Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

لا حاصل احتجاج اور دھرنے بازی کا مہلک شوق

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی گزشتہ چار دنوں سے بند ہیں۔ کاروبار زندگی معطل ہے۔ تعلیمی سرگرمیاں رکی ہوئی ہیں۔ سرکاری دفاتر میں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔ حسب عادت پی ٹی آئی نے احتجاج اور دھرنے کا شوق پورا کرنے کے لیے اسلام آباد کا انتخاب کیا تھا۔ حسب سابق اس کار خیر کا حاصل وصول صفر رہا ہے۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسلام آباد کو احتجاج کے نام پر ہلہ گلہ کرنے والے افراد سے نجات دلائی ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق لگ بھگ تین گھنٹوں میں احتجاجی گروہ منتشر ہو گیا ۔ٹی وی چینلز نے یہ خبریں دیں کہ مظاہرین اسلام آباد سے فرار ہو گئے ۔ بعض مفرور گرفتار ہو چکے ہیں۔ حکومت کے ابتدائی دعوے کے مطابق 450 مظاہرین گرفتار ہو چکے ہیں وفاقی دارالحکومت میں یہ افرا تفری ایسے وقت ہو رہی ہے جبکہ بیلا روس کے صدر اپنے وفد کے ساتھ پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے اس احتجاجی ہلے گلے نے ایک مرتبہ پھر ایس سی او کانفرنس کے موقع پر احتجاج کے اعلان کی تلخ یادیں تازہ کر دی ہیں۔ ماضی میں بھی نون لیگ اور پی پی پی یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ پی ٹی آئی کے دھرنے اور لانگ مارچ کی وجہ سے 10 برس قبل چینی صدر کا دورہ سبوتاژ ہوا تھا۔ یہ ممکن نہیں کہ اہم سفارتی دوروں اور کانفرنسز کے موقع پر احتجاج کے منفی اثرات کا تحریک انصاف کو ادراک نہ ہو۔
وفاق، پنجاب اور کے پی میں حکمرانی کرنے کے بعد تحریک انصاف حساس مواقع پر احتجاج کے منفی اثرات سے بخوبی واقف ہے۔ جانتے بوجھتے ہوئے ملکی مفادات پر جماعتی مفادات کو ترجیح دینے کی روش قابل مذمت ہے۔ وفاقی حکومت کا طرز عمل بھی تنقید کی زد میں ہے ہر چھوٹے بڑے احتجاج کا علاج یہ نہیں کہ ملک بھر میں اہم سڑکیں، پل کاروبار اور تعلیمی ادارے بند کر دئیے جائیں۔ حزب اختلاف ملک بند کروا کر اپنی دھاک بٹانا چاہتی تھی۔ حکومت کی بد انتظامی اور ناقص حکمت عملی کی بدولت حزب اختلاف کا مقصد پورا ہو گیا۔ حکومت نے خود ہی سب کچھ بند کر کے تحریک انصاف کا کام آسان کر دیا۔ ٹی وی پروگرامز میں پی ٹی آئی کے تیسرے اور چوتھے درجے کے ترجمان ہنس ہنس کر اینکرز کو بتاتے رہے کہ ہمیں کچھ کرنا ہی نہیں پڑا کیونکہ حکومت نے خوف میں مبتلا ہو کر خود ہی سارا ملک بند کر دیا۔ اسلام آباد میں چند سو مظاہرین کو گرفتار کرنے کے بعد حکومت نے احتجاجی گروہ کو بآسانی منتشر کر دیا ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس گروہ کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے پہلے ہی کیوں نہ روکا گیا؟ اس معاملے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا واضح حکم بھی موجود تھا۔ اس حکم کی روشنی میں وفاق اور پنجاب کی حکومت موثر اشتراک عمل سے اسلام آباد کو انتشار اور فساد سے محفوظ رکھ سکتے تھے۔ حکومت کی ناقص حکمت عملی پر نون لیگ کے حامی اور اتحادی بھی تنقید کر رہے ہیں۔ سیاسی کشمکش کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت پر بھی بہت سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کھوکھلے نعرے اور مشکوک طرز عمل اب تحریک انصاف کے ہر احتجاج کی شناخت بن چکا ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف میں بانی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد قیادت کا خلا پر نہیں ہو سکا۔
کے پی وزیراعلیٰ آتشی بیانات کی ہوائی فائرنگ تو کر لیتے ہیں لیکن صوبے میں کارکردگی دکھانا اور احتجاج کے لیے عوام کو متحرک کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ حالیہ ناکام احتجاجی یلغار سے اس تاثر پر مہر تصدیق ثبت ہو گئی ہے۔ جس صوبے میں ان کی جماعت نے تیسری مرتبہ حکومت قائم کی ہے وہاں سے بھی صرف چند سو افراد مظاہرے میں شرکت کے لیے باہر نکلے۔ پنجاب ،سندھ اور بلوچستان میں عوام کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی عوام کی احتجاج سے لاتعلقی دراصل پی ٹی آئی کی قیادت کے غیر سنجیدہ طرز عمل کا رد عمل ہے۔ بانی چیئرمین کی زوجہ محترمہ اور بہنوں کے درمیان رسہ کشی، تلخ کلامی اور احتجاجی حکمت عملی پر اختلافات کی خبروں نے بھی عوام میں بد دلی پھیلائی ہے۔ موروثیت کے خلاف جدوجہد کا عزم رکھنے والی جماعت میں بانی چیئرمین کی زوجہ محترمہ کا بڑھتا اثر و رسوخ دراصل اعلانیہ بیانیے کی نفی اور دو عملی کا ثبوت ہے۔ اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے کے مقام کے تعین کا معاملہ بھی بے یقینی کی دھند میں ڈوبا رہا۔ پی ٹی آئی کے قائدین نے اس حوالے سے متضاد بیانات دیئے۔ٹی وی چینلز کی خبروں کے مطابق حکومت نے سنگجانی کے مقام پر تحریک انصاف کو دھرنے کی پیشکش کی تھی لیکن نادیدہ قوت نے اسلام آباد ڈی چوک میں دھرنا دینے کی ضد برقرار رکھی۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ کارکن اور بہت سے افغان شہری پرتشدد احتجاج کے الزام میں گرفتار ہو چکے ہیں۔
حسب معمول وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہو گئے۔ اس مرتبہ صرف وزیراعلیٰ کے پی نہیں بلکہ بانی چیئرمین کی اہلیہ بھی منظر سے غائب ہو چکی ہیں۔ 27نومبر کی صبح ان سطور کے لکھے جانے تک دھرنے کی قیادت کرنے والی یہ دونوں شخصیات منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔ حیران کن طور پر تحریک انصاف کے عالیہ چیئرمین بیرسٹر گوہر، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ سمیت نمایاں قائدین علی محمد خان، شیر افضل مروت اور بیرسٹر شعیب شاہین جیسی سرگرم شخصیات دھرنے اور لانگ مارچ میں شرکت کرتی دکھائی نہیں دیں۔ یہ اعلانیہ لا تعلقی کیوں ہے؟ وزیراعلیٰ کے پی اپنی معزز مہمان کے ساتھ کیوں غائب ہوئے ہیں؟ اگر یہ احتجاج کی فائنل یاحتمی کال تھی تو ہدایت کے برخلاف ہر رکن پارلیمان پانچ ہزار بندے کیوں نہیں لا سکا؟ لگتا ہے یہ احتجاجی دھرنا تحریک انصاف کی صفوں میں جاری اختیار کی جنگ کا شاخسانہ تھا ۔وقت کا تقاضا ہے کہ تحریک انصاف اپنے مسائل کے حل کے لیے سیاسی عناصر سے مذاکرات کرے اور مقدموں میں سہولت حاصل کرنے کے لیے قانونی جنگ لڑے۔ لانگ مارچ اور دھرنے بازی سے ملک کا بھی نقصان ہو رہا ہے اور تحریک انصاف کی رہی دہی سیاسی ساکھ بھی خراب ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں