بلاشبہ اور براہ راست اب راقم کا نقطہ نظر یہ ہے کہ محض مسائل کی نشاندہی ایک بے کار عمل ہے جب تک دوٹوک اور غیر مبہم الفاظ میں ہم کسی بھی مسئلہ کا حل تلاش کرکے اس پر عمل پیرا نہیں ہوں گے ساری کی ساری مشق بے نتیجہ اور محض لفاظی اور ذہنی عیاشی کے سوا کچھ نہیں۔
اپنے خالق کے براہ راست احکامات کی بجاآوری کے ساتھ ساتھ اگر ماضی بعید پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے آبائو اجداد اور بزرگان دین نے روح کی بالیدگی اور اس کی غذا کو بھی ہماری قومی اور ملی زندگی میں اپنا شعاربنائے رکھا۔
راقم محسوس کر رہا ہے کہ ہمارے رویوں میں شدت پسندی، تنگ نظری، تعصب، عدم برداشت، ریا کاری، لاابالی پن، عجلت پسندی، مادی پرستی، ذاتی اور ادارتی انا اور بہت کچھ جس کی ایک طویل فہرست ہے۔ وجہ روح کو غذا سے محروم رکھنا اور اس کے تقاضوں کو نظرانداز کرنا ہے۔ روح اور رویوں کا گہرا تعلق ایک ان دیکھی حقیقت ہے۔ ہم نے کبھی بھی اس تعلق کو قائم کرنے کی کوشش نہیں کی اور بدقسمتی سے نہ ہی ہمیں اس کا ادراک ہے اور نہ ہی معاشرے کے باشعور اور فکری طور پر بااثر طبقے نے ہماری توجہ اس طرف مبذول کروانے کی سعی اور کوشش کی اور شائد بلکہ یقینا ہمارا دانشور طبقہ خود بھی روح اور رویہ کے اس تعلق سے ناآشنا نظر آتا ہے … بہرحال ہمارے معاشرتی انحطاط کی شکل میں نتیجہ آپ کے سامنے ہے … کون نہیں جانتا کہ جہائت اور ذہنی پسماندگی اب ہمارے اجتماعی معاشرتی کردار کی پہچان بن گئی ہے۔
آج الصبح راقم جب گھر سے نکلا تو خیال آیا کہ بہت عرصہ سے اسلام آباد کے سیکٹر G-6/4 میں واقع قطب شہید مسجد میں سجدہ ریزی کا شرف حاصل نہیں ہوا وہاں حاضری کا مقصد محفل ذکر رسولﷺ میں شرکت بھی تھا جب باہر نکلا تو ایک سفید باریش شخص سے اچانک سامنا ہوا‘ ان صاحب نے اپنا نام ملک مشتاق بتایا۔ کہنے لگے جب سرکارؐ کی کسی پر نظر ہوتی ہے تو وہ اسے راستے سے نہیں بھٹکنے دیتے اور فوراً اس شخص کی گناہ کے ارتکاب پر سرزنش ہو جاتی ہے میں نے اتفاق کیا اور پھر وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مسجد کے ساتھ ہی واقع ایک مقبرے میں لے گئے جہاں ایک بزرگ مدفون تھے ملک مشتاق صاحب نے ایک بہت روح پرور دعا کروائی جس میں راقم کو بھی شریک ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ وہاں سے روانگی کے بعد راقم نے محسوس کیا کہ اگر اس بات کی ترویج کی جائے اور اس رخ کو لوگوں میں عام کیا جائے کہ ہم اپنی روح کی بالیدگی اور تسکین کا سامان تلاش کریں ان اعمال سے گزریں جن کا تعلق مادیت سے بہت دور محض روح کی تسکین سے ہے تو اس عمل سے ہم اپنے مذکورہ بالا منفی رویوں سے چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہیں اور یہ ہمارے اجتماعی کردار کی تطہیر اور ریاستی امور میں بہتری کا ایک ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
