Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

تحریک پاکستان کی بنیاداوراغیارکی سازشیں

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس کے بعدبرطانوی حکومت نے’’مسئلہ ہند ‘‘ کاحل ڈھونڈنے کیلئے بہت سی کو ششیں کیں جن کی تفصیل کتابوں میں محفوظ ہے لیکن ساری کو ششیں اوراسکیمیں ایک ایک کرکے ناکام ہوگئیں۔سیاسی پیش رفت کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے روحانی اشارے بھی ملتے ہیں جومشیت ایزدی کی جھلک دکھاتے ہیں۔مولانااشرف علی تھانوی مفسر قرآن،عاشق رسول ﷺاورروحانی شخصیت تھے۔ان کے مریدوں اورچاہنےوالوں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ ایسےفقیرمنش اورصوفی انسان سے آپ صرف حق گوئی کی توقع کرسکتےہیں۔حضرت تھانوی کےخواہرزادے مولاناظفراحمدعثمانی فرماتےہیں کہ ایک روزحضرت نےمجھےطلب فرمایااوربتایا: ’’میں بہت کم خواب دیکھتاہوں مگرآج میں نےعجیب ساخواب دیکھاہے،میں نے دیکھاکہ ایک بہت بڑامجمع ہے گویامیدان حشر ہے۔اس میں اولیاوصلحا کرام،علماکرسیوں پر بیٹھےہوئےہیں۔مسٹرمحمدعلی جناح بھی اس مجمع میں عربی لباس پہنے ایک کرسی پربیٹھے ہیں۔میرے دل میں خیال گزراکہ یہ اس مجمع میں کیسے شامل ہوگئے تومجھے بتایاگیاکہ محمدعلی جناح آج کل ’’اسلام ‘‘کی بہت بڑی خدمت کررہے ہیں اسی واسطے ان کویہ درجہ دیاگیاہے‘‘ (بحوالہ تعمیرپاکستان اورعلماربانی ازمنشی عبدالرحمن ادارہ اسلامیات لاہور1992 صفحہ92 )
4جولائی1943کوحضرت تھانوی نےمولاناشبیراحمدعثمانی اورمولاناظفراحمدعثمانی دونوں کوطلب فرماکرارشادفرمایا، 1940کی قرارداد پاکستان کوکامیابی نصیب ہو گی، میراوقتِ آخرہے اگرمیں زندہ رہتاتوضروراس عظیم مقصدکی کامیابی کیلئے کام کرتا، مشیت ایزدی یہی ہے کہ مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن بنے۔قیام پاکستان کیلئے جوکچھ ہوسکے کرنا،اپنے مریدوں کوبھی کام کرنے پرابھارنا،تم دونوں عثمانیوں میں سےایک میراجنازہ پڑھائے گااوردوسراعثمانی جناح صاحب کاجنازہ پڑھائے گا(بحوالہ قائداعظم کامذہب وعقیدہ ازمنشی عبدالرحمن صفحہ249 اورقائداعظمؒ کی شخصیت کاروحانی پہلوازحبیب اللہ 1948)۔ قائداعظم ؒکی نمازجنازہ کراچی میں مولاناشبیراحمدعثمانی نے پڑھائی۔ مولاناحسرت موہانی ایک مردِدرویش،بےلوث عظیم اوربہادرانسان تھے،زندگی کاخاصاحصہ انگریزی راج کےخلاف جدوجہدکرنےکی سزاکےطورپرجیلوں میں گزاردیااوراکثراوقات سزابامشقت پائی اس ضمن میں ان کایہ شعرزبان زدعام ہے۔
اک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
مولاناحسرت موہانی نے مسلم لیگ کے کئی اجلاسوں کی صدارت فرمائی اوراتنے دبنگ انسان تھے کہ مسلم لیگ کونسل کے بھرےاجلاس میں اٹھ کرقائداعظم کی پالیسیوں پرتنقید کرتے اورخودقائداعظم ان کابےحداحترام کرتے تھے،یہاں قائداعظم کے جمہوری مزاج کابھی پتہ چلتاہے۔
