یہ وہ موضوع ہے جس پر قلم اٹھانا اللہ تعالیٰ کی خاص توفیق اور دل و روح کے نور سے ہی ممکن ہے، محض سطحی علم اور عقل سے نہیں۔ تقدیر، جبر اور اختیار کے مسئلے پر صحابہ، تابعین، اولیاء اور حکماء نے ہمیشہ غور کیا، مگر ہر بار اس کا جواب دل کی روشنی اور روح کی بصیرت سے ہی جڑا رہا۔
انسان کہاں کھڑا ہے؟انسان ایک ایسا راز ہے جو ازل و ابد کے درمیان کھڑا ہے۔ وہ فانی ہے مگر ابدی حقیقت کا حامل ہے۔
کیا وہ مجبور ہے یا مختار؟ کیا اس کے اعمال پہلے سے لکھے جا چکے ہیں یا وہ خود اپنی تقدیر کا ذمہ دار ہے؟یہ سوال ہر انسان کے شعور میں ابھرتا ہے۔
قرآنی آیات:’’تیرے رب کا فیصلہ یہ ہے کہ تم صرف اسی کی عبادت کرو‘‘ (بنی اسرائیل 17:23)
ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے (تقدیر) سے پیدا کیا(القمر 54:49)
’تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے‘‘(الانسان 76:30)
’’جو چاہے ایمان لائے، اور جو چاہے کفر کرے‘‘ (الکہف 18:29)
یہ آیات ہمیں توازن سکھاتی ہیں: انسان کو اختیار حاصل ہے، مگر وہ اللہ کی مشیت کے دائرے میں ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ:- ایمان کی تعریف: ’’تقدیر کے خیر و شر پر ایمان لانا‘‘(صحیح مسلم)
’’عمل کرتے رہو، ہر انسان کو اسی کے لیے آسانی دی گئی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا‘‘ (صحیح بخاری)
اہل سنت کا عقیدہ:- اللہ ہر چیز کا خالق ہے، مگر انسان کو عقل و اختیار دیا گیا ہے۔ جزا و سزا اسی اختیار پر مبنی ہے۔
اہل عرفان کا فہم:- ابو طالب مکی: ’’اللہ کا علم مشاہدہ ہے، مداخلت نہیں‘‘۔
بایزید بسطامی: ’’میں نے اپنی مشیت فنا کی، تب اس کی مشیئت میں جینا سیکھا‘‘
ابن عربی: ’’انسان عبد ہے؛ اس کے پاس نہ مکمل جبر ہے نہ مکمل اختیار‘‘۔
مولانا رومی: ’’تو کیا جانے تقدیر کہاں سے آئی؟ تیرے دل کا خیال بھی ایک راز ہے۔‘‘
عبدالقادر جیلانی: ’’عمل کر، اگر اختیار نہ ہوتا تو حساب نہ لیا جاتا‘‘۔
دعا، استغفار اور صدقہ کا اثر:- قرآن: ’’اللہ انہیں عذاب نہ دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں‘‘ (الانفال 8:33 )
سورہ نوح: استغفار سے بارش، مال، اور اولاد میں اضافہ۔
حدیث: ’’تقدیر کو صرف دعا ہی بدل سکتی ہے‘‘ (ترمذی)
خفیہ صدقہ رب کے غضب کو بجھا دیتا ہے(سیوطی)
روحانی خلاصہ:- تقدیر نہ مکمل قید ہے، نہ مکمل آزادی۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جس میں انسان اپنی خودی کو فنا کرکے رب کی رضا میں جیتا ہے-1 تقدیر پر ایمان فرض ہے-2 انسان کو اختیار دیا گیا ہے مگر اللہ کی مشیئت کے تحت-3دعا، صدقہ، اور استغفار سے تقدیر میں نرمی آ سکتی ہے-4 اہل سنت کا عقیدہ توازن پر مبنی ہے: نہ مکمل جبر، نہ مکمل اختیار’’اللہ کا علم کامل ہے، ہمارا اختیار محدود مگر حقیقی ہے، اور جزا و سزا عدل پر ہے‘‘۔