قارئین کرام راقم پوری دیانتداری سے یہ سمجھتا ہے اور پورے یقین کے ساتھ اس بات کو قلم کے سپرد کر رہا ہے کہ دراصل ہماری روح کا علاج رحمت ا للعالمینؐ کی ذات سے روحانی تعلق کو قائم کرنے میں مضمر ہے۔ آپؐ کی تعلیمات کا علم حاصل کرنا اور اس پر عمل یقینا ایک ایسی ناقابل تردید حقیقت ہے جس کی اہمیت سے کسی بھی صورت مفر ممکن نہیں ہے اور ہمیں اس کی اہمیت کو بھی ہمیشہ پوری توجہ اور شدومد کے ساتھ مدنظر رکھنا ہوگا جو فرض عین ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ راقم یوں محسوس کر رہا ہے کہ ہم سے سرکارؐ کے ساتھ قلبی اور روحانی تعلق کی اپنی ذاتی زندگی میں شائد اس طرح سے آبیاری نہیں کی جو اس کا حق تھا۔ راقم نے جو محسوس کیا آپ کے ساتھ اس کا اظہار کر دیا ہے اور اس پر عمل کرنے سے یقینا ہمارے رویوں میں لطافت اور شائستگی کے رنگ بھرے جاسکتے ہیں … مرنے مارنے اور پرتشدد رویوں کا مقابلہ روح کی اصلاح اور اس کی پرورش اور پالیدگی سے کرنے میں کوئی حرج نہیں ‘ایسا کرنے سے میری اور آپ کی سوچ نہ صرف مثبت ہوگی بلکہ اس کے اثرات سے ہم اپنے اردگرد محبت، روشنی، علم، شفتگی، حس لطافت، تہذیب، شائستگی اور ہر اس خوشگوار احساس سے بھی محظوظ اور فیض یاب ہوں گے جو فطرت اپنے ہاتھوں میں لئے ہماری منتظر ہے… ہمیں صرف آگے بڑھنا ہے اور مذکورہ بالا تحائف خداوندی کو وصول کرنا ہے تاکہ میں اور آپ اپنی زندگی سے تلخ اور بدنما رویوں اور خودغرض سوچ و عمل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں … آئیے ایک مرتبہ ہم آزما کر تو دیکھیں۔
یقین جانیئے ایسا کرنے سے ہماری تمام نفسیاتی اور روحانی بیماریاں بھی نہ صرف ہم سے دور ہو جائیں گی بلکہ ہم ایک مثبت اور حقیقی ترقی پسند سوچ کے حامل معاشرے میں بھی تبدیل ہوسکتے ہیں۔ انتخاب آپ کا ہے … آئیے ہم اپنی روحانی اصلاح اور بالیدگی کے حصول کیلئے سرکار دوعالمؐ کے ساتھ اپنے روحانی اور قلبی تعلق کو نہ صرف قائم کریں بلکہ اس کی آبیاری اس عقیدت اور محبت کے ساتھ کریں کہ اس کا براہ راست اثر ہمارے کردار و عمل کو ایک ایسی خوشبو سے معطر کر دے جس سے ہمارے ارد گرد کا ماحول اس قدر خوشگوار بن جائے کہ ہم پسماندہ سوچ اور جاہلانہ رویوں کے اس چنگل سے آزادی ہو جائیں جس نے ہم کو آسیب کے ایک ایسے سایے میں جکڑ رکھا ہے جس سے نجات کا کوئی دوسرا راستہ قابل عمل دکھائی نہیں دیتا … محض سوچ اور ذہنی فکر کی تبدیلی ہی ہمیں اندھیرے سے روشنی کی طرف سفر پر گامزن کرسکتی ہے۔
سوچوں کے بدلنے سے نکلتا ہے نیا دن
سورج کے چمکنے سے سویرا نہیں ہوتا