مولاناکواللہ تعالیٰ نے غربت کے باوجودگیارہ جج اوربہت سے عمرے نصیب کئے۔مولانانے زندگی کابقیہ حصہ مسلم لیگ میں رہ کرحصول پاکستان کیلئے دن رات جدوجہدمیں گزاردیالیکن قیام پاکستان کے بعدہندوستان میں رہنے کوترجیح دی کیونکہ ان کی جدوجہدذات کیلئے نہیں بلکہ قوم وملت کیلئے تھی۔محترم ظہیرالاسلام فاروقی ایڈووکیٹ اپنی کتاب ’’مقصد پاکستان لاہور1981ء میں رقمطرازہیں، 1946ء میں مسلم لیگ کااجلاس بمبئی میں تھا۔ٹرین میں پیرسیدعلی محمدراشدی کے ساتھ مولاناحسرت موہانی بھی ہم سفرتھے۔راشدی صاحب نے مولاناحسرت موہانی سے پوچھاکہـ مسلم لیگ کامطالبہ پاکستان مان لیاجائے گا؟ مولاناحسرت موہانی مرحوم نے جواب میں کہاکہ ’’پاکستان توبن جائے گاآگے کی فکرکرو‘‘ پھرکہا، میں نے رسول اکرمﷺکوخواب میں دیکھا آنحضورﷺنے خود اس کی بشارت دی،بعدازاں میں نے دیوان حافظ سے فال نکالی اوراس کی تضمین میں یہ اشعارکہے۔
جبکہ حافظ بھی مصدق ہوبہ فال دیواں
جب کہے خواب میں خود آکے وہ شاہِ خوباں
تجھ کو حسرت یہ مبارک، سند و مہر و نشاں
پردہ بردارکہ تاسجدہ کندجملہ جہاں
مولاناحسین احمدکانگریس کے ممتازلیڈراور تقسیم ہندکے شدیدمخالف تھے جن کے بارے میں یہ واقعہ میں نے کئی بزرگوں سے سناہے کہ وہ 46۔1945کے انتخابات کے ضمن میں کانگریس کیلئے ووٹ مانگنے کی غرض سے بنگال کادورہ کررہے تھے۔ان کے ہمراہ بہت سے مریدان اورسیاسی کارکن بھی تھے۔اس انتخابی مہم کے دوران ایک دن انہوں نے نمازفجر اداکی، امامت کے بعداپنے محدودحلقے میں تقریرکرتے ہوئے کہاکہ آج رات مجھے نبی کریمﷺکی زیارت نصیب ہوئی آپﷺنے فرمایا کہ پاکستان کے قیام کافیصلہ ہوچکا ہے،جب مولانامدنی یہ کہہ چکے توایک مریداٹھااوراس نے کہاکہ حضرت چلئے اورمسلم لیگ کاساتھ دیجئے اب اس کے بعد کانگریس کیلئے انتخابی مہم چلانے کاکوئی جوازنہیں،اس کے جواب میں مولانامدنی نے کہاکہ دینی معاملات میں حضورﷺکی پیروی فرض ہے لیکن تکونیی وسیاسی معاملات میں نہیں۔اب اصحابِ نظرخودہی اندازہ لگالیں کہ نبی اکرمﷺنے خواب میں پاکستان کی بشارت بھی دی لیکن اس کے باوجوداپنے سیاسی نظریات پرقائم رہے ،اوران افرادکی بھی خبرلینے کی ضرورت ہے جوبھارت کی سرزمین پرکھڑے ہوکریہ برملا کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان بنانے کی غلطی میں حصہ نہیں لیالیکن اب پاکستان کی سیاست کے ٹھیکیداربنے ہوئے ہیں اورہرقسم کے مفادسے لطف اندوزبھی ہو رہے ہیں۔
اس ضمن میں بہت سے واقعات مشہورہیں لیکن میں نے صرف ان ہستیوں کے حوالے دیئے ہیں جن کی امانت ودیانت شک وشبہ سے بالاترہے۔ سیاسی محاذکی پیش رفت بھی قابل غورہے اورکچھ ایسے ہی اشارے دیتی ہے کہ انگریزبہرحال ہندوستان کومتحدہ رکھناچاہتے تھے اوروہ اسی فریم ورک میں ہندوستان کے مسئلے کاحل تلا ش کرنے کیلئے سرگرداں تھے۔ اس ضمن میں بہت سی کو ششیں کی گئی لیکن مشیت ایزدی یہی تھی کہ وہ بارآورنہ ہوں،یہاں کابینہ مشن پلان کاذکرضروری معلوم ہوتا ہے کیونکہ اسے مسلم لیگ نے قبول کرلیا تھا اوریوں حصول پاکستان دس برس کیلئے ملتوی ہو سکتا تھا کیونکہ کابینہ پلان کے مطابق مختلف گروپ دس سال کے بعداس انتظام سے باہرنکل سکتے تھے ۔مشیت ایزدی یہی تھی کہ پاکستا ن کا قیام دس سال کیلئے ملتوی نہ ہوچنانچہ کانگریس نے اس پلان کومستردکردیااوریوں انگریزوں کے پاس ہندستان کوتقسیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں