پاکستان میں سول بیوروکریسی کی کرپشن ایک سنگین مسئلہ ہے جو نہ صرف حکومتی اداروں کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کے سرکاری اداروں میں کرپشن اس حد تک پھیل چکی ہے کہ عوام کو اپنے حقوق کے حصول کے لئے کئی گنا زیادہ محنت اور جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ یہ کرپشن بیوروکریسی کے تمام شعبوں میں نمایاں طور پر نظر آتی ہےاوراس کے اثرات ملک کےمختلف حصوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ سول بیورو کریسی وہ طاقتور ادارہ ہے جو حکومت کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن جب یہ خود اپنے مفادات کی خاطر غیر قانونی راستوں پر چل پڑتی ہے تو پھر ملک کا مستقبل دائوپر لگ جاتا ہے۔پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سول بیوروکریسی کی کرپشن ہے۔ یہ بیوروکریسی نہ صرف سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کرتی ہے بلکہ اپنے عہدوں کا فائدہ اٹھا کر مختلف مفادات حاصل کرتی ہے۔ یہ افراد نہ صرف عوام کے پیسوں کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں بلکہ حکومت کے منصوبوں کو کامیابی سے مکمل کرنے میں بھی اکثر رکاوٹ بنتے ہیں۔ بیوروکریسی کے اس کرپٹ نظام نے عوام کے حقوق کو پامال کر دیا ہے ۔ عام شہری جب بیورو کریٹ بن کر خاص ہو جاتے ہیں تو اس نظام کا حصہ بن کر کرپشن کے سمندر میں خوب غوطے لگاتے ہیں۔
پاکستان کے عام شہری جب بیوروکریسی میں داخل ہوتےہیں تو ان کی ابتدائی ذمہ داری ملک کی خدمت کرنا اور ترقی کے عمل میں حصہ ڈالنا ہوتاہے،لیکن جیسے ہی وہ طاقت کا حصہ بنتے ہیں تو اکثریت آپے سے باہر ہوجاتی ہے۔ وہ سرکاری وسائل کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرتےہیں اورکئی بار بیرون ملک ویزےحاصل کرنے کے لئے اپنی نوکری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ افراد اپنی نوکری کے دوران ہی بیرون ملک شہریت حاصل کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اپنے وطن سے کیےگئے عہدکو توڑ دیتے ہیں۔حال ہی میں ایک سنگین انکشاف ہوا ہےجس نے عوام کو ہلا کر رکھ دیا۔ پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی، عبدالقادر پٹیل کے مطابق پاکستان میں 22 ہزار بیوروکریٹس دوہری شہریت کے حامل ہیں، اور ان میں سے 99 فیصد وفاقی سیکرٹریز بھی شامل ہیں۔ یہ ایک ایسا انکشاف ہے جو ملک کے عوام کے لئے ایک جھٹکے سے کم نہیں ہے۔ یہ افراد پاکستان کی شہریت کو ترک نہیں کرتے بلکہ دونوں ممالک کی شہریت رکھتے ہیں اور دونوں حکومتوں کو بیوقوف بناتے ہیں کیونکہ نہ ادھر مخلص اورنہ ہی ادھر۔ یہ لوگ اپنے بنیادی حلف کی خلاف ورزی کرتے ہیں جو انہوں نے پاکستان کی خدمت کرنے کے لئے لیاتھا۔ ان بیوروکریٹس کی دوہری شہریت کا مسئلہ اس قدر سنگین ہے کہ اس نے ملک کی سالمیت اور اس کے مفادات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔اس انکشاف کے بعد یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ جب بیوروکریٹس خود دوہری شہریت رکھتے ہیں تو پھر وہ اپنے ملک کےمفادات پرکیا کچھ نہیں کرتے ہوں گے؟ یہ افراد نہ صرف اپنی ذاتی مفادات کے لئےملک کی پالیسیوں کو متاثر کرتے ہیں بلکہ اس سے پاکستان کے راز بھی دوسرے ممالک تک پہنچنےکاخدشہ پیداہوجاتا ہے۔ بیوروکریٹس کے پاس تمام سرکاری فائلیں، معلومات اور راز ہوتے ہیں اور ان کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ ان معلومات کو دوسرے ممالک تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ صرف ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ اس کے بین الاقوامی تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔پاکستان میں اکثر کہاجاتا ہے کہ سیاستدانوں کو دوہری شہریت نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ وہ ملکی راز افشا کر سکتے ہیں، لیکن سوال یہ ہےکہ بیوروکریٹس کے پاس تمام راز اور اہم معلومات ہوتے ہوئے ان کے لئے دوہری شہریت کی اجازت کیسےدی جاسکتی ہے؟ سیاستدانوں کا تو کوئی راز نہیں ہوتا کیونکہ ان کی بیشتر سرگرمیاں عوام کے سامنے ہوتی ہیں، لیکن بیوروکریٹس کے پاس اہم فائلیں اورفیصلہ سازی کی معلومات ہوتی ہیں، اور اگر ان کی وفاداری دوہری شہریت رکھنے والے دوسرے ملک کے ساتھ ہو تو پھر یہ ملکی مفادات کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی میں یہ لوگ اپنے مفادات کے لئےسیاسی تعلقات بھی استوار کر لیتے ہیں جو ان کے فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں۔کیا ان افراد کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے دوسرے ملک کے مفادات کو ترجیح دیں؟
کیا ایک بیوروکریٹ جو پاکستان میں کام کررہا ہے اس کاغیرملکی مفادات سے تعلق جتنا مضبوط ہو گااتنی زیادہ قوم کی خدمت میں مشکلات نہیں آئیں گی؟ ان سوالات کا جواب یہی ہےکہ بیوروکریٹس کے لئے دوہری شہریت کی اجازت ملک کے مفادات کےخلاف ہے اور اس مسئلے کو جلدازجلد حل کیاجاناچاہیے۔وزیر اعظم شہبازشریف جو ملکی مفاد کےحوالے سے کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی مثال سمجھے جاتےہیں ، ان کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا چاہئیے اور بیوروکریٹس کے لئے دوہری شہریت کے معاملے میں سخت قوانین بنانے کا حکم دینا چاہیے،انہیں چاہیےکہ دفتر خارجہ کےحکام کو بلا کر اس مسئلے پرتفصیلی بریفنگ لیں اور اس بات کو یقینی بنایاجائےکہ بیوروکریٹس کے لئےدوہری شہریت حاصل کرنے پر پابندی ہو ۔ اس قانون سازی کےذریعےملک کی بیوروکریسی کوزیادہ شفاف اورذمہ داربنایاجاسکتا ہے۔ پاکستان میں دوہری شہریت کے معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اس پر مزید تحقیق اور بحث ضروری ہے کیونکہ اگر ہم اس مسئلے کو نظرانداز کرتے ہیں تو ہم پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے والوں کے لئے راستہ کھول دیں گے۔ ان بیوروکریٹس کو اپنے ملک کے مفادات کی قربانی دےکر دوسرے ملک کے مفادات کو اہمیت دینے کااختیار نہیں دیا جا سکتا۔ اس سے نہ صرف بیوروکریسی کی کارکردگی متاثر ہو گی بلکہ پورے ملک کی خود مختاری اور سالمیت بھی خطرے میں پڑجائے گی۔ اگر کسی فرد کی دوہری شہریت ہے اور وہ اپنے دوسرے ملک کے مفادات کے حق میں کام کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ وزیراعظم شہباز شریف جو انتظامی امور میں میرٹ اور شفافیت کی سختی کے حوالے مشہور ہیں ، انکی حکومت کو ایسے افراد کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو اپنے ملک کے مفادات کے خلاف سرگرم ہوں۔ اگر وزیراعظم بیوروکریٹس کے لئے دوہری شہریت کا مسئلہ واضح کرنےاورسخت قانون سازی کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ملکی مفاد کی حقیقی خدمت تصور ہو گی اور پاکستان کا مستقبل روشن کرنے والوں میں انکا نام سنہری حروف میں لکھاجائے گا۔