Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

سرکاری ڈالا کلچر اور دھول میں لپٹے تاجدار

رفیقِ محفل نے رسوا کر دیا۔ یعنی جسے قوم نے خدمت کا مینڈیٹ دیا وہی تخت پر بیٹھ کر تماشہ بن گیا۔جب بندہ چھوٹا ہو اور کرسی بڑی تو ایسی ہی توازن بگڑتی دنیا سامنے آتی ہے جہاں ڈالا کلچر محض سماجی رویہ نہیں ایک بیماری بن چکا ہے۔ جرم کو روکنے نکلنے والے خود نظام کا جرم بن چکے ہیں۔پاکستان کی پولیس اور بیوروکریسی میں اگر کبھی اصلاح کی کوئی کرن پھوٹی تو وہ تھی حالیہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ فورس کی تشکیل۔ ارادہ اچھا تھا نیت نیک سمجھی گئی۔ بتایا گیا کہ اس نئی فورس کے قیام سے ڈالا کلچر، گارڈز اور عوام کو خوف زدہ کرنے والا ماحول ختم ہو جائے گا۔ کہا گیا کہ عوام کو انصاف ان کے دروازے پر ملے گا اور بدعنوان عناصر کی گردن میں قانون کا طوق ڈال دیا جائے گا۔لیکن اے سادہ لوحو!
یہ وطن ہے جہاں نیتیں بدلتے دیر نہیں لگتی۔جہاں کام کرنے والا خادم خود کو بادشاہ سمجھنے لگتا ہے۔جہاں کرسی پر بیٹھتے ہی بندہ خود کو قوم سے الگ، ممتاز اور نایاب تصور کرتا ہے۔سی سی ڈی کی تشکیل کے بعد جیسے ہی اس کی کارروائیاں زور پکڑنے لگیں تو ساتھ ہی ایک اور بھیانک کلچر نے جنم لیا۔ وہ کلچر جسے میں’’سرکاری ڈالا کلچر‘‘کہتا ہوں۔ ایک ایسا رجحان جو نہ صرف افسوس ناک ہے بلکہ شرمناک بھی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وہ ویڈیوز کسی دشمن نے نہیں بنائیں بلکہ خود ان سرکاری افسران کے میڈیا سیلز نے بنوائیں، ایڈیٹ کیں، میوزک لگایا اور پھر فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر دھڑادھڑ پوسٹ کر دیں۔ جیسے کوئی حسن کارکردگی کا تمغہ مانگ رہے ہوں۔ابھی حال ہی میں ایک خاتون اسسٹنٹ کمشنر کی ویڈیو منظر عام پر آئی۔ صاحبہ دفتر سے نکلیں ایک پرشکوہ ڈالے کے پاس آئیں اور ٹھٹھک گئیں۔ کیونکہ دروازہ خود سے کھولنا شاید سرکاری ضابطہ اخلاق کے خلاف تھا۔ چند لمحوں بعد ایک جوان پولیس والا لپک کر آیا دروازہ کھولا اور اے سی صاحبہ تخت پر بیٹھ گئیں۔ جیسے کوئی مغلیہ شہزادی اپنی پالکی میں سوار ہو رہی ہو۔اس ویڈیو پر تبصرے جتنے سخت تھے، اتنے ہی درست بھی۔ایک صاحب نے لکھا کہ یہ قوم کے خادم ہیں یا ہمارے آقا؟ اگر نوکری کا اتنا غرور ہے تو چھوڑ دیں عوام کی نوکری… جائیں کسی فلم میں کام کریں۔بات صرف اس ایک افسر یا اس ایک ویڈیو تک محدود نہیں۔ یہ رویہ ایک وبا کی طرح پورے بیوروکریسی کے نظام میں سرایت کر چکا ہے۔ صوبائی دارالحکومتوں سے لے کر وفاق تک ہر افسر کو یہ زعم لاحق ہو چکا ہے کہ عوام ان کے لیے بنی ہے نہ کہ وہ عوام کے لئے۔اس معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں نوکر کو مالک سمجھا جاتا ہے اور مالک کو نوکری پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ عوام سے تنخواہیں لینے والے افسران جو دراصل اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتے تھے وہی اب قومی نظام کی سب سے بڑی کمزوری بن چکے ہیں۔بیوروکریسی میں اس وقت ’’شو آف پاور‘‘ کا نیا فیشن چل رہا ہے۔ کہیں سے کوئی نوجوان اے ایس پی بھرتی ہوا ہے تو وہ اپنے ’’پہلے دن‘‘کی ویڈیو یوٹیوب پر ڈال رہا ہے۔ کہیں خاتون اسسٹنٹ کمشنر نئی نئی تعینات ہوئی ہیں تو وہ اپنے فالوورز کو ’’انسٹا گائیڈ‘‘دے رہی ہے کہ افسر بننے کے بعد کیسا انداز اپنانا ہے۔ پرفیوم کون سا لگانا ہے، دھوپ میں کیسا چشمہ پہننا ہے اور دفتر میں کس طرح ہاتھ نہ ملایا جائے کہ عوام کی پسینہ زدہ ہتھیلی کہیں آپ کی نرم انگلیوں کو چھو نہ لے۔یہ سب کچھ صرف افسوسناک نہیں بلکہ خطرناک بھی ہے۔سوال یہ ہے کہ اس معاشرتی مرض کی جڑ کہاں ہے؟ تو جواب سیدھا سادہ ہے ۔
