کلکی اوتار یعنی آخری پیغمبر کا ذکر ہندو مذہبی کتابوں میں ایک اہم شخصیت کے طور پر ہے۔ جو ہندو عقیدے کے مطابق آخری نبی آخری زمانے میں ظاہر ہوں گے اور دنیا میں نیکی، امن اور انصاف کے پیغمبر ہوں گے۔ ہندو مقدس کتابوں، جیسے کہ پرانیوں اور بھگوت پران، میں اس مستقبل کے نجات دہندہ کی تفصیلات بیان ہیں۔ ان کتابوں کے مطابق، کالکی اوتار ایک سفید گھوڑے پر سوار ہوں گے یعنی نور ہدایت ، تلوار – طاقت تھامے ہوں گے، اور برائی کے کو ختم رے دھرم (راست بازی)کی تعلیم دیں گے۔ ممتاز سکالر پنڈت وید پرکاش نے اپنی تحقیق کتاب کلکی اوتار میں، یہ نقطہ نظر پیش کیا کہ ہندو مذہبی کتابوں میں کلکی اوتار کے بارے میں دی گئی علامات اور نشانیاں حضرت محمدﷺ کی زندگی اور مشن پر پوری اترتی ہیں۔ انہوں نے ہندو کتابوں میں کلکی اوتار کی تفصیلات کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور ان کا موازنہ حضرت محمدﷺ کی سیرت سے کیا۔
ان کی تحقیق کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
-1خاندانی نسب: ہندو کتب میں کلکی اوتار کو ایک معزز اور شریف خاندان میں پیدا ہونے والا بتایا گیا ہے۔ حضرت محمدﷺ قریش کے معروف قبیلے میں پیدا ہوئے، جو مکہ میں ایک محترم حیثیت رکھتا تھا۔
-2آخری نبی: کلکی اوتار کو خدا کا آخری پیغامبر کہا گیا ہے جو روحانی جہالت کا خاتمہ کریں گے۔ اسلام میں حضرت محمدﷺ کو ختم المرسلین، یعنی آخری نبی، مانا جاتا ہے۔
-3پیدائش کی جگہ: پیشین گوئیوں میں کہا گیا ہے کہ کلکی اوتار ایک صحرا نما علاقے میں پیدا ہوں گے۔ حضرت محمدﷺ کی پیدائش مکہ کے صحرائی شہر میں ہوئی، جو جزیرہ نما عرب میں واقع ہے۔
-4سفید گھوڑا اور تلوار: کچھ لوگ سفید گھوڑے اور تلوار کی علامت کو ظاہری طور پر دیکھتے ہیں، لیکن پنڈت وید پرکاش اور دیگر علما ء کا خیال ہے کہ یہ علامات انصاف اور سچائی کے قیام کی نشاندہی کرتی ہیں۔ حضرت محمدﷺ نے بھی انصاف کے قیام اور اپنی امت کے تحفظ کے لیے کئی فوجی مہمات کی قیادت کی۔
-5کلکی اوتار کو علم ربانی حاصل ہوگا۔ حضرت محمدﷺ کو جبرائیل آمین کے ذریعے خدا کی طرف سے وحی ملی، جو قرآن میں محفوظ ہے اور یہ وحی ان کی قیادت اور انسانیت کی ہدایت کا ذریعہ ہے۔ کئی دیگر ہندو علما اور روحانی(گرو)نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے اور اشارہ دیا ہے کہ کلکی اوتار کی پیشین گوئیاں حضرت محمدﷺ پر صادق آتی ہیں۔
سوامی لکشمن پرساد نے اپنی تحریروں میں کلکی اوتار کی صفات اور حضرت محمدﷺ کے مشن میں مماثلتوں کو بیان کیا ہے، خاص طور پر بت پرستی کے خاتمے اور توحید کے پیغام پر زور دیا ہے۔
ڈاکٹر کیدار ناتھ شرما معروف عالم نے مذہبی کتب کا مطالعہ کرتے ہوئے کلکی اوتار کی روحانی مہم اور حضرت محمدﷺ کے پیغام میں مماثلتوں کو اجاگر کیا ہے، خاص طور پر خدائی قانون کی بحالی اور جہالت کے خاتمے کے حوالے سے۔
سری روی شنکر اور دیگر آٹھ ہندو علماء کے خیالات ایک گہری بین المذاہب تشریح پیش کرتے ہیں جو ہندو مت اور اسلام کے مابین مشترکہ خصوصیات کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ تشریح اشارہ کرتی ہے کہ کلکی اوتار کے متعلق ہے یہ نقطہ نظر ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دیتا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے کہ مختلف مذاہب بالآخر ایک واحد حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم، یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ خیالات تشریحی ہیں اور تمام ہندو علماء عالمگیر طور پر قبول نہیں کیے گئے۔نتیجتاً، پنڈت وید پرکاش کا کام، دیگر علماء کی تحقیق کے ساتھ، اس بات کا مضبوط دلیل پیش کرتا ہے کہ حضرت محمدﷺ کلکی اوتار سے متعلق پیشین گوئیوں کو پورا کرتے ہیں۔
یہ تشریح مختلف مذہبی روایات کے درمیان اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ انسانیت کو نیکی اور سچائی کی طرف رہنمائی کرنے کا مشن تمام انبیا اور اوتاروں کا مشترکہ ہدف ہے۔یہ تحقیق مختلف مذاہب ے علما کے باہم ڈائیلاگ کی طرف دعوت دعوت دیتی ہے۔