Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان : ایک سنگین قومی چیلنج

یہ المیہ ہے کہ جوں جوں پاکستان معاشی و سیاسی ترقی یا استحکام کی جانب بڑھنے لگتا ہے تو ں توں اندرون ملک اور بیرون ملک بیٹھی ملک دشمن قوتیں برسر پیکار ہونا شروع ہو جاتی ہیں، خواہ وہ اندرونی سیاسی خلفشار ہو یا دہشت گردی کہ لہر ہو یہ عناصر ملکی حالات اور امن کو ہر حال میں تباہ کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ پاکستان اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے، وہیں دوسری طرف خیبرپختونخوا (کے پی کے) اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے۔ یہ دونوں علاقے نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے اہم ہیں بلکہ ان کی سلامتی پورے ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ تاہم حالیہ دہشت گردانہ حملوں اور پرتشدد واقعات نے ان علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے اور عوام کی زندگیوں پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان ترقی کے ایک نئے سفر پر گامزن ہے جہاں معیشت میں بہتری اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے زور و شور سے جاری ہیں۔ تاہم بدقسمتی سے ملک دشمن عناصر کو یہ ترقی ہضم نہیں ہو رہی اور وہ پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم ہیں۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور عوام پر حملے اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ دشمن قوتیں پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔یہ بھی واضح ہے کہ ان کارروائیوں کے پیچھے بیرونی عناصر کا ہاتھ ہے جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات، جیسے لوئر کرم میں سرکاری قافلے پر حملہ اور تربت دھماکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن قوتیں ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہیں۔ خیبرپختونخوا ہمیشہ سے دہشت گردی کی زد میں رہا ہے،لیکن حالیہ دنوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ لوئر کرم کے علاقے بگان میں سرکاری گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں۔ اس حملے میں ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود سمیت کئی افراد زخمی ہوئے جس سے ریاستی عملداری پر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے کی سخت مذمت کی اور دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن دہشت گردوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
ادھر بلوچستان میں بھی حالات خطرناک حد تک خراب ہو چکے ہیں۔ تربت میں بس میں ہونے والے دھماکے نے صوبے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس دھماکے میں4افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ دھماکے میں ایس ایس پی سیریس کرائم ونگ ذوہیب محسن اور ان کے خاندان کے 6 افراد بھی زخمی ہوئے ہیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گرد کسی کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کر رہے۔پولیس کے مطابق یہ دھماکہ ایک منصوبہ بند کارروائی تھی۔خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کے اثرات پورے ملک پر پڑ رہے ہیں۔ یہ حملے نہ صرف عوام کے تحفظ کے لیے خطرہ ہیں بلکہ معیشت اور سماجی ڈھانچے پر بھی منفی اثر ڈال رہے ہیں۔دہشت گردی کے یہ واقعات عوام میں خوف و ہراس پیدا کر رہے ہیں۔ لوگ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، اور روزمرہ کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ کاروبار، تعلیم، اور صحت کے شعبے ان حالات سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔پاکستان کی معیشت اس وقت بحالی کے مراحل میں ہے، لیکن خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال اس ترقی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار ایسے حالات میں سرمایہ کاری کرنے سے گریز کرتے ہیں، جبکہ مقامی سرمایہ کار بھی محتاط ہو جاتے ہیں۔دہشت گردوں کے بڑھتے ہوئے حملے ریاستی عملداری پر سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک ابھی بھی فعال ہیں اور ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ حکومت اور سیکورٹی فورسز ان حملوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی کے اقدامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے آپریشنز جاری ہیں۔حکومت نے مقامی آبادی کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں تاکہ عوام دہشت گردوں کے خلاف کھڑے ہو سکیں۔ اس کے لیے تعلیم، صحت، اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ان دونوں صوبوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اس حکمت عملی میں درج ذیل اقدامات شامل ہونے چاہئیں۔ حکومت کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے ذرائع کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ سمگلنگ، غیر قانونی تجارت، اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والے فنڈز کو بند کرنا ضروری ہے۔عوام کو دہشت گردوں کے نیٹ ورک سے دور رکھنے کے لیے سماجی ترقی کے منصوبے شروع کیے جائیں۔ ان منصوبوں میں تعلیم، صحت، اور روزگار کے مواقع شامل ہوں تاکہ عوام کی زندگی بہتر ہوسکے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری سے تعاون لینا ہوگا۔ اس کے لیے سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنا اور بین الاقوامی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال ایک سنگین قومی چیلنج ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردوں کے بڑھتے ہوئے حملے عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور ملکی ترقی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔یہ وقت ہے کہ حکومت، سیکیورٹی فورسز، اور عوام متحد ہو کر ان چیلنجز کا سامنا کریں اور پاکستان کو ایک پرامن اور خوشحال ملک بنانے کے لیے مل کر کام کریں۔ ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن قائم کیا جائے تاکہ یہ علاقے بھی ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور حصہ ڈال سکیں۔

یہ بھی پڑھیں