غلامانہ نظام ہم آج بھی 1935ء کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے سائے تلے پل رہے ہیں۔ برطانوی راج کے بنائے ہوئے قوانین، وہی درجہ بندی، وہی افسر اور وہی محکوم۔ بیوروکریسی کا وہی فرسودہ ڈھانچہ، وہی لکھی پڑھائی ترقیاتی فائلیں وہی چائے پر فیصلے اور وہی ساز باز۔قانون سازی میں آج تک کوئی انقلابی تبدیلی نہیں آئی۔ بیوروکریسی کو جوابدہ بنانے کے بجائے مزید اختیارات دے دئیے گئے۔ مجھے یاد ہے آج سے دو دہائیاں قبل ہمارے سیاسی حکمران بیورو کریٹس کو جوابدہ بناتے تھے مگر اب ہمارے وزیر اعظم سمیت دیگر وزرا اور سیاستدان بیورو کریسی کے خوف میں مبتلا ہیں اور انکی تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھکتے۔ حکومتیں بدلتی رہیں افسر شاہی کا رویہ نہ بدلا۔ کیونکہ ہر آنے والی حکومت کو یہی ’’خوشامدی افسر‘‘درکار تھے جو فائلوں میں چھپ کر سیاسی فیصلوں کی چالاکیاں کر سکیں۔کیا یہ المیہ نہیں کہ 23، 22سالہ ایک نو عمر لڑکا جو صرف CSS پاس کرتا ہے، اسے آپ اسسٹنٹ کمشنر بنا کر بٹھا دیتے ہیں؟ جسے ابھی خود اپنی عملی زندگی کا کچھ علم نہیں وہ عوامی فیصلے کرے گا؟ کیا اسے معلوم ہے کہ کسان کیسے زندہ رہتا ہے؟ مزدور کیسے بچوں کو پال رہا ہے؟ تھانے میں درخواست دینے والا بزرگ کس اذیت سے گزرتا ہے؟ یا عدالت کے باہر کھڑی وہ بیوہ ماں کس امید سے افسر کی جانب دیکھتی ہے؟لیکن نہیں۔یہ افسر سب سے پہلے سیکھتا ہے پروٹوکول، پھر سیکھتا ہے دھونس، پھر سیکھتا ہے کیمرہ فیسنگ اور آخری درجے میں سیکھتا ہے فائل پڑھنا۔اور پھر آپ کہتے ہیں ملک کیوں نہیں چل رہا؟کسی زمانے میں’’ڈالا‘‘جرائم پیشہ افراد کی پہچان ہوتا تھا۔ بدنامِ زمانہ بدمعاش، اغواکار، یا بھتہ خور ’’ڈالا‘‘ گاڑیوں میں گھومتے تھے۔ آج وہی ڈالے اب ریاستی وردی میں گھوم رہے ہیں۔ سرکاری نمبر پلیٹ، پولیس پروٹوکول اور ہاتھ میں موبائل فون جس سے ہر حرکت کو انسٹا سٹوری بنایا جا رہا ہے۔اگر یہ تماشہ بند نہ ہوا تو ایک دن عوام ان ڈالوں کا گھیرا خود کرے گی۔ایسے میں ضرورت ہے کہ وزیرِ اعظم، وزرائے اعلی، چیف سیکرٹریز اور آئی جیز مل بیٹھ کر اس بیہودہ کلچر پر پابندی عائد کریں۔ ہر افسر کی سوشل میڈیا سرگرمی مانیٹر کی جائے، ذاتی ویڈیوز، فیشن کلپس اور پروٹوکول شو کیس کرنے والی حرکتوں پر فوری محکمانہ کارروائی کی جائے۔ جو افسر ڈالا شو کے ذریعے خود کو معتبر بنانا چاہتا ہے اس سے وردی واپس لے لی جائے۔ یاد رکھئے۔قومیں جب اپنے خادموں کو آقا بنا لیتی ہیں تو پھر غلامی نسلوں میں منتقل ہوتی ہے۔یہ نظام اگر ختم نہ ہوا تو بقول ایک بزرگ کے ،قارون، فرعون، نمرود اور یزید سب پاکستان کی بیوروکریسی میں شامل ہو چکے ہیں۔ہماری نئی نسل کو حلال کمائی، سادہ طرزِ زندگی اور اخلاقی شعور دینا ہوگا۔انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ طاقت کا اصل حسن عاجزی میں ہے۔دروازہ خود کھولنے والا افسر زیادہ محترم ہوتا ہے بنسبت اس کے جسے دروازہ کھولنے کے لیے محافظ کی ضرورت پڑتی ہے۔آج ہمیں صرف بیوروکریسی کی نہیں بلکہ مجموعی قومی رویوں کی سرجری درکار ہے۔ورنہ نہ کوئی سی سی ڈی بچائے گا نہ کوئی پروٹوکول، صرف انارکی بچے گی اور پھر سب کچھ ڈھیر ہو جائے گا۔جب قوموں کے خادم تخت نشین ہو جائیں اور ان کی آنکھوں میں عوام کے لیے رحم نہیں، حقارت ہو تو ایسے معاشرے تباہی کے دہانے پر کھڑے ہوتے ہیں۔ایک وقت تھا جب دروازہ کھولنے والا سرکاری افسرعوام کی نظر میں خادمِ ملت کہلاتا تھا۔آج دروازہ نہ کھولنے والا افسر اپنے سوشل میڈیا فالورز کی تعداد پر فخر کرتا ہے۔یہ نظام، یہ چہرے، یہ رویے،سب غلامی کی باقیات ہیں۔ اگر حکمران آج بھی خاموش رہے ،اگر قوم نے آج بھی افسر شاہی کے چمکتے ڈالوں کو تعظیم دینا نہ چھوڑا تو یاد رکھئے بغاوت ڈالوں میں نہیں دلوں میں جنم لے چکی ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ نئی نسل کو بتایا جائے کہ یہ قوم تماش بین نہیں اور افسر بادشاہ نہیں۔ورنہ بقول اقبالؒ:
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی!

یہ بھی پڑھیں