Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

Rana ! Pai Ja, O

لیں جی، سال 2025 ء کا سب سے بڑا لطیفہ مارکیٹ میں آ گیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ دنیا کی سپر پاور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے یمن سے متعلق جنگی حکم نامہ غلطی سے امریکی جریدے کے سینئر صحافی کو بھیج دیا گیا۔ ہا ہا ہا! یہ انکشاف کیا ہے جیفری گولڈبرگ نے جو اٹلانٹک میگزین کے ایڈیٹر ان چیف ہیں۔جیفری گولڈبرگ کا کہنا ہے کہ دنیا کو تو 15 مارچ کو امریکی بمباری کے بارے میں معلوم ہوا مگر انہیں یہ اطلاع انہیں ہی حملے سے کئی گھنٹے پہلے ہی مل گئی تھی۔ لیکن یہ سچائی جو صحافی نے بیان کی وہ کچھ زیادہ ہی غیر معمولی ہے۔امریکی آئین کے تحت، صدر کو ’’کمانڈ اینڈ کنٹرول‘‘ کے تحت ملک کی فوج کو حکم دینے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔ امریکی آئین کے تحت صدر کو امریکی فوج کا کمانڈر ان چیف سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صدر کسی بھی بیرونی ملک پر حملے کے احکامات دینے کے مجاز ہیں۔وزیر دفاع ایک اہم مشاورتی کردار ادا کرتے ہیں اور فوجی حکمت عملی تیار کرتے ہیں مگر فیصلے کا اختیار صدر کے پاس ہوتا ہے۔کونسل آف نیشنل سیکورٹی یہ ادارہ صدر کی مشاورتی ٹیم کی حیثیت رکھتا ہے اور اس میں اعلیٰ حکومتی اور فوجی عہدیدار شامل ہیں جو فوجی کارروائیوں کے حوالے سے مشاورت فراہم کرتے ہیں۔
جیفری گولڈبرگ نے اپنی کہانی میں انکشاف کیا کہ انہیں 11 مارچ کو سگنل ایپلیکیشن پر ایک درخواست ملی تھی جس میں مائیکل والز کی جانب سے کنکشن کی درخواست آئی۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ مائیکل والز ٹرمپ کے قومی سلامتی مشیر ہیں مگر انہیں یقین نہیں آیا کہ یہ حقیقت میں وہی شخص ہوگا کیونکہ ٹرمپ کے ساتھ ان کے تعلقات ماضی میں کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہے تھے۔اس کے بعد ایک نیا پیغام آیا جس میں انہیں ایک گروپ میں شامل کرنے کی بات کی گئی۔ اس گروپ کو حوثی پی سی اسمال گروپ کہا گیا تھا اور اس کا مقصد یمن میں حوثیوں سے متعلق رابطہ رکھنا تھا۔ یہ تمام تفصیلات ایک کمرشل میسیجنگ ایپ پر شیئر کی جا رہی تھیں جو کہ جیفری گولڈبرگ کے لیے ایک انتہائی غیر معمولی بات تھی۔یمن پر حملے کے لیے آپریشنل تفصیلات اور اہداف حملے کا وقت اور ہتھیاروں کی نوعیت بھی اس گروپ میں شیئر کی گئی تھیں۔ یہ ایک اہم انکشاف تھا کیونکہ جنگی منصوبے کبھی بھی اس طرح عوامی سطح پر نہیں لائے جاتے۔ اور خصوصی طور پر آج کے دور کی ڈیجیٹل ڈیوائسز پر تو ایسے جنگی حکم نامے دنیا کی کوئی بھی آرمی کبھی شئیر نہیں کرتی۔ یہ منصوبے انتہائی خفیہ طریقے سے تیار کیے جاتے ہیں اور ان کے بارے میں معلومات انتہائی محدود ہوتی ہیں۔
جیفری گولڈبرگ کے مطابق پیغام میں یمن پر امریکی حملے کے اہداف کی تفصیلات شامل تھیں اور ان میں 53 افراد کی ہلاکت کا بھی ذکر تھا۔ اس کے بعد صحافی نے کہا کہ وہ اس گروپ سے نکل گئے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ یہ واقعہ حقیقت میں ہو چکا ہے۔یہ بات کہ ایک اتنے حساس معاملے کو ایک تجارتی میسجنگ ایپ پر شیئر کیا گیا، اس نے عالمی سطح پر یہ سوال اٹھایا کہ آیا امریکہ کی فوجی حکمت عملی میں کوئی خاص بے احتیاطی تو نہیں کی گئی؟ لیکن یہاں یہ سب کچھ نہ صرف عوامی سطح پر آیا بلکہ ایک صحافی تک پہنچ گیا۔جیفری گولڈبرگ کے مطابق اس واقعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے جنگی منصوبوں کی تیاری میں اتنی بے احتیاطی برتی گئی کہ ان کی اہم تفصیلات ایک غیر متعلقہ شخص تک پہنچ گئیں۔ یہ خود ایک چیلنجنگ سوال بن گیا ہے کہ امریکی حکومت اور اس کی مشینری اس طرح کی معلومات کے افشا ہونے کے بعد عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو کیسے بحال کرے گی۔
اگر پاکستان کی بات کی جائے تو اس کے جنگی حکم نامے کی مثال دنیا بھر میں مشہور ہیے اور یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جنگ کے احکامات ہمیشہ انتہائی رازداری میں دیے جاتے ہیں اور ان کی تفصیلات انتہائی کم افراد تک پہنچتی ہیں۔ 1965 کی جنگ میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل محمد موسی خان نے جو آپریشنل آرڈر دیا وہ تاریخ کا ایک مختصر ترین حکم تھا۔ اس حکم کو Rana ! Pai Ja, O ’’رانا، جا کے ان کو مارو! ‘‘لکھا گیا تھا۔ یہ ایک انتہائی مختصر اور صاف حکم تھا جس کا مفہوم تھا کہ فورا حملہ کرو۔ یہ حکم انگریزی میں نہیں بلکہ رومن میں لکھا گیا تھا جو جنگی احکام کی سادگی اور فوری عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اور اسے ٹیلی گرام کے ذریعے ٹائپنگ پیغام کی شکل میں راولپنڈی سے لاہور بھیجا گیا تھا۔ یہ طریقہ کار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ کے دوران آپریشنز کی نوعیت کتنی حساس ہوتی ہے اور ان کے بارے میں کسی بھی قسم کی افشا ہونے والی معلومات دشمن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔یمن پر امریکی حملے کے بعد کے اثرات بھی کافی سنگین رہے۔ امریکی بمباری میں 53 افراد کی ہلاکت کے بعد عالمی سطح پر اس معاملے کی مذمت کی گئی اور سوالات اٹھائے گئے کہ آیا امریکی انتظامیہ کے فیصلے جنگ کے اخلاقی پہلو سے ہم آہنگ تھے یا نہیں۔ اسی دوران صحافی جیفری گولڈبرگ نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ وہ ’’سپر مارکیٹ کی پارکنگ لاٹ میں بیٹھ کر‘‘ اس بات کا جائزہ لے رہے تھے کہ یہ کیا حقیقت پر مبنی معاملہ تھا۔
امریکہ کے جنگی منصوبوں کی تفصیلات کا غیر ارادی طور پر ایک صحافی تک پہنچنا عالمی سطح پر کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ کیا یہ محض ایک حادثہ تھا یا امریکی انتظامیہ کی طرف سے ایک دانستہ حکمت عملی تھی؟ یہ واقعہ نہ صرف امریکی سیاست اور فوجی حکمت عملی کے حوالے سے سوالات کھڑے کرتا ہے بلکہ دنیا بھر میں فوجی منصوبوں کی راز داری پر بھی ایک نیا تنقیدی نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ جنگوں کے منصوبے کبھی بھی عام عوام کے لیے نہیں ہوتے اور ان کا افشا انتہائی سنجیدہ نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اور یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ دنیا میں کوئی بھی ملک چاہے وہ کتنا بھی طاقتور ہو اپنے جنگی منصوبے کو اتنی آسانی سے شیئر نہیں کرتا۔
امریکی صحافی جیفری گولڈبرگ کا انکشاف نہ صرف ایک سنسنی خیز کہانی ہے بلکہ یہ واقعہ دو اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض ایک انتظامی غلطی تھی یا پھر امریکی حکومت نے جان بوجھ کر یہ معلومات لیک کیں؟ دوسرا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا دنیا بھر میں جنگی منصوبوں کی رازداری اب خطرے میں ہے؟ اگر یہ واقعہ لاپروائی کا نتیجہ ہے تو یہ امریکی فوجی نظام کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اور اگر یہ ایک منصوبہ تھا تو پھر اس کا مقصد کیا تھا؟ حقیقت جو بھی ہووقت کے ساتھ سامنے آ ہی جائے گی مگر یہ معاملہ امریکی فوجی نظام پر ایک سوالیہ نشان ضرور ہے۔

یہ بھی پڑھیں