وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی پر وائٹ پیپر پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے اعداد و شمار کے ثبوت کے ساتھ صوبے میں کھوکھلی کارکردگی کے پول کھول کر رکھ دئیے ہیں۔ وائٹ پیپر کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کی 11 سالہ کارکردگی بدعنوانی، نااہلی، اور ناقص گورننس کی بدترین مثال ہے۔ صوبے میں عوامی مسائل کے حل پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور پی ٹی آئی کی حکومت نے صرف کرپشن کے فروغ اور عوامی مفادات کو نظراندازی کیا۔خیبر پختونخوا میں 725 ارب روپے کا مجموعی خسارہ اور 152 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ صحت اور تعلیم کے فنڈز کو سیاسی سرگرمیوں پر خرچ کیا گیا، جبکہ فرضی کمپنیوں کے ذریعے اربوں روپے سوشل میڈیا پروپیگنڈے پر ضائع کئے گئے۔ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بھی خراب ہے، اور پولیس اصلاحات اور گڈگورننس کا کہیں نام و نشان نہیں ہے۔ تعلیم کے شعبے میں وزیراعلیٰ نے یونیورسٹیوں کو ایچ ای سی سے نکال کر اپنے ماتحت کر لیا، جس سے تعلیمی معیار گرا اور اساتذہ احتجاج کرنے پر مجبور ہو گئے۔11سال کے دوران خیبرپختونخوا کی حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ عوام سے وعدے کیے گئے کہ مہنگائی کم ہوگی اور روزگار فراہم ہوگا، لیکن نہ مہنگائی کم ہوئی اور نہ ہی روزگار کے مواقع فراہم کئے گئے۔ صوبے میں اربوں روپے کی مشکوک ادائیگیاں اور بے ضابطگیاں ہوئیں، جس سے خیبر پختونخوا کا قرض 75 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو یہ قرض 2030 ء تک 2555 ارب روپے تک جا سکتا ہے۔دیگر صوبوں میں مسلم لیگ(ن)کی قیادت میں مہنگائی اور قیمتوں پر قابو پایا جا رہا ہے، مگر خیبر پختونخوا حکومت نے قیمتیں کنٹرول کرنا تو درکنار پرائس کنٹرول کمیٹیاں بنانے کی تکلیف بھی نہیں کی۔
پنجاب میں مسلم لیگ (ن)، خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف، سندھ اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کو عوام نے مینڈیٹ دیا، اور سیاسی جماعتوں نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کا حل ان کے پاس ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف باتوں سے عوام کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔عطا اللہ تارڑ نے بلیک اینڈ وائٹ میں بتایا کہ خیبر پختونخوا میں تعلیمی شعبے کو تباہ کر دیا گیا، اساتذہ سڑکوں پر ہیں، پولیس اصلاحات کا فقدان ہے اور ریسکیو 1122 کی گاڑیاں سیاسی جلسوں اور دھرنوں کے لئے استعمال ہو رہی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہبازشریف کی حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ سے نکال کر معاشی استحکام کی طرف لایا اور مہنگائی کو 32 فیصد سے کم کر کے 4 فیصد تک لے آئی۔اگر خیبر پختونخوا کی 11سالہ حکومت کا جائزہ لیا جائے، تو عوامی فلاح و بہبود کے بلند و بانگ دعوے اور ترقیاتی منصوبوں کے وعدے صرف کاغذ تک محدود نظر آتے ہیں۔ 2013ء میں پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں حکومت سنبھالی تھی اور تبدیلی اور شفافیت کے نعرے بلند کیے تھے۔ لیکن 11 سال بعد یہ سوال ابھی تک موجود ہے کہ ان وعدوں کی عملی تعبیر کہاں ہے؟تعلیم اور صحت کے شعبے میں خیبر پختونخوا حکومت نے جو وعدے کیے تھے، ان کی تکمیل میں ناکامی رہی۔ سرکاری سکولوں میں سہولتوں کا فقدان اور ہسپتالوں میں عملے کی کمی نے عوام کو نجی اداروں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ صحت کارڈ پروگرام اگرچہ شروع کیا گیا، مگر بیوروکریسی کی نااہلی اور بدعنوانی کی نذر ہو گیا۔پولیس ریفارمز اور امن و امان کی صورتحال بھی سوالیہ نشان ہے۔ خیبر پختونخوا میں پولیس اصلاحات کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جرائم میں کمی نہیں آئی اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ مہنگائی اور روزگار کے مسائل بھی جوں کے توں ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں ان مسائل پر قابو پانے کے لئے عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔اگر خیبر پختونخوا کی کارکردگی کا موازنہ پنجاب، سندھ، اور بلوچستان سے کیا جائے، تو ان صوبوں میں بہتر اقدامات دیکھنے کو ملے ہیں۔
پنجاب میں مسلم لیگ (ن)نے مہنگائی پر قابو پایا، اور سندھ میں پیپلز پارٹی نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کام کیا۔ اس کے برعکس، خیبر پختونخوا حکومت اپنی ناکامیوں کا دفاع کرتی رہی۔پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر بہت سرگرم ہے، مگر حقیقت کی دنیا میں ان کا کوئی ٹھوس وجود نہیں ہے۔ خیبرپختونخوا میں کرم کے علاقے میں پیش آنے والے فرقہ وارانہ واقعے میں سینکڑوں افراد کی جانیں گئیں، مگر اس دن وزیر اعلی علی امین خان گنڈا پور اپنے کرائے کے افغانی دہشت گردوں کے ہمراہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے میں مصروف تھے۔ ایک ماہ گزر چکا ہے، مگر اس سانحے کے بعد حالات جوں کے توں ہیں اور خیبرپختونخوا کی حکومت اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ صوبائی حکومت اپنے بجٹ کا بیشتر حصہ خیبرپختونخوا کے اندر اور دنیا بھر میں موجود سوشل میڈیا ورکرز پر خرچ کرتی ہے، جو بیٹھ کر پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے، من گھڑت تصاویر اور ویڈیوز تیار کرتے ہیں۔ ان کا سارا زور صرف عمران خان کی جیل سے رہائی دلانے اور اسے ہیرو بنا کر پیش کرنے پر ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ ایک جھوٹے، جعلی اور دوغلے کردارکے شخص کو قوم کے سامنے مسیحا بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ وائٹ پیپر خیبرپختونخوا کے عوام کے لئے ایک اہم پیغام ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے فیصلوں میں ہوش مندی سے کام لیں اور اپنی ترجیحات کا گہرائی سے جائزہ لیں۔ انہیں ایسے رہنمائوں کا انتخاب کرنا چاہیے جو صرف بلند و بانگ دعوے کرنے کی بجائے حقیقت میں ان کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ صرف وعدوں پر نہ چلیں، بلکہ ان رہنمائوں کا انتخاب کریں جو عملی طور پر ان کے لیے ترقی، خوشحالی اور انصاف کے راستے کھولیں، تاکہ صوبے کی حقیقی ترقی ممکن ہو سکے۔