Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

گوادر سے چا بہار اور کاشغر تک

یوں تو ہر سرکاری دورہ محض تصویریں نہیں ہوتا۔ کچھ دورے تاریخ کے ماتھے پر نقش ہو جاتے ہیں۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا حالیہ دورہ پاکستان بھی انہی میں سے ایک ہے۔ بظاہر رسمی الفاظ، مشترکہ بیانات، معاہدوں کی فہرست اور تصویری مسکراہٹیں لیکن اصل کہانی ان جملوں کے پیچھے ہے۔ اگر کوئی بین السطور پڑھنا جانتا ہو تو اسے اندازہ ہو گا کہ تہران سے اسلام آباد آنے والے مہمان نے خطے کی سیاست میں ایک نیا باب کھول دیا ہے۔ڈاکٹر مسعود کے مطابق کہ ایران پاکستان کے ساتھ اقتصادی و تجارتی روابط کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے۔ ان کا ہدف دس ارب ڈالر سالانہ تجارت ہے۔ یہ معمولی بات نہیں۔ برسوں کی سرد مہری، غیر یقینی تعلقات اور مغربی دبائو کے باوجود ایران کا پاکستان کی طرف ہاتھ بڑھانا بتاتا ہے کہ دنیا بدل چکی ہے۔ایران اب چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں فعال شرکت کا خواہاں ہے۔ اس منصوبے میں شمولیت ایران کو یورپ، وسطی ایشیا اور مشرقی بلاک سے جوڑ دے گی۔ چین پہلے ہی پاکستان میں سی پیک کے ذریعے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ اب اگر ایران بھی اس شاہراہ ترقی پر سوار ہو جائے تو یہ گوادرچابہارکاشغر مثلث دنیا کی اہم ترین اقتصادی گزرگاہ بن سکتی ہے۔صدر مسعود نے کے مطابق پاک ایران اسلامی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔ یہ محض سفارتی جملہ نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے ان قوتوں کے لئے جو پاکستان اور ایران کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی سازشیں کرتی رہی ہیں۔ یہ قوتیں جانتی ہیں کہ اگر اسلام آباد اور تہران ایک صف میں آ کھڑے ہوئے تو خطے میں مغربی بالادستی کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔پاکستان کے لئے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی پرانی روش سے ہٹ کر نئی راہ اختیار کرے۔
ایران کے ساتھ ماضی میں کئی مواقع گنوائے گئے۔ چاہے گیس پائپ لائن منصوبہ ہو، چاہ بہار اور گوادر کا تعاون، یا سرحدی تجارت ہم نے اکثر مغربی دبا ئومیں آ کر اپنے قومی مفاد کو پیچھے رکھا۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو اقتصادی، تزویراتی اور نظریاتی بنیادوں پر استوار کریں۔یہ بات بھی اہم ہے کہ ایران اور چین کے بعد اب کئی عرب ممالک بھی پاکستان کے ساتھ ایک پیج پر آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے آئندہ مہینوں میں پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی خبریں آ رہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور قطر بھی اسی صف میں شامل ہیں۔ ان ممالک کی اقتصادی دلچسپی کو محض کاروباری موقع نہ سمجھا جائے بلکہ یہ ایک بڑی عالمی صف بندی کی طرف اشارہ ہے۔پاکستان کے گرد نیا حلقہ اتحاد بن رہا ہے۔ ایک طرف چین، ایران، ترکی اور روس تو دوسری طرف عرب دنیا کے کچھ ممالک اور آذر بائیجان اور ازبکستان سمیت دیگر وسطیٰ ایشیائی ریاستیں۔ اگر ہم اس دائرے میں خود کو موثر کردار کے طور پر شامل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہم نہ صرف اقتصادی طور پر مستحکم ہو سکتے ہیں بلکہ عالمی سیاست میں بھی باوقار مقام حاصل کر سکتے ہیں۔مگر اس خواب کے درمیان رکاوٹیں بھی ہیں۔ بھارت، اسرائیل اور بعض مغربی ممالک کسی بھی صورت اسلامی اتحاد یا مشرقی بلاک کی طاقت میں اضافے کو برداشت نہیں کریں گے۔ بلوچستان میں تخریب کاری، سرحدی کشیدگی، مذہبی منافرت یہ سب وہ ہتھیار ہیں جو ہمارے خلاف برسوں سے آزمائے جا رہے ہیں۔ایران کے ساتھ تجارتی راہداری کا خواب دیکھنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت نے ایران کی چابہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری صرف اس لئے کی تھی کہ وہ پاکستان کو بائی پاس کر کے وسطیٰ ایشیاء تک رسائی حاصل کرے۔ لیکن اب ایران کا جھکائو چین اور پاکستان کی طرف بڑھ رہا ہے جس سے بھارت کو شدید سفارتی دھچکا پہنچا ہے۔یہی وہ موقع ہے جب پاکستان کو ثابت قدم رہنا ہو گا۔ ہمیں امریکی دھمکیوں، آئی ایم ایف کی شرائط اور مغربی پریشر سے نکل کر اپنے قومی مفاد کو ترجیح دینی ہو گی۔
گیس پائپ لائن منصوبہ، بارڈر مارکیٹس، مشترکہ صنعتی زونز یہ سب محض فائلوں میں نہیں رہنے چاہئیں بلکہ عملی میدان میں اترنا ہو گا۔اگر ہم ایران، چین، سعودی عرب، ترکی اور وسطیٰ ایشیاء کے ساتھ ایک مربوط حکمت عملی تیار کریں تو پاکستان خطے کا اقتصادی مرکز بن سکتا ہے۔ ہمارے پاس محل وقوع کی دولت ہے، نظریاتی اثاثہ ہے، افرادی قوت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کی سفارتی کاوشوں کا اعتراف بھی کریں۔ جس سفارتی محاذ پر کبھی پاکستان محض دفاعی بیانات تک محدود تھا، آج وہاں موثر حکمتِ عملی، مسلسل رابطے اور بین الاقوامی اعتماد کے آثار نظر آتے ہیں۔ عالمی اداروں میں پاکستان کی آواز سنی جا رہی ہے اور بڑی طاقتیں ہماری رائے کو اہمیت دے رہی ہیں۔ ان سب کے پیچھے وہ خاموش مگر مسلسل سفارتی جدوجہد ہے جو کبھی ویانا، کبھی نیویارک اور کبھی تہران کی راہداریوں میں پاکستان کے وقار کا پرچم بلند کرتی رہی۔پھر وہ تاریخی لمحہ بھی آیا جب دو ہزار پچیس کی جنگ میں پاکستان نے دنیا پر واضح کر دیا کہ یہ ملک نہ صرف ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے بلکہ دشمن کے ہر وار کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ہمیں دبایا جا سکتا ہے، نہ جھکایا جا سکتا ہے، نہ خریدا جا سکتا ہے۔ ایران کی اسرائیل سے جنگ کے دوران بھی پاکستان نے جس جرات مندی سے ایرانی بھائیوں کا ساتھ دیا وہ محض ایک ریاستی فیصلہ نہیں تھا بلکہ امت کے درد میں ڈوبی ایک غیرت مند قوم کی گواہی تھی۔ آج ایران نہ صرف اس حمایت کا معترف ہے بلکہ اسے بھی ادراک ہو گیا ہے کہ ہمسایہ صرف جغرافیائی اصطلاح نہیں یہ رشتہ غیرت، یگانگت اور اخوت کا نام ہے۔چینی قیادت کی باتیں غور سے سنیں تو وہ بار بار مشترکہ تقدیر کی بات کرتی ہے۔ یعنی دنیا کو ایک ایسا نظام درکار ہے جو استحصال کی جگہ شراکت، لوٹ مار کی جگہ تعاون اور غلامی کی جگہ خودمختاری دے۔ ایران، چین اور پاکستان اگر اس فلسفے پر کاربند رہیں تو تاریخ کے دھارے کو موڑا جا سکتا ہے۔اور کیا ہی دل نشین منظر ہو گا کہ جب گوادر سے نکلنے والے قافلے چابہار سے ہوتے ہوئے کاشغر پہنچیں اور وہاں سے یورپ، افریقہ اور وسطیٰ ایشیاء تک ایک نئی دنیا کی خوشبو پھیلائیں۔ یہ صرف خواب نہیں یہ ممکن ہے اگر ہم خواب دیکھنے سے پہلے جاگ جائیں۔ علامہ اقبالؒ کی زبان
میںنہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!

یہ بھی پڑھیں