوربعد ازاں تاریخ حالات کواس مقصدکیسانچے میں ڈھالتی رہی،اسی لئے بعض مؤرخین یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ قیام پاکستان ناگزیرتھااوریہ مشیتِ ایزدی تھی۔غورکیجئے تو صدیوں پر پھیلے ہوئے تاریخی سفرکے بعض اہم مقامات اورسنگ میل اس کاواضح ثبوت فراہم کرتے ہیں ۔
قدیم ہندوستان کی تواریخ میں سے تاریخ فرشتہ کوایک معتبرحوالہ کی حیثیت حاصل ہے۔تاریخ فرشتہ کے صفحہ101پردرج شہاب الدین غوری کا لکھاہواایک خط پڑھ کرمیں گہری سوچ میں پڑ گیا۔ شہاب الدین غوری نے یہ خط ہندوستان کے مشہور ہندو حکمران راجہ پرتھوی راج کے خط کے جواب میں کئی صدیاں قبل1192میں لکھاتھا۔ ترائن کے میدان میں مسلمان اورہندو افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی تھیں۔ پس منظر کے طورپریہ بات ہمارے ذہنوں میں رہے کہ شہاب الدین غوری دو سال قبل پرتھوی راج سے شکت کھاچکاتھا اوراب ایک فیصلہ کن معرکے کیلئے میدان میں اترا تھا۔پرتھوری راج ہندوستان میں ہندوؤں کی طاقت کاانتہائی مضبوط ترین اورطاقتور سمبل سمجھا جاتا تھا اوراسے ہندو راجاں کی پوری حمایت حاصل تھی۔ جنگ سے قبل غوری نے پرتھوی راج کوباہمی صلح کیلئے جوخط لکھااس میں مطالبہ کیاگیاتھاکہ یاتو موجودہ صوبہ پنجاب،سرحد اور سندھ کے علاقے میرے حوالے کردویاپھرفیصلہ کن جنگ کیلئے تیار ہوجا ۔ ان علاقوں کے مطالبے کی بنیادیہ تھی کہ ان میں مسلمان مقابلتاً زیادہ تھے لیکن حکومت کے ظلم وستم کے شکارتھے۔
بلوچستان اس اسکیم میں شامل نہیں تھاکیونکہ وہاں پہلے ہی مسلمانوں کی حکومت قائم تھی۔ بہرحال پرتھوی راج طاقت کے نشے میں مست تھا۔اس نے غوری کی صلح کی مشروط پیشکش کوٹھکرادیا اوریہ علاقے دینے سے انکارکردیا۔نتیجے کے طور پر جنگ ہوئی جس میں پرتھوی راج اوراس کے سینکڑوں ساتھیوں کوشکست فاش ہوئی جواپنے اپنے علاقے کی افواج کے ساتھ اپنے دھرم کے مطابق اس مقدس جنگ میں شریک تھے۔پرتھوی راج ماراگیا،ہندوں کی کمرٹوٹ گئی اورغوری نے اس علاقے پرقبضہ کرکے قطب الدین ایبک کو حکمراں نامزدکیاجس نے1193میں دہلی پرقبضہ کرکے ہندوستا ن میں باقاعدہ ایک مسلمان حکومت کی بنیادرکھی۔جنگ ترائن کوہندوستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے کیونکہ اس نے ہندوستان کیمقدرکافیصلہ کردیااورایک مسلمان حکومت کے قیام کی راہ ہموارکردی ۔
غوری کاخط ہمارے لئے غیرمعمولی انکشاف کی حیثیت رکھتاہے اورانکشاف کے بہت سے ایسے پہلوہیں جوگہرے غورو فکرکے متقاضی ہیں لیکن اس موضوع کی طرف بڑھنے سے قبل یہ ذہن میں رکھناضروری ہے کہ ہندوستان میں سب سے پہلی اسلامی مملکت کی بنیادمحمدبن قاسم نے رکھی تھی جوان علاقوں سے کہیں کم تررقبے پرمحیط تھی۔محمدبن قاسم712 میں ہندوستان پرحملہ آورہوا،فتوحات کرتے کرتے ملتان تک پہنچااورصرف تین برس کے بعد715میں واپس بلالیاگیا۔محمدبن قاسم کی رخصتی کے کچھ ہی عرصہ بعدمسلمان مملکت کمزور ہوگئی اورپھرسرداروں اورحکمرانوں کی بغاوتوں کے سبب چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہوکررہ گئی۔اس لحاظ سے صحیح معنوں میں ایک بڑی اسلامی حکومت کے قیام کاکریڈٹ قطب الد ین ایبک کوجاتاہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان تمام علاقوں میں موجودہ پاکستان پرمشتمل1192تک مسلمان آبادی ہندوستان کے دوسرے علاقوں کی نسبت قدرے زیادہ کس طرح ہوگئی جبکہ1192تک یہاں کوئی مستحکم اسلامی حکومت بھی قائم نہیں تھی۔بلاشبہ مسلمان حملہ آوراس دوران حملہ کرتے رہے اور اکثراوقات مال غنیمت لے کرواپس لوٹ جاتے رہے ۔
997 سے لے کر1030تک محمودغزنوی نے ہندوستان پر17حملے کئے جن سے مقامی ہندو ریاستیں کمزورہوئیں،مسلمان دشمن قوتوں کی کمر ٹوٹی،مسلمانوں کوبالواسطہ تقویت ملی لیکن محمود غزنوی نے بھی ہندوستان میں کسی اسلامی ریاست کی بنیادنہ رکھی اوراکثراوقات یہاں سے مالِ غنیمت لے کرواپس وطن لوٹ گیاگویااس کا مطلب یہ ہواکہ ہندواور مغربی مؤرخین کا یہ الزام غلط ہے کہ یہاں اسلام تلوارکے زورسے پھیلا کیونکہ جنگ ترائن تک ہندوستا ن میں نہ کوئی اسلامی حکومت موجود تھی اورنہ ہی مسلمانوں کواتنی طاقت حاصل تھی کہ وہ بزورشمشیراسلام پھیلاسکتے۔
ہوایوں کہ بہت سے اولیائے کرام،صوفیا اور صالحین اس عرصے میں ہندوستان آکرآبادہوئے جن میں خاص طورپرحضرت علی ہجویری عرف دا تا گنج بخش قابل ذکرہیں جومحمود غزنوی کی فوج کے ساتھ یہاں آئے اورپھریہیں کے ہ کررہ گئے۔یہ ان اولیائے کرام کی نگاہ کافیض تھاکہ مقامی آبادیوں کے دل مسخرہوتے گئے اوروہ صدیوں کے سفرمیں اس طرح حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔ 1192تک موجودہ سندھ ،سرحداور پنجاب کے علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی مقابلتازیادہ ہوگئی اوریوں قیام پاکستان کی راہ ہموارہوتی گئی ۔
اس مسئلے کے منتخب پہلوؤں پرغورکریں توان میں بڑی حکمت کے پوشیدہ رازکھلتے ہیں اورمشیت ایزدی کے واضح اشارے ملتے ہیں۔غورطلب بات یہ ہے کہ اولیائے کرام تواس مسئلے کے منتخب پہلوؤں پرغورکریں توان میں بڑی حکمت کے پوشیدہ رازکھلتے ہیں اورمشیت ایزدی کے واضح اشارے ملتے ہیں۔غورطلب بات یہ ہے کہ اولیائے کرام تو سارے ہندوستان میں پھیلے ہوئے تھے جن میں دہلی،سرہنداوراجمیرشریف خاص طورپرقابل ذکرہیں لیکن ان علاقوں میں مسلمان اکثریت میں کیوں نہ ہوسکے۔دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلمان ان صوبوں یاعلاقوں میں اکثریت میں ہوئے جو جغرافیائی طورپرایک دوسرے سے ملحق اورآپس میں پیوست تھے،ورنہ اگر مسلمان سرحدمیں اکثریت میں ہوتے توپھریوپی یاہندوستان کے دور دراز علاقوں میں اکثریت میں ہوتے توکیا پاکستان کا مطالبہ کیاجاسکتاتھایااسے منوایاجاسکتا تھا؟ جواب نفی میں ہے کیونکہ پاکستان کے مطالبے کی بنیاد ہی یہی تھی کہ صوبہ پنجا ب،سرحد،سندھ اور بلوچستان اوربعدازاں مشرقی بنگال جہاں اکثریت میں ہیں اورجغرافیائی طورپر ایک دوسرے سے وابستہ ہیں، ان علاقو ں پرمشتمل ایک آزاد مسلمان مملکت قائم کردی جائے جہاں مسلمان اپنے دین، ثقافت اور مذہب کے مطابق زندگی گزار سکیں، گویایہ مشیت ایزدی تھی کہ مسلمان ان علاقوں میں اکثریت میں ہوئے جوجغرافیائی طور پرایک یونٹ تھے۔اس لحاظ سے پاکستان کی بنیاد اسی وقت رکھ دی گئی جب شہاب الدین غوری نے صلح کیلئے پرتھوی راج سے ان علاقوں کامطالبہ کیا۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں