ماہ وسال کا تانا بانا
سانسوں کا ہے آنا جانا
یہ نہ دیکھو کتنے گزرے
یہ بھی سوچو کیسے گزرے
کیا کچھ کھویا کیا کچھ پایا
عمر کی پونجی کہاں گنوائی
جو کچھ سیکھا ان سالوں میں
علم ، عمل میں کتنا آیا
دھن دولت کو کہاں لٹایا
کتنے احکامات کو سن کر
سر کو اپنے نہیں جھکایا
رحمت ، برکت اور سعادت
پانے کا کچھ ذریعہ پایا
بچے رخصت کر کے گھر سے
بڑے یہ سمجھے
ہم نے اپنا فرض نبھایا
دنیا میں رہ کر عقبی سنورے
کسی نے یہ بھی ہنر سکھایا؟
ماں کی خدمت فرض تھی جن پر
انہوں نے کتنا اجر کمایا؟
والد سے کیا دعا کو پایا
نہ کہ ان کا دل دکھایا
جنت کا جو ذریعہ ٹھہرے
کتنوں نے اس سال گوایا؟
اب جو عمر ہے باقی یارب
اس میں اتنی رضا و قربت
اس عاصی کے نام یوں لکھ دے
علم، عمل میں ڈھلتا جائے
سچا ہو کردار ہمارا
ماہ وسال کا تانا بانا
سانسوں کا ہے آناجانا
معروف اردو محقق شاعرہ عظمی نورین کی اس خوبصورت نظم میں آنے اور جانے والے ماہ و سال کے حوالے سے سب کچھ جامع طور پر لفظوں میں پرویا ہوا ہے۔ نئے سال میں ہم داخل ہو چکے ہیں اور وقت کی بے مثال تیز رفتاری ایک بار پھر ہمیں اپنی بے ثباتی کا احساس دلا رہی ہے۔ زندگی کی یہ شاہراہ جہاں ہر دن، ہر مہینہ اور ہر سال ایک سنگ میل کی طرح ہمارے پیچھے رہ جاتا ہے، ہمیں نہ رکنے دیتی ہے اور نہ ٹھہرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ وقت کا پہیہ ہر لمحہ گھومتا رہتا ہے اور ہم اپنی امیدوں، خوابوں، اور خواہشوں کے ساتھ اس سفر میں گامزن رہتے ہیں۔ زندگی ایک عجیب حقیقت ہے۔ اس میں خوشیوں کے رنگ بھی ہیں اور دکھوں کی تاریکی بھی۔ کبھی صبح کی نرم دھوپ دل کو سکون دیتی ہے تو کبھی شام کی دھندلی روشنی دل کو اداس کر دیتی ہے۔ مگر یہی زندگی کا حسن ہے۔ دکھ اور سکھ ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔ دھوپ چھائوں کا کھیل ہے دنیا ۔
نئے سال کا آغاز ہمیشہ ایک نئے عزم اور ولولے کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہم پچھلے سال کی یادوں، تجربات، اور ناکامیوں سے سبق سیکھتے ہیں اور آنے والے وقت کو بہتر بنانے کی امید کرتے ہیں۔ یہ وقت خود احتسابی کا بھی ہے کہ ہم دیکھیں کہ کہاں غلطی ہوئی، کہاں کامیابی ملی اور کہاں مزید محنت کی ضرورت ہے۔زندگی میں اونچ نیچ، اتار چڑھا آتے رہتے ہیں۔ یہ قدرتی امر ہے۔ کامیابی اور ناکامی دونوں کا سامنا کرنا زندگی کی حقیقت ہے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ ہم ان تجربات سے کیا سیکھتے ہیں اور انہیں اپنی بہتری کے لیے کیسے استعمال کرتے ہیں۔ گرنے والے کو اڑان کا شوق ہوتا ہے اورخواب دیکھنے والوں کو چوٹ کھانے کا خوف نہیں ہوتا۔
کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا
جیون کا اک اور سنہرا سال گیا
آج ہماری دنیا کو نفرت، تعصب، اور تفرقہ بازی نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ پاکستان میں سیاست میں نفرت کی زبان، مخالفین کے لئے سختی، اور معاشرتی رویوں میں عدم برداشت نے ہمیں ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ یہ سوچنے کا وقت ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ نفرت کے یہ بیج ہمارے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ہمیں سمجھنا ہوگا کہ نفرت کے ذریعے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ یہ محبت ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے، رشتوں کو مضبوط کرتی ہے، اور معاشرے کو خوشحال بناتی ہے۔ہمارا معاشرہ ایک اور بڑی بیماری کا شکار ہے اور وہ ہے شخصیت پرستی۔ ہم انسانوں کو خدا کے درجے پر فائز کر دیتے ہیں، ان کے ہر عمل کو صحیح سمجھتے ہیں اور ان کی غلطیوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ہمارے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ہمارے معاشرے کی ترقی میں بھی رکاوٹ ہے۔شخصیت پرستی ہمیں سچائی سے دور لے جاتی ہے اور ہمیں اندھی تقلید کی طرف دھکیلتی ہے۔ ہمیں اپنی سوچ کو آزاد کرنا ہوگا اور ہر چیز کو مثبت طریقے سے دیکھنا ہوگا۔
نئے سال کا آغاز ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں سکون پیدا کریں۔ یہ سکون صرف پیسہ کمانے یا دنیاوی کامیابیوں سے حاصل نہیں ہوتا۔ یہ دل کی نرمی، دوسروں کی مدد، اور اپنے رب سے تعلق کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ہمیں اپنی زندگیوں میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ کام اور آرام، دنیاوی خواہشات اور روحانی تسکین، دونوں کا ہونا ضروری ہے۔ نیا سال ایک نیا موقع ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو درست کریں، اپنی زندگیوں کو بہتر بنائیں اور دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کریں۔ نفرت، تعصب، اور غصے کو پیچھے چھوڑ کر محبت، امن، اور بھائی چارے کو اپنائیں۔ اپنے دل کو وسیع کریں، دوسروں کے لیے ہمدردی کا رویہ اپنائیں، اور اس ملک بلکہ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کے لیے اپنا اپنا حصہ ڈالیں۔ یہ کا سال آپ کے لیے خوشیوں، کامیابیوں، اور محبتوں سے بھرپور ہو۔
تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی
ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی