Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

تحریک پاکستان کی بنیاداوراغیارکی سازشیں

(گزشتہ سے پیوستہ)
اسی پس منظرمیں حضرت قائداعظم نے علی گڑھ میں1944میں خطاب کے دوران کہاتھاکہ پاکستان اسی دن وجودمیں آگیاتھاجس دن ہندوستان کی سرزمین پرپہلے مسلمان نے قدم رکھاکیونکہ مسلمان ایک مخصوص انداززندگی،ایک منفردکلچراورسوچ کی نمائندگی کرتاہے جوہرلحاظ سے ہندوستان کی دوسری اقوام سے مختلف اورالگ ہے اور”یہ تاریخی جملہ قائداعظم نے اس کئے کہاتھاکہ ہندومذہب میں جوبچہ جس گھرمیں پیداہوتاہے اس کی شناخت اپنے باپ کے مذہب سے پہچانی جاتی ہے اوریہ مذہبی طبقاتی تقسیم نے ہندوں کے درمیان نفرت اورتذلیل کی ایک گہری خلیج حائل کر رکھی ہے لیکن جس دن ہندوستان میں رہنے والے پہلے شخص نے اسلام کے الہامی دین کو قبول کیاتوگویااس نے مکمل طور پراپنی پرانی شناخت سے ناطہ توڑکرایک ایسے مذہب کوقبول کرلیاجس نے اس کے زندگی کے تمام ضابطہ حیات کوہندوں سے بالکل الگ کردیا۔
مجھے ہندوستان کی تاریخ میں مسلمان اوراسلام میں گہراربط نظرآتاہے اوروہ یوں کہ جب بھی اسلام کوکوئی چیلنج درپیش ہوا یامسلمانوں کے وجودکوصحیح معنوں میں کسی خطرے کاسامنا ہواتوایسی قوتیں نمودارہوئیں جنہوں نے ان چیلنجوں کاکامیابی سے مقابلہ کیااورمسلمانوں کوان سے بچانے کیلئے تحریکیں چلائیں۔تاریخی طورپر ہندوستان میں مسلمانوں نے680 برس تک حکومت کی اوران کے کل76بادشاہ ہوئے۔سب سے طاقتورحکومت مغلیہ خاندان کی سمجھی جاتی ہے جس کیدورمیں اکبر کے دین الہٰی کی صورت میں ہندوستان میں اسلام کوسب سے پہلے ایک سنجیدہ چیلنج کامقابلہ کرناپڑا۔حضرت مجددالف ثانی اکبرکے دین الہٰی کی راہ میں سدِسکندری بنے اور انہوں نے مسلمانوں کی مذہبی رہنمائی کافریضہ ادا کیا۔ مغلیہ خاندان کی حکومت ماسوائے اورنگزیب عالمگیرکے،ایک لبرل حکومت سمجھی جاتی ہے جس کے کم ازکم دویاتین بادشاہ ہندوماں کے بطن سے پیداہوئے تھے۔ظاہرہے کہ اس تناظر میں مغلیہ خاندان نے ہندوستان میں اسلام کی کیاخدمت کرنی تھی۔اسلام تواندرہی اندراولیائے اکرام، صوفیااوراہل نظرکی برکت سے پھیلتارہا۔
اورنگزیب عالمگیرکاانتقال1707میں ہوااوراس کے بعدمغلیہ سلطنت کمزورہونے لگی۔ ہندوستان کی تاریخ میں اٹھارویں اور انیسویں صدی مسلمانوں کیلئے انتہا ئی ابتلاکادور تھا کیونکہ اس دوران مسلمان حکومتیں گرنے لگیں،مختلف علاقوں پرمسلمان دشمن قوتیں قابض ہوگئیں اورمسلمان اپنے آپ کوغیرمحفوظ محسوس کرنے لگے۔
انگریزاکبرکے دورمیں تجارتی مقاصدکے پیش نظرہندوستان میں آئے تھے اوروہ آہستہ آہستہ اپنے پائوں پھیلاتے رہے،اثرورسوخ میں اضافہ کرتے رہے اوراپنی عسکری قوت بڑھاتے رہے چنانچہ انگریزوں نے1757میں جنگ پلاسی میں سراج الدولہ کوشکست دے کربنگال پرقبضہ کر لیا،1799میں ٹیپوسلطان کوشکست دے کراس کی سلطنت پرقابض ہوگئے تھے،1764میں بکسر کی لڑائی میں مغل بادشاہ شاہ عالم کی شکست کےبعددہلی کی حکومت بھی انگریزوں کےسامنے سرنگوں ہوگئی،1808میں رنجیت سنگھ نےپنجاب میں سکھ حکومت کی بنیادڈالی اورپنجاب میں مسلمانوں کاناطقہ بندکردیا،حتی کہ شاہی مسجدکو اصطبل میں تبدیل کردیا ۔
مسلمانوں کے اس تنزل اورابتلاکےدورمیں شاہ ولی اللہ نےاصلاح معاشرہ کی تحریک شروع کی،مسلمانوں میں جہاد بیدارکرنے کیلئےمنظم پروگرام شروع کیا،مسلمان دشمن قوتوں کوکمزور کرنےکیلئےاحمدشاہ ابدالی کوحملے کی دعوت دی اورساتھ ہی ساتھ مسلمان سرداروں کوخطوط لکھےجن کےمطالعےسےمسلمانوں کی نفسیات اورسوچ سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ان خطوط کالب لباب یہ تھاکہ ہندوستان میں مسلمان اوراسلام کی بقاکیلئے کچھ علاقوں میں مسلمان حکومتوں کاقیام ضروری ہے۔ غورکیاجائے تومحسوس ہوتاہےکہ یہ سوچ تحریک پاکستان کی بنیادبنی،یہی بات علامہ اقبال نےاپنے خطبہ الہ آباداورقائداعظم کے نام خطوط میں باربارکہی اورخودقائداعظم بھی اکثراوقات اس سوچ کااظہار کرتے رہے۔ دراصل یہ وہ خواب تھاجو ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت کے خاتمے کے بعدان کے قومی اوراجتماعی لاشعورمیں پلتارہااور بالآخراسی خواب کی تعبیران کومطالبہ پاکستان میں نظرآئی ۔
شاہ ولی اللہ کے جانشین شاہ عبدالعزیزنے ہندوستان کودارلحرب قرار دیا اور سید احمد شہید نے پنجاب کے مسلمانوں کورنجیت سنگھ کے مظالم سے نجات دلانے کیلئے جہادکاآغازکیا ۔ 1826 میں جہادی قافلے صوبہ سرحدکی جانب روانہ ہوئے۔ مجاہدین نے پہلااوردوسرامقابلہ جیت کرسرحدپر قبضہ کرلیا،1827میں سیداحمدشہیدصوبہ سرحد کے امیرالمومنین مقرر ہوئے اورانہوں نےشریعت کےنفاذکااعلان کردیا۔رنجیت سنگھ خودپشاور پہنچااورکچھ قبائلی سرداروں کواپنےساتھ ملانے میں کامیاب ہوگیاجن میں یارمحمداورسلطان محمدقابل ذکر ہیں ۔بالاکوٹ کے فیصلہ کن معرکے میں یارمحمد مجاہدین کوعین جنگ کے دوران چھوڑگیا،اپنے باورچیوں کےذریعے شاہ صاحب کوزہردلوادیا۔ 1831میں بالاکوٹ کے مقام پر سید احمد بریلوی اورشاہ اسماعیل شہید ہوگئے،یوں شاہ ولی اللہ نےجس تحریک کاآغاز1731میں کیاتھاوہ ایک صد ی کے بعد1831میں ختم ہوگئی ۔
سیداحمدشہیداورشاہ اسماعیل کاارادہ تھاکہ وہ اس خطے کے مسلمانوں کوسکھوں سے نجات دلاکر انگریزوں کےخلاف جہادکریں گےلیکن ان کایہ خواب ادھورارہا۔ا سے کسی اور شکل و صورت میں کسی اورطریقے سے شرمندہ تعبیرہوناتھا،قدرت کو یہی منظور تھا ۔ دوسری طرف انگریزآہستہ آہستہ اپناجال پھیلارہےتھے اورہندوستان پرقبضہ جمانے کیلئے شاطرانہ چالیں چل رہے تھے۔سراج الدولہ، ٹیپوسلطان اورشاہ عالم کی فوجوں کوشکست دینے کےبعدوہ ایک مؤثرعسکری قوت بن کرابھر چکے تھے، انگریزوں نے اسی حکمت عملی کے تحت 1843 میں سندھ کاالحاق اور29مارچ1849 کو پنجاب کااپنے ساتھ الحاق کرکے ان صوبوں پرقبضہ کرلیا۔1 856 میں انگریزوں نےاودھ کےفرمانرواواجدعلی کے سسراور وزیراعظم میرعلی نقی کواپنے ساتھ ملاکر واجد علی سے دستخط کرواکراودھ پرقبضہ کر لیا اورمیرواجدکوکلکتہ کے منیابرُج میں قیدکردیا۔
ایک مورخ کے بقول تین میروں نے ہندوستان میں مسلمان مملکتوں کے مقدرکافیصلہ کر دیا۔ میرجعفرنے پلاسی کےمیدان میں سراج الدولہ سےغداری کرکے مسلمانوں کوبنگال کی حکومت سے محروم کردیا،میرصادق نے ٹیپوسلطان سے غداری کر کے مسلمانوں کومیسورکی مملکت میں حکمران سے غلام بنادیااورمیرعلی نقی نے میرواجد سے دستخط کرواکراودھ انگریزوں کے حوالے کردیا۔پنجاب میں رنجیت سنگھ کی حکومت مضبوط بنانے اورسرحدمیں مجاہدین سے گفت وشنیداوران کی شکست میں لاہورکی فقیر فیملی کے ایک سربراہ کابھی مؤرخین ذکرکرتےہیں جسے رنجیت سنگھ کے دربارمیں اہم حیثیت حاصل تھی۔انتہائی مشہور شخصیت معیزالدین احمد فرزندمولانا صلاح الدین احمدمرحوم تودعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے پنجاب سیکرٹریٹ کےقلعےانارکلی(آرکائیوز)میں محفوظ پنجاب کے انگریزحاکم کاوہ فرمان اپنی آنکھوں سے پڑھاہےجس کےمطابق لاہورکے ایک معروف خاندان کوفوری طور پر سید ہونے کاتاج پہنایاگیاتھا، یاد رہے کہ انگریزی زبان کے سرکاری حکم ناموں میں (Immediate Effect) کے الفاظ ضرور استعمال ہوتے ہیں جس کاترجمہ ’’فوری طور‘‘ پر ہوتا ہے۔
1857کی جنگ آزدی کی ناکامی کے بعدانگریزہندوستان پرچھاگئے،انگریزآئے تو اپنے ساتھ سائنس،ٹیکنالوجی،مواصلات، ریلوے ،ماڈرن ایجوکیشن،اورایک سیاسی کلچربھی لائے۔ انگریزوں کی پالیسیوں کےسبب ہندوستان میں نیشنلزم کاشعورمضبوط ہوا،سیاسی جماعتیں معرض وجودمیں آئیں،حق رائےدہی اورانتخابات کاذکر ہونےلگاجس سےمحدود جمہوریت اور پھراکثریت واقلیت کے احساس نےجنم لیا۔
اس صورتحال کے نتیجے کے طورپرمسلمانوں نے شدت سے محسوس کیاکہ وہ اقلیت ہونے کے سبب ہمیشہ ہمیشہ اکثریت کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہیں گے،انہوں نے محسوس کرناشروع کیاکہ چونکہ وہ اپنے مذہب،ثقافت،تاریخی پس منظر اورقومی سوچ کے حوالے سے ایک علیحدہ قوم ہیں،اس لئے انہیں ایک علیحدہ وطن کے حصول کیلئے جدوجہدکرنی چاہئے ۔ یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہےکہ سرسیداحمدخان سے لیکرقائداعظم تک تقریبا سبھی مسلمان لیڈروں نے اپنے سیاسی کیریئر کاآغازہندومسلم اتحادکی کوششوں سے کیالیکن انہوں نےہندوذہنی رویے اورتنگ نظری کوقریب سے دیکھ کراپنی راہیں الگ کرلیں۔ہندو مسلم اتحاد کا اہم ترین سنگ میل لکھنوپیکٹ 1916تھاجس کاخواب 1928 میں نہرو رپورٹ نے پاش پاش کردیاحتیٰ کہ قائداعظم ؒجیسے مستقل مزاج انسان کویہ بھی کہناپڑاکہ اب ہمارے راستے الگ الگ ہیں۔علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد1930 نے مسلمانوں کو نئی سوچ دی اوران میں منزل کا شعور بیدارکیاجبکہ1935کے انتخابات کےنتیجےکےطور پر1937میں چھ صوبوں میں کانگریس کی حکمرانی نے مسلمان عوام کی آنکھیں کھول دیں ۔ان واقعات نے قراردادِپاکستان کی راہ ہموارکی اور 1940میں مسلمانان ہندنے مسلم لیگ کے جھنڈے تلے ایک علیحدہ اور آزاد وطن کامطالبہ کردیا ۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں